امریکہ نے طالبان کیساتھ براہ راست مذاکرا ت کی پیشکش مسترد کر دی

امریکہ نے طالبان کیساتھ براہ راست مذاکرا ت کی پیشکش مسترد کر دی

  

اسلام آباد ( آن لائن ) سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کے دورہ امریکہ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتر ی کی امید پیداہوگئی ، دونوں ممالک نے خطے میں امن وامان قائم کرنے اور دہشت گردوں کیخلاف ملکر کاروائیاں کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ دفترخارجہ کے اہم ذ ر ائع سے معلوم ہوا ہے پاکستان نے امریکی قیادت کی معاونت کرتے ہوئے افغان طالبان اور کابل کے درمیان باہمی مذاکرات کی راہ ہمو ا رکرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کی حامی بھر لی ہے ، ذرائع نے نام نہ ظاہر کرنے پر آن لائن کو بتایا دونوں جانب سے تعلقات میں بہتری کیلئے اپنا کردار ادا کرنے پر اتفاق کیاگیا ہے ، امریکہ نے پاکستان کے تحفظات کو حل کرنے اور بھارت کیساتھ لائن آف کنٹرول پر جاری کشیدگی کو کم اوردونوں ممالک کے درمیان مسائل کومذاکرات کے ذریعے حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کی حامی بھری ہے، سیکرٹری خا ر جہ نے دورہ امریکہ کے دوران اہم قیادت سے ملاقاتیں کی اور باہمی تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔ سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کے دورہ امریکہ کے دوران اس بات پر اتفا ق کیا گیاہے پاکستان اور امریکہ دہشتگردوں کیخلاف مشترکہ کاروائیاں کرکے خطے سے دہشت گر د ی کا مکمل صفایا کرینگے جس کیلئے پا کستان اور افغانستان میں دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پلان بھی تیار کرلیا گیاہے ، جس کے بعد امریکہ نے پاکستان مخالف کاروائیوں میں ملوث افغان طالبا ن کیخلاف کاروائیوں کرنے کی حامی بھر نے کے بعد تحریک طا لبا ن کی اعلی قیادت کے سر کی بھاری قیمتیں مقرر کردی ہیں، جبکہ پاکستان نے جوابا ملک میں موجود ایسے عناصر کیخلاف کاروائیوں کو فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان پیشکش

واشنگٹن(آئی این پی) امریکہ نے طالبان کیساتھ براہ راست مذاکرات کی پیشکش مسترد کر دی ۔امریکی میڈیاکے مطابق سینئر امریکی سفیر نے کہا ہے امریکہ شمالی کوریا کی طرح طالبان سے براہ راست مذاکرات نہیں کرسکتا کیونکہ ان دونوں حالات کا کوئی موازنہ نہیں۔امریکہ کی سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے جنوبی اور وسطی ایشیا ایلس ویلز نے واشنگٹن تھنک ٹینک کو اپنے حالیہ دورہ کابل کی تفصیلات بتاتے ہوئے زور دیا اگر طالبان مفاہتمی عمل میں شامل ہونا چاہتے ہیں تو وہ پہلے کابل حکومت سے مذاکرات کریں، طالبان کی جانب سے امریکی فوجیوں کے افغانستان سے انخلا کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے ایلس ویلز کا کہنا تھا ملک کو مستحکم کرنے تک امریکی فوجی وہاں رہیں گے۔شمالی کوریا کی جانب سے امریکہ سے براہ راست مذاکرات سے قبل جنوبی اور شمالی کوریا کی ایک دوسرے سے بات چیت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا شمالی و جنوبی کوریا اور افغانستان کے درمیان کوئی موازنہ نہیں لیکن ہم افغانستان میں بغاوت، باغیوں اور حکومت کے درمیان بنیادی حقوق کے حل کی جانب دیکھ رہے ہیں، تاہم اس معاملے کے حل میں دلچسپی رکھنے والے دیگر فریقین کا بھی شامل ہونا ضروری ہے اور ہم اس معا ملے میں تسلسل رکھتے ہیں۔امریکی حکام نے یہ بھی اشارہ دیا کہ واشنگٹن دوطرفہ مذاکرات کا عمل جاری رکھنے اور افغانستان میں امن کی بحا لی کیلئے پاکستان، افغانستان، امریکہ اور چین کو شامل کرنا چاہتا ہے۔ ہم مستحکم اور مضبوط افغانستان دیکھنا چاہتے ہیں، جہاں دہشتگردوں کی موجودگی کو روکا جاسکے۔ جفرافیائی اور سیاسی لحاظ سے چین ایک اہم کردار ہے اور چین کیساتھ افغانستان میں نہ صرف ہماری زیادہ دلچسپی ہے بلکہ ہمارے کافی بہتر رابطے ہیں اور ماضی میں ہماری کافی دو طرفہ ملا قا تیں بھی ہوئی تھی ، امید ہے یہی طریقہ کار کو مستقبل میں اپنایا جائے گا۔

امریکہ

مزید :

علاقائی -