چیئرمین سینیٹ و ڈپٹی چیئرمین کے انتخابات میں جمہوریت کی شکست ہوئی: فضل الرحمٰن

چیئرمین سینیٹ و ڈپٹی چیئرمین کے انتخابات میں جمہوریت کی شکست ہوئی: فضل ...

  

اسلام آباد (صباح نیوز)حکومتی اتحادی جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ چیرمین سینیٹ و ڈپٹی چیرمین کے انتخابات میں جمہوریت کی شکست ہوئی جے یو آئی کے اراکین نے مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کو ووٹ دیئے ہیں ہم نے اپنے اتحادی ہونے کا حق ادا کیا ہے ۔اپنے سینیٹرز کا ادھر ادھر ہونے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔زرداری صاحب کے بارے میں کہاجاتاہے ایک زرداری سب پے بھاری لیکن معاملہ ایسا ہوگیا جو زرداری پر بھاری وہ سب پر بھاری،آج جمہوریت کی تشریح جوآئی اس سے عوام کاانتخابات اورجمہوریت پراعتماد ختم ہوجائیگا۔نجی چینل کے پروگرام میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم ہمیشہ اپنے وعدے پر پورا اترے ہیں آج بھی انتہائی دباؤکے باوجود اتحادی کا ساتھ دینے کا حق نبھایا۔ان کا کہنا تھا کہ آج جو ہوا اسے جمہوریت کی شکست سمجھتاہوں ، ہم بھی حیرت میں ہیں کہ اتنا فرق کیسے آگیا؟ماضی میں ایوان بالا کا معیار قائم کیا گیا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دونوں پارٹیوں کے بلوچستان جاکر اتفاق کی حقیقت سب جانتے ہیں،دونوں قوتیں کھینچ تان کر اسٹیج پر لائی گئیں خود نہیں آئیں۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف پارلیمانی سیاست کاحصہ ہیں اور رہنا چاہتے ہیں،نوازشریف کودیوارسے کیسے لگاناہے،سر دست تو یہی اہداف ہیں۔مولانافضل الرحمان کہتے ہیں کہ رضاربانی کے نا م کی تجویزسیاسی پارلیمانی لحاظ سے باوقارتھی جسے مسترد کیا گیا۔انھوں نے واضح کیا کہ وعدہ خلافی جمعیت علمائے اسلام (ف) کی کبھی روایت نہیں رہی ساری دنیا معترف ہے کہ ہم اپنے وعدہ پر ہمیشہ پورے اترے ہیں ۔ ہم نے اپنے اتحادی ہونے کا حق ادا کیا ہے ہم خود بھی حیرت میں ہیں کہ چیئرمین سینٹ کے انتخاب میں اتنا فرق کیوں آیا ہے۔اپنے سینیٹرز کا ادھر ادھر ہونے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ میں اس کو جمہوریت کی شکست سمجھتا ہوں ماضی میں ایوان بالا کا جو معیار قائم کیا گیا تھا وہ معیار بالا شاید اس وقت متاثر ہوا ہے اب ان نئے منتخب لوگوں پر میسر ہے کہ وہ اس معیار کو قائم کر سکیں گے یا نہیں۔ساری دنیا دیکھ رہی ہے جس طرح عمران اور زرداری کو لاہور میں کھینچ تان کر ایک سٹیج پر لانے کی کوشش کی گئی تھی عوام کی طرف سے اسے قطعی طور پر پذیرائی نہیں مل سکی۔ بالکل آج بھی یہ دونوں قوتیں کھینچ تان پر ایک سٹیج پر لائی گئی ہیں۔ خود نہیں آئی۔ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف اپنی اپنی پارٹیوں کے براہ راست امیدوار لانے کی بجائے دور بلوچستان جا کر ایک آزاد شخصیت پر اتفاق کر لینا اس اکٹھ کو عام آدمی بھی سمجھتا ہے اور بین الاقوامی سیاسی اور دانشور بھی سمجھتے ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ یہ کوئی فطری اکٹھ نہیں ہے دونوں کو کھینچ تان کر ایک محاذ پر لایا گیا اور ایک ہدف حاصل کرنے کی کوشش کی گئی جس کے لیے دونوں بڑے اچھے طریقے سے استعمال کیے گئے اس وقت ایک محاذ آرائی کی کیفیت ہے اور کس طریقے سے میاں نواز شریف کو دیوار سے لگانا ہے کسی طرح ان کو عوامی اداروں سے دور رکھنا ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -