زرداری ، عمران اتحاد جیت گیا ، حکومت اور اتحادیوں کو شکست : چیئر مین ،ڈپٹی چیئر مین سینیٹ

زرداری ، عمران اتحاد جیت گیا ، حکومت اور اتحادیوں کو شکست : چیئر مین ،ڈپٹی ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک ،این این آئی) اپوزیشن اتحاد کے امیدوار صادق سنجرانی 57 اور سلیم مانڈوی والا 54 ووٹ لیکر بالترتیب چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئر مین سینیٹ منتخب ہوگئے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین سینیٹ کیلئے امیدوار راجہ ظفر الحق 46 اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کیلئے امیدوار عثمان کاکڑ 44 ووٹ حاصل کر سکے ۔ نو منتخب چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی سے پریزائیڈنگ آفیسر سردار یعقوب خان ناصر اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا سے نو منتخب چیئرمین نے حلف لیا،کامیابی کے بعد اپوزیشن ارکان نے اپنے امیدواروں کو گلے لگایا اور مبارکبادیں دیں۔گیلری سب پہ بھاری آصف زرداری اور جئے بھٹو کے نعروں سے گونج اٹھی ۔ پرائیڈنگ آفیسر کے منع کرنے کے باو جو د کارکن نعرے لگاتے رہے ، جواب میں مسلم لیگ (ن) کے کارکن میاں تیرے جانثار بے شمار بے شمار کے نعرے لگاتے رہے۔ پیر کو صدر مملکت ممنون حسین کی جانب سے مقرر کر دہ پریزائیڈنگ آفیسر سردار یعقوب ناصر کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا جس میں خفیہ رائے شماری کے ذریعے ووٹنگ کا عمل تقریبا 4 بجے شروع ہوا ۔ سب سے پہلے حافظ عبدا لکر یم جبکہ آخر میں پریزائیڈنگ آفیسر سردار یعقوب ناصر نے ووٹ کاسٹ کیا ۔ بعد ازاں گنتی کا عمل شروع ہوا تو اس دوران بلوچستان سے تعلق رکھنے والے صادق سنجرانی کے حق میں گیلریوں میں نعرے بازی شروع ہوگئی اور ایوان میں موجود ارکان صادق سنجرانی کو مبارکبادیں دینے لگے، تاہم اس موقع پر پریزائیڈنگ آفیسر سردار یعقوب ناصر نے تمام ارکا ن سے کہا کہ وہ آرام سے بیٹھیں ، گنتی مکمل ہونے دیں جیتنے والے کا نام سب کے سامنے آ جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ سارا عمل انتہائی خوش اصلوبی کیساتھ ہواہے ۔پریزائیڈنگ آفیسر کی جانب سے روکنے کے باوجود گیلریوں سے نعرے بازی کا سلسلہ جاری رہا جبکہ گنتی کا عمل مکمل ہوا تو پریزائیڈنگ آفیسر سردار یعقوب ناصر نے جیتنے والے امیدوار کا اعلان کیا اور بتایا کہ سینیٹ کے 103 ووٹ کاسٹ ہوئے ہیں کوئی بھی مسترد نہیں ہوا ۔ انہوں نے بتایا کہ صادق سنجرانی 57 ووٹ لیکر چیئرمین سینیٹ منتخب ہوگئے ہیں جبکہ مسلم لیگ ( ن ) کے امیدوار سینیٹر راجہ ظفر الحق 46 ووٹ حاصل کرسکے ہیں۔اس موقع پر گیلریوں سے سب پر بھاری آصف زرداری ، آصف زرداری جبکہ مسلم لیگ (ن) کے گیلریوں میں موجود کارکنوں نے میاں تیرے جانثار بے شمار، بے شمار کے نعرے لگائے۔ پریزائیڈنگ آفیسر نے گیلری میں موجود دونوں جماعتوں کے کارکنوں کو نعرے لگانے سے منع کیا لیکن کارکنوں نے کئی منٹ تک نعرے بازی کا سلسلہ جاری رکھا ۔ بعد ازاں پریزائیڈنگ آفیسر کے اعلان کے ساتھ ہی اراکین سینیٹ نے صادق سنجرانی کو مبارکبا د دی ۔ اس موقع پر پریزائیڈنگ آفیسر صادق سنجرانی کو حلف اٹھانے کا کہا۔ گنتی کا عمل مکمل ہونے پر مسلم لیگ (ن) کے امیدوار راجہ محمد ظفر الحق نے بھی نو منتخب چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی سے مصافحہ کیا اور کامیابی پر مبارکباد دی۔بعد ازاں صادق سنجرانی نے حلف اٹھایا ان سے پریزائیڈنگ آفیسر سردار یعقوب خان ناصر نے حلف لیا جس کے بعد نو منتخب چیئر مین سینیٹ صادق سنجرانی نے گاؤن پہن کر صدارت سنبھال لی اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کیلئے دونوں امیدواروں عثمان کاکڑ اور سلیم مانڈوی والا کے کاغذات نامزدگی درست قرار دینے کا اعلان کیا اور ووٹنگ کا عمل شروع کرایا۔ بعد ازاں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کیلئے اپوزیشن اتحاد کے امیدوار سلیم مانڈوی والا 54 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ امیدوار عثمان کاکڑ نے 44ووٹ حاصل کئے جبکہ ایم کیوایم کے سینیٹرز نے کسی کو ووٹ نہیں دیا۔ بعد ازاں نو منتخب چیئرمین صادق سنجرانی نے ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا سے حلف لیا ۔ حلف لینے کے بعد چیئرمین سینیٹ نے ایوان کی کارروائی جاری رکھی۔ یاد رہے کہ سینیٹ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) سب سے زیادہ 33ووٹ لیکر سینیٹ کی بڑی سیاسی جماعت بن کر سامنے آئی اس کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے 20، پاکستان تحریک انصاف کے 12، آزاد امیدوار 17، ایم کیو ایم پاکستان کے 5، جے یو آئی ایف کے چار ، نیشنل پارٹی کے 5، مسلم لیگ فنکشنل کا ایک ، جماعت اسلامی کے دو ، اے این پی کا ایک اور بی این پی ایم کا ایک اور بی کے میپ کے 3 ارکان شامل تھے ۔بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹر کے چیئرمین کیلئے کامیاب ہونے والے امیدوار صادق سنجرانی کو پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان تحریک انصاف، ایم کیو ایم پاکستان ، فاٹا سمیت دیگر آزاد امیدوارں کی حمایت حاصل تھی۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کو اتحادی جماعتوں جے یو آئی (ایف )، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور جماعت اسلامی کی جانب سے حمایت کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس سے قبل ایوان بالا سینیٹ کے 52 نومنتخب ارکان نے حلف اٹھالیا جب کہ اسحاق ڈار بیرون ملک ہونے کے باعث حلف نہ اٹھا سکے‘ نہال ہاشمی کی خالی نشست پر نومنتخب سینیٹر اسد اشرف نے بھی باقی سینیٹرز کے ہمراہ حلف اٹھایا،اسحاق ڈار سمیت 52 سینیٹرز 6 سال کے لیے ملک کے ایوان بالا کے رکن بنے جب کہ نہال ہاشمی کی نشست پر ضمنی الیکشن میں منتخب ڈاکٹر اسد اشرف 3 سال کے لیے منتخب ہوئے ۔پیر کو سینٹ کا اجلاس سیکرٹری سینٹ امجد پرویز کی زیر صدارت شروع ہوا۔ تلاوت کلام پاک کے بعد سیکرٹری سینٹ امجد پرویز نے نئے منتخب ہونے والے سینیٹرز کو مبارکباد دی اور ایوان میں ان کو خوش آمدید کہا۔ سیکرٹری سینٹ نے نومنتخب سینیٹرز کو چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے لئے انتخاب کے طریقہ کار سے آگاہ کیا۔ اس کے بعد سیکرٹری سینٹ نے صدر مملکت ممنون حسین کی جانب سے نامزد پریذائیڈنگ آفیسر سردار یعقوب ناصر کو اجلاس کی صدارت سنبھالنے اور نئے سینیٹرز سے حلف لینے کی درخواست کی۔ پریذائیڈنگ آفیسر سردار یعقوب ناصر نے نومنتخب سینیٹرز کو مبارکباد دی اور ایوان میں خوش آمدید کہا۔ سردار یعقوب ناصر نے نومنتخب سینیٹرز کو حلف اور چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے انتخاب کے طریقہ کار کے حوالے سے ایوان کو آگاہ کیا جس کے بعد پریذائیڈنگ آفیسر سردار یعقوب ناصر نے نومنتخب سینیٹرز سے حلف لیا۔ اس موقع پر نومنتخب 53 سینیٹرز میں سے 52نے حلف اٹھایا تاہم مسلم لیگ (ن) کے نومنتخب سینیٹر اسحاق ڈاربیرون ملک ہونے کی وجہ سے حلف نہ اٹھا سکے۔ نہال ہاشمی کی خالی نشست پرضمنی الیکشن میں نومنتخب سینیٹر اسد اشرف نے بھی باقی سینیٹرز کے ہمراہ حلف اٹھایا ۔ حلف اٹھانے کے بعد 52سینیٹرز نے ایک ایک کرکے رول آف ممبر پر دستخط کئے۔ حلف اٹھانے والے سینیٹرز میں حافظ عبدالکریم ‘ عابدہ محمود‘ احمد خان‘ انور لال دین‘ ڈاکٹر اسد اشرف‘ انوار الحق کاکڑ‘ ڈاکٹر آصف کرمانی‘ دلاور خان‘ فیصل جاوید‘ فدا محمود‘ مولوی فیض محمد‘ ہارون اختر خان‘ ہدایت اﷲ ‘ ہلال الرحمن‘ امام الدین شوقین‘ کامران مائیکل‘ کوڈا بابر‘ کشور بائی (کرشنا کماری)‘ رانا محمود الحسن‘ رانا مقبول احمد‘ مہر تاج روغنی‘ مرزا محمودآفریدی‘ چوہدری محمد سرور‘ مولا بخش چانڈیو‘ محمد اکرم‘ سید محمد علی شاہ ‘ محمد اسد علی خان جونیجو‘ مہر ایوب‘ محمد اعظم خان سواتی‘ فروغ نسیم‘ سید محمد صابر شاہ‘ صادق سنجرانی‘ سردار محمد شفیق‘ محمد طاہر بزنجو‘ محمد طلحہ محمود‘ ڈاکٹر مصدق ملک‘ مشاہد حسین سید‘ مشتاق احمد‘ مصطفیٰ نواز کھوکھر‘ سید مظفر حسین شاہ‘ نصیب اﷲ‘ نزہت صادق‘ قراۃ العین مری‘ رضا ربانی‘ روبینہ خالد‘ رخسانہ زبیری‘ سعدیہ عباسی‘ نثار جمالی‘ شاہین خالد بٹ‘ شمیم آفریدی اور ڈاکٹر سکندر مینگرو شامل تھے۔ اسحاق ڈار سمیت 52 سینیٹرز 6 سال کے لیے ملک کے ایوان بالا کے رکن بن گئے ہیں جب کہ ڈاکٹر اسد اشرف 3 سال کے لیے منتخب ہوئے ہیں۔

