فیروزوالہ: رچنا ٹاؤن میں 3اوباشوں کی مدرسہ کی طالبہ سے اجتماعی بداخلاقی

فیروزوالہ: رچنا ٹاؤن میں 3اوباشوں کی مدرسہ کی طالبہ سے اجتماعی بداخلاقی

  

لاہور (خبر نگار) فیروزوالہ کے نواحی گاؤں رچنا ٹاؤن میں درندہ صفت تین اوباش نوجوانوں نے محنت کش کی ایک جواں سالہ بیٹی کو اجتماعی بداخلاقی کا نشانہ بنایا اور بے ہوشی کی حالت میں گھر کے قریب سڑک کنارے پھینک کر فرار ہو گئے، ستم بالائے ستم یہ کہ پولیس بھی درندوں سے مل گئی اور اصل چہرے بے نقاب کرنے کی بجائے مرکزی ملزم کے بھائی اور مکان مالک کو اصل ملزمان ٹھہرا کر ان کا ڈی این اے ٹیسٹ کروا دیا، محنت کش محمد ریاض کے تھانہ جانے پر تفتیشی اور اہلکار الٹا مذاق کرنے لگے۔ تفصیلات کے مطابق رچنا ٹاؤن گلی نمبر 15 کے رہائشی محنت کش محمد ریاض کی جواں سالہ بیٹی (ش) گھر کے قریب مدرسہ میں دینی تعلیم حاصل کرتی ہے اور بارہ روز قبل مدرسہ میں محفل میلاد تھی کہ جواں سالہ (ش) گھر سے مدرسہ میں محفل میلاد کے لئے جانے لگی کہ راستے میں محلے کے تین اوباش نوجوانوں صابر علی، یوسف علی اور صدام بٹ نے زبردستی اغوا کر لیا اور منہ پر کپڑا دے کر ایک رکشہ میں سوار کرکے ایک دوست عمیر کے مکان پر لے گئے اور تینوں افراد نے جواں سالہ (ش) کو مبینہ طور پر اجتماعی بداخلاقی کا نشانہ بنایا۔ بداخلاقی کا نشانہ بننے والی جواں سالہ لڑکی (ش) کے والد محنت کش محمد ریاض والدہ منیراں بی بی نے جواں سالہ بیٹی (ش) کے ہمراہ ’’پاکستان‘‘ کو ظلم کی داستان سناتے ہوئے بتایا کہ درندہ صفت ملزمان ان کی بیٹی (ش) کو بے ہوشی کی حالت میں گھر کے قریب سڑک کنارے پھینک گئے اور راہ گیروں نے تاریکی میں بے ہوشی کی حالت میں پڑی ہوئی ان کی بیٹی کے بارے اطلاع دی جس پر پولیس کو اطلاع دی گئی۔ پولیس نے کوئی کارروائی نہ کی۔ محنت کش ریاض کے مطابق پولیس نے تین روز بعد مقدمہ تو درج کر لیا لیکن اصل ملزمان صابر، یوسف اور صدام بٹ کو گرفتار کرکے ہی ظلم کی کہانی سامنے لانے کی بجائے مرکزی ملزم صابر کے بھائی عامر اور مکان مالک کو حراست میں لے لیا اور اصل ملزمان کی جگہ حراست میں لئے جانے والے ملزم کے بھائی اور مالک مکان کا زبردستی ڈی این اے ٹیسٹ کروا دیا ہے۔ محنت کش ریاض نے ’’پاکستان‘‘ کی وساطت سے وزیراعلیٰ اور آئی جی سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ بار بار تفتیشی افسر کو اصل ملزمان کو گرفتار کرکے ان سے تفتیش کرنے کا کہہ رہا ہے لیکن پولیس والے الٹا اس کی بات کا مذاق اڑاتے ہیں اور کئی کئی گھنٹے تھانہ میں بیٹھنے کے بعد مایوس ہو کر واپس گھر آ جاتا ہوں۔ محنت کش ریاض کی بیوی منیراں بی بی نے بتایا کہ پولیس اصل ملزمان کو تحفظ دے رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نوٹس لے کر انہیں انصاف دلائیں جبکہ اس حوالے سے تفتیشی افسر حاجی ارشد نے بتایا کہ صابر، یوسف اور صدام بٹ وغیرہ مقدمہ میں نامزد نہ ہیں۔ مقدمہ میں عامر اور عمیر نامزد ہیں۔ ان کے ڈی این اے ٹیسٹ کروائے گئے ہیں تاہم جن ملزمان کا مقدمہ مدعی ذکر کر رہے ہیں ان کا بھی سراغ لگا کر گرفتار کیا جائے گا۔ تفتیشی افسر نے بتایا کہ واقعہ سنگین نوعیت کا ہے اور انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں گے۔

مزید :

علاقائی -