مشال خان قتل کیس میں ملزم عارف مردانوی نے صحت جرم سے انکار کر دیا

مشال خان قتل کیس میں ملزم عارف مردانوی نے صحت جرم سے انکار کر دیا

  

مردان(آن لائن) عبدالولی خان یونیورسٹی میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں قتل ہونے والے شعبہ ذرائع ابلاغ کے طالبِ علم مشال خان کے قتل کیس میں مرکزی ملزم عارف مردانوی نے انسدادِ دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) میں صحت جرم سے انکار کردیا۔مسلم آباد یونین کونسل کے تحصیل کونسلر ملزم عارف کو 11 ماہ کی روپوشی کے بعد پولیس نے مردان کے علاقے چمتار سے گرفتار کیا تھا۔پولیس نے گرفتار کونسلر کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیش کیا لیکن عدالت کے جج کی چھٹی ہونے پر ملزم کو سیشن کورٹ عدالت میں پیش کیا گیا جہاں انہیں تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا تھا۔12 مارچ کو دوبارہ انہیں انسدادِ دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں انہوں نے فاضل عدالت کے سامنے صحتِ جرم سے انکار کیا۔یاد رہے کہ مشال قتل کیس میں اب صرف دو ملزمان صابر مایار اور اسد علی کاٹلنگ کی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی۔عارف مردانوی کے حوالے سے ڈی آئی جی مردان ریجن عالم خان شینواری کا کہنا ہے کہ ملزم عارف مردانوی وقوعہ کے دوسرے روز راولپنڈی فرار ہوا جہاں سے وہ پہلے بلوچستان منتقل ہوا پھر بلوچستان سے ایران کے راستے ہوتا ہوا ترکی فرار ہوا تھیاد رہے کہ 23 سالہ مشال خان کو 13 اپریل 2017 کو خیبر پختونخوا (کے پی) میں عبدالولی خان یونیورسٹی میں توہین رسالت کے الزام پر ہجوم نے تشدد کانشانہ بنا کر قتل کر دیا تھا۔پشاور ہائی کورٹ نے مشال خان کے والد کی جانب سے درخواست پر مقدمے کو مردان سے اے ٹی سی ایبٹ آباد منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔اے ٹی سی نے مقدمے کی سماعت کا آغاز ستمبر میں کیا تھا جبکہ یونیورسٹی کے طلبا اور اسٹاف کے اراکین سمیت گرفتار 57 مشتبہ افراد پر فرد جرم عائد کی گئی تھی اور گرفتار ملزمان کی ضمانت کی درخواست بھی مسترد کی گئی تھی۔مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت کے سامنے 50 گواہوں کے بیانات قلم بند کیے گئے اور وکلا کی جانب سے ویڈیو ریکارڈ بھی پیش کیا گیا جس میں گرفتار ملزمان کو مشال خان پر تشدد کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا تھا۔

مزید :

صفحہ آخر -