ایوان بالا سیٹ اپ کی تکمیل ، جنرل الیکشن سے متعلق خدشات دم توڑ گئے

ایوان بالا سیٹ اپ کی تکمیل ، جنرل الیکشن سے متعلق خدشات دم توڑ گئے

  

لاہور( چوہدری خادم حسین )اعصاب شکن کشمکش کے بعد سینٹ میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخابات میں پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے اتحاد کو حکومتی اتحاد کے مقابلے میں فتح حاصل ہو گئی۔ صادق سنجرانی جن کا تعلق بلوچستان آزاد اتحاد سے ہے اور سلیم مانڈیوالہ جو سندھ سے ہیں اور پیپلزپارٹی کے ا میدوار ہیں، بالترتیب 75اور54سینٹ ووٹ لے کر چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین منتخب ہو گئے ۔حکومتی اتحاد کے امیدواروں راجہ ظفر الحق اور عثمان کاکڑ کو 46 اور 44 ووٹ ملے۔ ایم کیو ایم کے پانچ ووٹرز نے سینٹ کے چیئرمین سنجرانی کو ووٹ دیا، تاہم ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب میں حصہ ہی نہیں لیا کہ پیپلزپارٹی کے امیدوار کو ووٹ نہ دینا پڑے جبکہ انہوں نے اپنے ووٹ حزب اختلاف کے اتحاد کیخلاف بھی استعمال نہیں کئے یوں وہ بیک وقت وفاقی حکومت اور پیپلز پارٹی کے مخالف ظاہر ہوئے۔اس انتخاب کے نتیجے میں ردعمل بھی معمول ہی کے مطابق ہے اور حکومتی رہنماؤں خصوصاً مریم اورنگزیب اور طلال چوہدری نے ہارس ٹریڈنگ اور امپائر کی حمایت کا الزام لگا دیا ہے اور با معنی انداز میں پس پردہ قوتوں کا بھی اشارہ کیا اور کہا جو پیچھے تھے وہ سامنے آ گئے ہیں۔ان حضرات نے اب یہ چیلنج کیا کہ جنرل انتخابات ہونیوالے ہیں اور ان میں عوام فیصلہ دیں گے جو اصولوں والے نواز شریف کے حق میں ہو گا ،دوسری طرف پیپلزپارٹی والے زرداری سب پر بھاری کا نعرہ لگا رہے ہیں ،تحریک انصاف والوں نے اسے اپنے وعدہ کی وفا کا نام دیا ہے اور یہ کہا ہے چیئرمین ان کی پسند سے ’’ آ ز ا د ‘‘ہوا۔پیپلزپارٹی کا ، بحرحال انتخاب مکمل ہوا بعض گھٹائیں بھی چھٹ گئیں اور عام انتخابات کے حوالے سے پھیلائے جانیوالے شکوک بھی مدہم پڑھ گئے ہیں ۔اس انتخاب کے حوالے سے بہت کچھ کہا جا رہا ہے۔ تاہم ایک پہلو سب سے اہم ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو سینٹ میں اسی مشکل کا سامنا ہو گا جو گزشتہ تین سالوں میں تھا کہ سینٹ سے کسی قانون کی منظوری مشکل تھی۔ چہ جائیکہ دو تہائی اکثریت کی بات کی جائے، طلال چوہدری اور دانیال عزیز جیسے وزراء اور رہنما ؤں کا تو یہ دعویٰ تھا کہ وہ اب دور تہائی سے زیادہ اکثریت لا کر عدل بڑا نظام قائم کریں گے اور تمام وہ ترامیم ختم کر دیں گے جو نا انصافی والی ہیں۔ مقصد یہ تھا کہ سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کی نا اہلی کو اہلیت میں بدلنے کے اقدام کئے جائیں گے جو اب یوں ممکن نہیں ہو گا کہ قومی اسمبلی بھی اکثریت کے باوجود سینٹ کی صورتحال سابقہ جیسی ہو گی جس کی عکاسی چیئرمین ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب سے ہو گئی ہے۔ ادھر پیپلزپارٹی کے اندر آصف علی زرداری نے اپناشملہ اونچا کر لیا ہے اور بات یوں ہے ’’میں نہ کہتا تھا‘‘ انہوں نے رضا ربانی کے مسئلہ پر کہا تھا جو میں جانتا ہوں آپ نہیں جانتے بہرحال اس حد تک تو سچ ہوا کہ بلا و ل سے 57ووٹ کہلوائے گئے اور 57ہی ملے۔ اب دیکھنا یہ ہے کیا صاف ستھرائی ، آصف علی زرداری کی ان توقعات پر پورا اتریں گے جو ان سے بقول ر ضا ربانی نے پوری نہیں کیں، صادق سجرانی متحدہ اپوزیشن کے امیدوار اور آزاد سینیٹر تھے تو ان کا تعلق ماضی میں آصف علی زرداری اور سید یوسف رضا گیلانی سے رہا، اب تو ان کو ایوان چلانے کیلئے آزاد اور بڑی حد تک غیر جانبدار رہنا ہو گا۔چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے موقع پر جو ردعمل مسلم لیگ ( ن ) کے کارکنوں کا سامنے آیا اور جس انداز سے پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف والوں نے خوشی کا اظہار کیا، اس سے خدشہ ہے آئندہ محاذ آرائی زیادہ ہو گی اور عام انتخابات میں حفاظتی انتظامات سخت کرنے کی ضرورت ہو گی اور اس سے بھی پہلے وفاق اور صوبوں میں حکومتوں کو بھی اپنے اس فرض کی بجا آوری کیلئے ابھی سے سوچنا ہو گا، اللہ ملک پر مہربان رہے۔آمین

خادم حسین

مزید :

صفحہ اول -