چیر مین منتخب

اسلام آباد(آئی این پی)نومنتخب چیئرمین سینیٹ میر صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ ایوان بالا میں کسی کیساتھ زیادتی نہیں ہونے دوں گا، سب کو ساتھ لے کر چلوں گا، بلوچستان اور پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرونگا،ایوان کی کارروائی اچھے انداز میں چلاؤں گا کسی کو شکایت کا موقع نہیں ملے گا۔عمران خان ،آصف علی زرداری اور وزیر اعلیٰ بلوچستان کو اعتماد کرنے پر ان کا مشکور ہوں، بلوچستان کے عوام عمران خان کے تہہ دل سے مشکور ہیں،عمران خان وفاق کی علامت کے طور پر ابھرے ہیں۔پیر کو سینیٹ میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے بعد پارلیمنٹ سے روانگی کے وقت میڈیا سے گفتگو اور پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان سے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ میر صادق سنجرانی نے کہا کہ آصف زرداری اور عمران خان سمیت تمام دوستوں کا مشکور ہوں،ایوان بالا میں سب کو ساتھ لے کر چلوں گا،کسی کے ساتھ کسی قسم کی نا انصافی نہیں ہونے دونگا، بلوچستان اور پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرونگا،تمام دوستوں کو ساتھ لے کر چلوں گا،میرے لیے سب برابر ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی بلوچستان کا مشکور ہوں جنہوں نے میرا انتخاب کیا،ایوان میں سب سینئر سیاستدان ہیں سب کارروائی سمجھتے ہیں،ایوان کی کارروائی اچھے انداز میں چلائیں گے،کسی کو شکایت کا موقع نہیں ملے گا۔قبل ازیں نو منتخب چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کو ٹیلیفون کیا اور کہا کہ بلوچستان کے عوام عمران خان کے تہہ دل سے مشکور ہیں،عمران خان وفاق کی علامت کے طور پر ابھرے ہیں،بلوچستان کے عوام کو پارلیمان میں اہم مقام دلوانے پر عمران خان کا مشکورہوں،آپ نے مجھ سے جو توقعات وابستہ کیں ہیں ان پر انشاء اللہ پورا اتروں گا، اس موقع پر عمران خان نے کامیاب ہونے پر صادق سنجرانی کو مبارکباد دی اور کہا کہ صادق سنجرانی کا انتخاب آئین و جموریت کی فتح اور خاندانی سیاست کی شکست ہے۔نو منتخب ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سینیٹر سلیم ما نڈوی والا نے کہا ہے کہ چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں کوئی ہارس ٹریڈنگ نہیں ہوئی حکومت اور مخالفین کی غلط فہمی ہے جب مخالفین ہارتے ہیں تو ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ ان کی ہار کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے ۔ پیر کو ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب ہونے کے بعد سینیٹرز سلیم ماؤنڈوی والا نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب میں کوئی ہارس ٹریڈنگ نہیں ہوئی ساری غلط فہمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے مقابلے میں حکومت کا امیدوار ہی ایسا تھا جس کو شکست ہونا تھی اس لئے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کریا ۔ حکومت نے چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کی سیٹیں کھو دی ہیں اور سینٹ کا ایوان بھی حکومت کے ہاتھ سے نکل گیا ہے ، آئندہ انتخابات پر اس کے انتہائی گہرے اثرات مرتب ہونگے ۔میں نے سینیٹر اور ڈپٹی چیئرمین بننے کے لئے کوئی پیسہ نہیں لگایا ، جب ہمارے مخالفین ہارتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ اس کے پیچھے ہے۔

سنجرانی

مزید :

صفحہ اول -