اک سی راجا ۔۔۔اک سی سنج۔۔۔ رانی

اک سی راجا ۔۔۔اک سی سنج۔۔۔ رانی
اک سی راجا ۔۔۔اک سی سنج۔۔۔ رانی

  

تبدیلی آ نہیں رہی، تبدیلی آگئی ہے۔ اب آپ بھی تمام صاحبان اپنے اپنے کاموں میں پہلے کی طرح لگن مگن ہو جائیں یعنی آپیا اور واپیا دونوں جان گئے ہیں عوام اب دانے بھونیں۔ جن کے گھر میں دانے نہیں وہ مزید گرمی کا انتظار کریں، ان کے جسم پر بجلی بند ہونے سے خود آجائیں گے۔ سینیٹ انتخابات میں کچھ نیا نہیں ہوا۔ لیگ کا راجا آتا یا عمران زرداری کا سنج۔ رانی عوام نے کوہلو میں جتے رہنا ہے۔ یہ راجا رانی کا قصہ یونہی چلتا رہے گا۔ مجھ سے یہ سوال نہ کریں کہ اس سے جمہوریت کتنی مضبوط ہوئی، جمہوریت ہوگی تو مضبوط ہو جائے گی۔

یہ ایلیٹ کلاس کی لڑائی ہے۔ جو وقت کا مہابلی ہوگا جیت جائے گا۔ کل تک طاقت کا پاس ورڈ میاں صاحب کے ہاتھ میں تھا، آج وہ زرداری کے ہاتھ میں ہے۔ راجا رانی میاں عمران زرداری کا گھوٹکی میں بھوک سے بلکنے والے چندو نائی کے بیٹے سے کوئی تعلق ہے نہ یہ تعلق گوجرانوالہ میں خودکشی کرنے والے مزدور کی پھپھی کا پتر۔ جو آج سینیٹ میں ہوا ہر سیمی ذی شعور کو علم تھا۔ اگر میاں صاحب کا چیئرمین بننا تھا تو پھر انہیں مجھے کیوں نکالا کہنے کا موقع ہی کیوں دیا جاتا۔ آج مہربان، قدردان اور طاقت کے تمام گلدان آصف علی زرداری کی مسکراہٹ میں مہکتے بلکہ قربان ہوتے نظر آئیں گے۔ بس سمجھ لیں میاں صاحب کا حال وہی ہوگا جو لاہور قلندر کا ہو رہا ہے۔ ٹپ دینے کے حوالے سے مشہور ایک صاحب ریسٹورنٹ جاتے اور سرو کرنے والے ویٹر کو بھاری ٹپ سے نوازتے۔ ایک دن انہوں نے دیکھا اس ویٹر کی جگہ کوئی اور ویٹر انہیں سرو کر رہا ہے۔ انہوں نے پوچھا وہ کل والا ویٹر کہاں ہے؟ نیا والا بولا۔

صاحب رات جوئے میں آپ کو میں نے اس سے جیت لیا۔ وہ جوا جو کل تک میاں صاحب جیتے تھے۔ رات کی تاریکی میں زرداری عمران سے ہار چکے۔ وہ ہارے کیسے اور زرداری جیتے کیسے۔ میاں صاحب خود جانتے ہیں، کیونکہ ہماری سیاست کا سٹارپلس ہمیں ہر ایپی سوڈ میں بتا رہا ہے کہ ساس بھی کبھی بہو تھی اور یہ پاکستان ہے۔ یہاں دلہن وہی ہوتی ہے جو پیا من بھاتی ہے۔ ستر سالہ پاکستانی سیاست میں ہم یہی دیکھتے آرہے ہیں اور ہم نے تو یہی سبق سیکھا کہ چپ کر ۔۔۔ دڑ وٹ جا،تے نہ چھیڑ ملنگاں نوں۔ مریم نواز بالکل ٹھیک کہتی ہیں کہ شطرنج کے مہرے سینیٹ چیئرمین کا الیکشن جیت گئے، کیوں نہ کہیں کبھی شیر بھی شطرنج میں ڈھائی کیا پونے تین قدم تک چلتا رہا ہے۔ وہ جو کہہ رہی ہیں بہت سوچ سمجھ کر کہہ رہی ہیں۔ ان کی انتھک محنت سے ان کے ابو جی آج سینیٹ میں آخری جنگ ہار چکے ہیں۔ بیگم بولیں بنتا جی آپ رات کو سوتے ہوئے مجھے گالیاں دے رہے تھے۔ بنتا سنگھ بولا کون کم بخت سو رہا تھا۔ جاگتے میں گالیاں دینے کا اپنا ہی مزہ ہے۔ بندے کو رضوی صاحب اور مریم بی بی جیسا ہی ہونا چاہئے۔

