جوتا اچھالنے کی کارروائی

جوتا اچھالنے کی کارروائی
جوتا اچھالنے کی کارروائی

سابق وزیراعظم نواز شریف اتوار کے روز لاہور میں ایک سمینار میں شریک تھے۔ ان کے پہنچتے ہی کسی شخص نے ان کی طرف جوتا اچھالا۔ ایک رات قبل ایک صاحب نے وزیر خارجہ آصف خواجہ پر سیاہی پھینکی ۔

جوتا مارنے کی کارروائی اس وقت بین الاقوامی خبر بنی تھی جب ایک عراقی صحافی نے 2008ء میں امریکہ کے اس وقت کے صدر بش پر جوتا پھینکا تھا۔

صحافی منتظری نے عراق میں امریکہ کی کارروائیوں کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا تھا۔ انہوں نے پہلا جوتا پھینکا پھر دوسرا پھینکا اور کہا کہ یہ عراقی بیواؤں اور یتیم بچوں کی طرف سے ہے۔ ان کی اس کارروائی پر دنیا بھر میں امریکہ مخالف حلقوں میں پزیرائی ہوئی تھی۔

ایک سعودی باشندے نے تو جوتوں کے اس جوڑے کی قیمت ایک کروڑ ڈالر لگا دی تھی۔ ویسے پاکستان میں بھی یہ پہلی غیر اخلاقی اور شرمناک کارروائی نہیں ہے۔ حسین شہید سہروردی پاکستان کے وزیراعظم تھے۔حیدرآباد کے اس وقت کے آزاد میدان میں ان کا جلسہ تھا۔ وزیراعظم جب جلسہ گاہ میں پہنچے تو لوگوں نے انہیں ہار پھول پہنائے۔

وہ اسٹیج پر پہنچے تو ایک صاحب کھڑے ہوئے اور انہوں نے وزیراعظم کی طرف جوتا اچھالا ۔ سیئنر صحافی عزیز اللہ ملک اس وقت پولیس کی ملازمت میں تھے۔

وہ واقعہ کے چشم دید گواہ ہیں۔ بتاتے ہیں جیسے ہی پولیس حرکت میں آئی، وزیراعظم نے پولیس کو حکم دیا کہ وہ ایک طرف ہوجائیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جب لوگ انہیں ہار اور پھول پہنا سکتے ہیں تو کوئی جوتوں کا ہار بھی پہنا سکتا ہے۔ دوسرا واقعہ جو مجھے یاد آتا ہے، وہ اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ کراچی میں پیش آیا تھا۔

لسانی فسادات تھمے تھے۔ وزیراعظم نے لیاقت آباد میں موجود سپر مارکٹ کے سامنے سڑک پر جلسہ کیا۔ وزیراعظم تقریر کرنے مائک پر آئے تو کسی نے ان کی طرف جوتا پھینکا تھا۔

سوشل میڈیا پر سب ہی نواز شریف کی طرف جوتا اچھالنے کی کارروائی پر افسوس کا اظہار کر رہے ہیں اور کرنا بھی چاہئے۔ کوئی ان سے لاکھ اختلاف رائے رکھے، کوئی ان کی حمایت کرے یا نہ کرے، کوئی ان کی بات سنے یا نہ سنے، یہ حق کسی کو حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنے اختلاف یا غصہ کا اظہار اس غیر اخلاقی طرح سے کرے۔

ضروری نہیں کہ جو بات کوئی سوچ رہا ہے، سب ہی اس سے متفق ہوں اور اسی بات کا اظہار کریں۔ لیکن مقام افسوس یہ ہے کہ سیاسی قائدین ، مبلغین یا رہنماء جنہیں اصولا رول ماڈل ہونا چاہئے، جلسوں میں اپنی گفتگو میں جوش جذبات میں شائشتگی کی حدود اور قیود پھلانگ جاتے ہیں۔ بعض اوقات اتنے سخت الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں کہ افسوس ہوتا ہے۔

سیاست دان جب تحمل، برداشت اور اپنی بات سلیقے سے کہنے کا مظاہرہ نہیں کر یں گے تو عوام الناس سے یہ توقع کیوں رکھی جائے کہ وہ اپنے جذبات کا مظاہرہ غیر اخلاقی انداز میں نہیں کریں گے۔

