میاں نوازشریف اور عمران خان پر جوتا پھینکنے کے مقدمات درج، جوتا اچھالنے والے نوجوان کاخاندان روپوش

میاں نوازشریف اور عمران خان پر جوتا پھینکنے کے مقدمات درج، جوتا اچھالنے ...

  

لاہور،فیصل آباد،بصیرپور(مانیٹرنگ ڈیسک ،نامہ نگار)سابق وزیراعظم نوازشریف اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان پر جوتا پھینکنے کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔جیونیوز کیمطابق نوازشریف پر جوتا پھینکنے والے ملزمان کے خلاف تھانہ قلعہ گوجر سنگھ میں اے ایس آئی اکبر کی مدعیت میں درج کیا گیا جس میں ملزمان منور ،عبدالغفور اور محمد ساجد نامزد کیا گیا ہے۔مقدمے میں 16 ایم پی او، 506 اور 355کی دفعات شامل کی گئی ہیں جب کہ اس کے متن میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے نوازشریف کی شہرت خراب کرنے کے لیے حملہ کیا، نوازشریف کو جوتا کندھے اور سینے پر لگا، تینوں ملزمان صحت مند ہیں جس کے بعد اْن سے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ مرکزی ملزم منور 4 سال پہلے جامعہ نعیمیہ سے فارغ التحصیل ہوا تھا جب کہ عبدالغفور اور ساجد اْس کے سہولت کار تھے۔بعد ازاں پولیس نے ملزمان کو عدالت میں پیش کیا جہاں سے ان کو عدالتی حکم پر 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔دوسری جانب فیصل آباد میں عمران خان پر حملے کی کوشش کرنے والے ملزم مرزا رمضان کے خلاف بھی مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق ملزم مرزا رمضان کے خلاف تھانہ سرگودھا روڑ میں مقدمہ درج کیا گیا اور ملزم سے تفتیش کی جارہی ہے۔جامعہ نعیمیہ لاہور میں سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف پر جوتااچھالنے والا نوجوان بصیرپورکے گاؤں چشتی قطب دین کا رہائشی نکلا،واقعہ کے بعدپوراخاندان روپوش ہوگیا۔محمدساجدنامی ملزم چاہ پیپل والا کے محنت کش محمدسرورنون کا بیٹاہے اور جامعہ نعیمیہ میں تین سال سے مقیم تھا۔مقامی پولیس اور بعض متعلقہ اداروں نے بھی تحقیقات کاآغازکردیاہے ۔دریں اثناء اہل دیہہ کے مطابق سروراوراسکی برادری مسلم لیگ ن کی حامی ہے۔انہوں نے بتایاکہ واقعہ کی اطلاع ملنے پرسرور نے مقامی سیاسی شخصیات سے رابطہ کیاتھا اور بیٹے کے اقدام کو غلط قراردیتے ہوئے معافی دلوانے کیلئے مددکی درخواست بھی کی ، بعدازاں گاؤں سے چلاگیا۔

خاندان روپوش

مزید :

صفحہ اول -