چلیں عمران خان کو مبارک ہو ان کی میاں صاحب سے لڑائی انہیں آصف علی زرداری کے قریب بلکہ عنقریب لے آئی۔ اس کامیابی پر انہیں جشن منانا چاہئے۔ آج پاکستان میں جمہوریت جیت گئی۔ انہوں نے مسٹر کلین آصف زرداری سے مل کر کرپشن کو شکست دے دی۔ انہیں چاہئے وہ زرداری صاحب کو سامنے بٹھا کر گانا گائیں، دل میں تجھے بٹھا کہ، کرلوں گی میں بند آنکھیں، پوجا کروں گی تیری۔ افسوس پاکستان میں اداکارہ میرا تک میچور ہوگئی، لیکن سیاست دان آج بھی منہ میں انکلز کی چوسنی ڈال کر دانت نکلنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ مجھے لگتا ہے اس دکھیاری مخلوق کی جان نکل جائے گی، ان کے دودھ کے دانت نہیں نکلیں گے۔

پاکستان آہستہ آہستہ سول خانہ جنگی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ہماری قوت مدافعت ختم ہوچکی، اس کی جگہ نفرت، بدلہ اور سامنے والے کو طاقت سے کچلنے کی خواہش ہم پر قبضہ کرچکی۔ جامعہ نعیمیہ میں جو ہوا وہ خوفناک نہیں، خطرناک ہے۔ میں ایک ایسے جنگل کا منظر دیکھ رہا ہوں، جہاں چھوٹے جانور تو کیا شیر بھی دم دبائے چھپتا نظر آئے گا۔ لیکن ایسا تو ہونا ہی تھا، جس معاشرے کا ہیرو شیر ہوگا وہاں حیوانیت ہی راج کرے گی۔ جنگل میں شیر نے باندر کو ایڈمنسٹریٹریشن دے دی۔ باندر کی خرگوش سے لگتی پھگتی تھی۔ وہ خرگوش کو روز بلاتا اور پوچھتا تم نے ٹوپی کیوں نہیں پہنی۔ خرگوش کہتا میرے کان لمبے ہیں، اس لئے نہیں پہن سکتا۔ باندر روز خرگوش کے کن تھلے ایک چھڈ دیتا۔ ایک دن خرگوش اپنے ساتھ کچھ نیم خوابیدہ خرگوش لے کر شیر کے پاس چلا گیا۔ شیر نے باندر کو چپیڑ مارنے کا نیا طریقہ بتا دیا، کہ تم خرگوش سے سموسے منگاؤ، میٹھی چٹنی نہ لائے تو چپیڑ، کیچ اپ نہ لائے تو پھر کن تھلے۔ دونوں لے آئے تو کھٹی چٹنی نہ لانے پر پھر ایک چپیڑ لگا دینا۔ باندر نے اگلے دن خرگوش سے سموسے منگوائے۔ جب وہ لے آیا، باندر نے پوچھا میٹھی چٹنی لائے، اس نے کہا ہاں جی۔

باندر نے کہا اور کھٹی۔ بولا وہ بھی۔ اب باندر نے پوچھا اور کیچ اپ کس نے لانی تھی، خرگوش بولا وہ بھی لایا ہوں۔ باندر نے ایک لمحے سوچا اور کن تھلے فیر چنڈ کرادی اور کہا تو نے ٹوپی کیوں نہیں پہنی۔

بھائی میرے ہم ایک جنگل میں رہ رہے ہیں۔ میاں صاحب ہم میٹھی چٹنی لائیں، کھٹی لائیں یا کیچ اپ۔ ہمارے کن تھلے وجنی ای وجنی اے۔ لیکن جنگلوں میں کبھی کبھی ہم جیسے چھوٹے چھوٹے معصوم جانور شیروں، بھیڑیوں اور لومڑیوں کو آپس میں بھنبھوڑتے، کاٹتے اور مارتے بھی دیکھتے ہیں۔ یہی جنگل کا قانون ہے۔ جو طاقتور راج کرتا ہے یا اپنے چاہنے والوں کو راج کراتا ہے، لیکن میری پھر بھی جنگل کی قیادت سے درخواست ہے، آپ کے بچے باہر محفوظ ہیں، ہمارے بچوں نے اس دھرتی پر رہنا ہے۔ خدارا اس زمین کو اتنا آلودہ نہ کرو کہ مخلوق کا دم گھٹ جائے۔ آج جو ہو رہا ہے، اس کا بیج تم نے بویا تھا۔ اگر آپ کا جن آج آپ کو کھا رہا ہے تو دھمکیاں، تڑیاں اور بونگیاں مارنے کے بجائے اب بھی وقت ہے سنبھل جاؤ، ورنہ بات دستار سے گریبان تک آجائے گی۔ کہے دیتا ہوں سنبھل کر آگے پرپیچ راستے ہیں۔ بچ موڑ توں!

مزید : رائے /کالم