زینب قتل کیس، ہائیکورٹ کا عمران علی کے وکیل کو تیاری کیلئے مہلت دینے سے انکار

زینب قتل کیس، ہائیکورٹ کا عمران علی کے وکیل کو تیاری کیلئے مہلت دینے سے انکار

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے زینب کے قاتل عمران علی کی سزائے موت کے خلاف اپیل میں مجرم کے وکیل کو تیاری کے لئے چند ہفتوں کی مہلت دینے سے انکار کر دیا۔ عدالت نے جیل سپرٹنڈنٹ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مجرم کاعدالتی ریکارڈ اور رپورٹ طلب کرلی ہے۔ جسٹس صداقت علی خان اور جسٹس شہرام سرور چودھری پر مشتمل دو رکنی بنچ نے اپیل کی سماعت کی ،عدالتی سماعت کے موقع پر زینب کے والد حاجی امین اپنے وکیل اشتیاق چودھری کے ہمراہ عدالت پیش ہوئے، پراسیکیوشن کی جانب سے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل پنجاب عبدالصمد عدالت میں پیش ہوئے، مجرم عمران کے وکیل اسد جمال نے استدعا کی کہ انہیں تیاری کے لئے چند ہفتوں کی مہلت چاہیے ،جس پرعدالت نے ریمارکس دیئے کہ آئندہ منگل تک تیاری کر کے آئیں ورنہ ملزم کوسرکاری وکیل فراہم کردیا جائے گا۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 20مارچ تک ملتوی کر دی،مجرم عمران نے تین صفحات پر مشتمل جیل اپیل میں موقف اختیار کیا ہے کہ دوران ٹرائل اس نے عدالت کا قیمتی وقت بچانے کے لئے عدالت کے سامنے اقرار جرم کیا، مجرم نے اپیل میں موقف اختیار کیا کہ ترقی یافتہ ممالک میں اقرار جرم کرنے والے مجرموں کے ساتھ عدالتیں نرم رویہ اختیار کرتی ہیں، مجرم نے اپیل میں کہا ہے کہ اقرار جرم کر لینے کے باوجود عدالت نے اس کے ساتھ نرم رویہ اختیار نہیں کیا اور اسے سزائے موت اور دیگر سزاؤں کا حکم سنا یا ہے ،انسداد دہشت گردی کی عدالت نے عمران کو 4 مرتبہ سزائے موت، عمر قید، 7سال قید اور 32 لاکھ روپے جرمانے کی سزائیں سنا رکھی ہیں۔

مزید :

صفحہ آخر -