میاں صاحبان ہوں یا آصف زرداری، بلاول ہوں یا مریم، عمران خان ہوں یا نہال ہاشمی سمیت دیگر بعض سیاسی رہنماء ان سے بہت ساری ایسی با تیں وابستہ ہیں جو توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہیں، ہم عصر سیاست دانوں کی توہین کے پہلو نمایاں ہوتے ہیں ۔ حالیہ مہینوں میں ہی دیکھ لیں، ٹی وی کی فلمیں ہوں یا اخبارات کی فائلیں، ان کے جائزے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ پاکستان میں سیاست اخلاقیات سے ماوراء ہو گئی ہے۔ یوں تو ماضی میں بھی سیاسی جماعتوں نے مختلف مواقع پر ایک دوسرے کے خلاف جو زبان استعمال کی یا گند اچھالا ، وہ کسی طور پر بھی قابل ستائش نہیں تھا۔

ان سب میں ایک بات نمایاں رہی ہے کہ آؤ دو دو ہاتھ کر لیں۔ جب سیاسی رہنماء جنہیں ٹی وی چینلوں پر نمایاں مقام اور زیادہ وقت ملتا ہو، وہ اداروں یا شخصیات کے خلاف اخلاق سے عاری گفتگو کریں گے تو عام لوگ وہی کچھ کریں گے جو ہوا ہے۔

ویسے بھی پاکستان میں سیاست کے جو انداز ہیں، وہ قابل تعریف نہیں ہیں۔ سیاست دانوں کے خلاف عام لوگوں میں عناد موجود ہے، انہیں اپنی بھڑاس نکالنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ کسی کو یاد ہے کہ سیاسی رہنماؤں نے کبھی کوئی ایس محفل برپا کی ہو جس میں اپنے کارکنان اور عام لوگوں کے سوالات سنے ہوں اور جواب بھی دئے ہوں۔

سیاسی رہنماء یک طرفہ ٹریفک چلاتے ہیں۔ ان کا ایک ہی مطمح نظر ہوتا ہے کہ بس ہماری بات سنو۔ سوشل میڈیا پر کسی نے خوب کہا ہے ’’ الفاظ ہی سب کچھ ہوتے ہیں ، سنبھال کر بولا کرو صاحب، یہ دل جیت بھی لیتے ہیں، یہ دل چیر بھی دیتے ہیں ‘‘ْ ۔

سیاسی جلسے ہوں یا احتجاج ، دھرنے ہوں یا مظاہرے، ان میں منتظمین دوسروں کے حقوق کا خیال ہی نہیں رکھ پاتے ہیں۔ مصروف شاہراہوں پر دھرنے دئے جاتے ہیں، سڑک کے بیچوں بیچ مظاہرے کئے جاتے ہیں، یہ خیال ہی نہیں کیا جاتا کہ عام لوگ کس بری طرح متاثر ہو رہے ہوں گے۔ اکثر اوقات تو مریض کوہسپتال لے جانے والی ایمبولنس کو بھی راستہ دینے میں مظاہریں اور منتظمین دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کرتے ہیں۔ اسلام آباد میں لگائے جانے والے دھرنوں کی کوئی لاکھ حمایت کرے لیکن یہ کیوں نظر انداز کیا جاتا ہے کہ مصروف سڑکوں یا چوراہوں پر دھرنوں کی وجہ سے لوگ کس بری طرح متاثر ہوئے ہوں گے۔

کسی میدان میں دھرنا دیا جائے، مظاہرہ کیا جائے۔ سب کی ایک ہی کوشش ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح اپنی بات زبردستی منوائی جائے۔ وزیر خارجہ خواجہ آ صف پر سیاہی پھینکنے والے شخص نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ انہوں نے ختم نبوت کے خلاف حکومت کے اقدام کی مذمت میں خواجہ آصف پر سیاہی پھینکی تھی۔

اس سے قبل وزیر داخلہ احسن اقبال کے ساتھ بھی ایسا ہی واقعہ پیش آچکا ہے۔ پاکستانی معاشرہ تحمل ، برداشت اور در گزر سے عاری ہوتا جارہا ہے۔

جوتے اچھالنے کی کارروائی ہو یا سیاہی پھینکنے کا عمل ہو، سخت الفاظ میں تقاریر کرنے کا عمل ہو، جلسوں میں ججوں، جنرلوں کے خلاف تنقید ہو یا صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنانا ہو، یہ سب کچھ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ سیاسی رہنماؤں میں برداشت کا مادہ ختم ہو گیا ہے۔

وہ اپنی بات مقررہ فورم پر منوانے میں ناکامی کے بعد دوسرے طریقوں سے دباؤ ڈال کر دوسروں کی برداشت کا امتحان لے رہے ہیں اور عوام الناس کو اکسا رہے ہیں کہ جن کے خلا ف وہ گفتگو کر رہے ہیں، ان کے خلاف کارروائی ڈالو۔ اسی طرح عام لوگ بھی اپنے جذبات کے اظہار کا اپنا آسان طریقہ طے کر لیتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...