زینب قتل کیس: اینکر شاہد مسعود کا جواب مسترد، سزا قانون کے مطابق دینگے: چیف جسٹس

زینب قتل کیس: اینکر شاہد مسعود کا جواب مسترد، سزا قانون کے مطابق دینگے: چیف ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے زینب قتل کیس کے مجرم عمران کے بینک اکاؤنٹس کا دعویٰ کرنیوالے اینکر پر سن کیخلاف کیس کی سماعت کے دوران شاہد مسعود کا جواب مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ معافی کا وقت گزر گیا، شاہد مسعود کو قانون کے مطابق سزا ہوگی۔واضح رہے ماہ جنوری میں پنجاب کے ضلع قصور میں زیادتی کے بعد قتل کی جانیوالی کمسن زینب کے کیس میں ٹی وی اینکر شاہد مسعود نے مجرم عمران کے بیرون ملک 37 بینک اکاؤنٹس ہونے کا دعویٰ کیا تھا جس پر سپریم کورٹ نے نوٹس لیا جبکہ وزیراعلیٰ پنجا ب نے بھی معاملے کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنائی تھی جس نے اپنی رپورٹ یکم مارچ کو سپریم کورٹ میں جمع کرائی تھی جس میں اینکر کے تمام 18 الزامات اور دعوے جھوٹ قرار دیئے گئے ،چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے آج اینکر پرسن کیخلاف کیس کی سماعت کی، مذکورہ کیس کی 7 مارچ کو ہونیوالی سماعت میں چیف جسٹس نے شاہد مسعود کو قانونی نتائج بھگتنے کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے تحریری اعتراضات جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔پیر کے روز سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے شاہد مسعود کے جواب کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا معافی کا وقت گزر گیا، یہ عدالتی توہین اور غلط بیانی بھی ہے ، شاہد مسعود کو قانون کے مطابق سزا ہوگی، دیکھنا ہے کیا دہشت گردی کی دفعات کا اطلاق ہوتا ہے؟ پیمرا کی کیا ذمہ داری بنتی ہے، ساتھ ہی چیف جسٹس نے استفسا ر کیا پیمرا بتائے کتنے دن کیلئے پروگرام بند ہوسکتا ہے؟اس موقع پر شاہد مسعود کے وکیل شاہ خاور نے کہا اگر یہ توہین عدالت کا مقدمہ ہے تو وہ غیرمشروط معافی مانگ لیتے ہیں،جبکہ شاہد مسعود نے بھی کہا انہوں نے پروگرام میں جو کہا، وہ اس پر ندامت کا اظہار کرتے ہیں ۔ اس موقع پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا شاہد مسعود کے الزامات کے سبب تحقیقات 48 گھنٹے تک رک گئیں،چیف جسٹس نے ریما ر کس دیئے معافی کا وقت گزر گیا ، اب بھی معافی نہیں مانگی گئی۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے تھا۔ جبکہ جسٹس عمرعطابندیال کا کہنا تھا معاملہ سزا جزا کا نہیں قانون کی تشریح کا ہے۔سماعت کے بعد عدالت عظمیٰ نے ایڈووکیٹ فیصل صدیقی کو عدالتی معاون مقرر کردیا گیا اور شاہد مسعود کے جواب کی کاپی اٹارنی جنرل اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت ایک ہفتے کیلئے ملتوی کردی۔

مزید :

صفحہ آخر -