اسلحہ کی فروخت میں امریکہ پہلے، روس دوسرے، فرانس تیسرے، جرمنی چوتھے، چین کا پانچواں نمبر

اسلحہ کی فروخت میں امریکہ پہلے، روس دوسرے، فرانس تیسرے، جرمنی چوتھے، چین کا ...

  

سٹاک ہوم(آن لائن)متعدد ممالک کے سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے دنیا بھر میں اسلحے کی تجارت بڑھتی جا رہی ہے۔ ہتھیاروں کی برآمدات میں کمی کے باوجود جرمنی اس فہرست میں چوتھے نمبر پر ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اسلحہ کے کاروبار میں آج کل دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی ہو رہی ہے۔ امن پر تحقیق کرنے والے سویڈش ادارے سپری کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں کے دوران 2008 سے 2012 کے مقابلے میں دس فیصد زیادہ اسلحہ بارود درآمد و برآمد کیا گیا۔سپری کی اس تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس میں ہر تیسرا ہتھیار بھارت، سعودی عرب، مصر اور متحدہ عرب امارات نے خریدا۔ اور یہی وہ ریاستیں ہیں، جن کی اسلحے کی درآمدات دو گنا بڑھی ہیں۔ اسلحہ کی فروخت میں امریکا پہلے نمبر پر، روس دوسرے، فرانس تیسرے، جرمنی چوتھے اور چین پانچویں نمبر پر ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں میں عالمی منڈی میں فروخت کیے جانے والے اسلحے میں ان پانچوں ممالک کا حصہ 74 فیصد بنتا ہے۔عالمی سطح پر اسلحے کی فروخت میں امریکا کا حصہ 34 فیصد بنتا ہے۔ امریکا کل 98 ممالک کو اسلحہ و بارود برآمد کرتا ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران روس کی اسلحے کی برآمدات میں بھی کمی واقع ہوئی تاہم اس کے باوجود عالمی منڈی میں فروخت کیے جانے والے روسی اسلحے کا تناسب تقریبا 22 فیصد ہے۔جرمنی کی ہتھیاروں کی برآمدات میں اس عرصے کے دوران چودہ فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔سپری کے مطابق تاہم سیاسی سطح پر شدید بحث و مباحثے کے باوجود مشرق وسطی کے خطے میں جرمنی کی اسلحے کی تجارت میں ان پانچ برسوں میں دوران دو گنا کا اضافہ ہوا ہے۔سپری کے مطابق اس طرح ایشیا اور مشرق وسطی کے خطوں میں اسلحے کی ترسیل بڑھی ہے۔ اسلحے کی خرید یا درآمدات کی بات کی جائے تو بارہ فیصد کے ساتھ بھارت پہلے نمبر ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -