بلوچستان کی سدا بہار محرومیاں

بلوچستان کی سدا بہار محرومیاں
بلوچستان کی سدا بہار محرومیاں

اگر کسی کو نئے پاکستان کی تلاش تھی تو وہ اسے پاکستان کے سینیٹ میں تلاش کر سکتا ہے، یہ پاکستان کا ایوان بالا ہے جسے ریاستی ڈھانچے میں اس وجہ سے رکھا گیا تھا تاکہ وفاق مساوات کی بنیاد پر قائم رہے اور کسی ایک صوبے ( یعنی پنجاب ) کو اپنی آبادی کی بنیاد پر فیصلے تمام اکائیوں پر ٹھونسنے کا موقع نہ ملے۔ اس ایوان نے اپنے قیام کے مقصد کے عین مطابق، پنجاب کے خلاف، بلوچستان کے حق میں فیصلہ دیا ہے کہ وہاں کے ایک نامعلوم سینیٹر کو اپنا چئیرمین منتخب کر لیا ہے۔ قوم کو مبارک ہو کہ چاروں صوبوں سے منتخب ہونے والے ارکان کی اکثریت واقعی بلوچستان کی محرومیوں کے ازالے کی خاطر ہراصول، ہر ضابطے اور اخلاقیات کو بوٹ کی نوک پر رکھتی ہے ورنہ اس سے پہلے آمریتوں میں بلوچستان کے حقوق کا واویلا مچایا جاتا رہا ہے جیسے میر ظفر اللہ خان جمالی جیسی بھاری بھر کم شخصیت کو بلوچستان کی محرومی کے خاتمے کے نام پر قومی اسمبلی پر ٹھونس دیا گیا تھا۔ میر صاحب کی حکومت قائم کرنے کے لئے مسلم لیگ قائداعظم کے ساتھ ساتھ پیپلزپارٹی پٹریاٹ بھی قائم کی گئی تھی اور محض ایک ووٹ کی اکثریت سے جمالی کو وزیراعظم بنایا گیا تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس نیک قومی مقصد کے لئے چودھری پرویز الٰہی اور چودھری شجاعت حسین کو اپنی تمام تر قربانیوں اور خدمات کے باوجود وزارت عظمیٰ کے عہدے کے مطالبے سے دستبردار ہونا پڑا تھا۔ چودھری شجاعت حسین کو اس وقت وزارت عظمیٰ کا جھو نٹاملا تھا جب میر صاحب کو اچھے خاصے بے عزت انداز میں ایوان وزیراعظم سے نکالا گیا تھا اوراس کے بعد شوکت عزیز جیسے ٹیکنوکریٹ کو مسلط کیا گیا تھا، شائد اس وقت تک بلوچستان کو اس کے کافی سارے حقوق مل چکے تھے اور کچھ کمی بیشی رہ گئی تھی تو اکبر بگٹی صاحب والا حق بھی جلد ہی ادا کر دیا گیا تھا۔

آج کے اخبارات پھر بلوچستان کے حقوق کے نام پرصادق سنجرانی نام کے شخص کو سینیٹ پر مسلط کئے جانے کی خبروں سے بھرے پڑے ہیں۔ بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس کے پاس وسیع رقبہ ہے مگر آبادی بہت کم ہے یوں آبادی اور وسائل میں ہمیشہ تفاوت رہا ہے۔میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے، منتظر ہوں کہ بلوچستان کو اس کے حقوق مل جائیں تاکہ پاکستانیوں کے حقوق کی بات بھی کی جا سکے مگر بلوچستان کی محرومی کا خاتمہ اور کشمیر کی آزادی کے خواب نجانے کب پورے ہوں گے۔ مجھے فخر ہے کہ بلوچستان کے حقوق کا معاملہ اتنا زیادہ اہم رہاکہ اس کے لئے وہاں کے ارکان اسمبلی نے کئی برسوں سے قائم حکومت ختم کر دی، ایک حلقے سے ساڑھے پانچ سو کے لگ بھگ ووٹ لینے والے نوجوان کو اپنا وزیراعلیٰ بنا لیا اور اسی کی بنیا د پر سینیٹروں کا چناو ہو اس کے نتیجے میں بلوچستان کی محرومیوں کا اس وقت کچھ ازالہ ہوا جب وہاں کے ارکان اسمبلی نے ایک ایک ووٹ کروڑوں میں بیچا کیونکہ وہ کسی پارٹی کے ڈسپلن کے پابند نہیں بلکہ بلوچستان کے غموں میں نڈھال تھے۔ اس سے پہلے بھی وہاں کے سردار اسی محرومی کے خاتمے کے نام پر وفاق سے رائلٹی کی صورت میں کروڑوں اور اربوں وصول کرتے رہے ہیں مگر چند کروڑ عوام کے لئے سکول اور ہسپتال نہیں بنوا سکے، بہرحال، بلوچستان کی محرومی اتنی شدت سے ابھر کے سامنے آتی ہے کہ سینیٹ میں بلوچستان کی محبت میں پاگل سینیٹروں کا ایک گروپ بن گیا، میں انہیں دیکھتا ہوں تو رشک کرتا ہوں کہ کاش ایسے ہی کچھ سینیٹر ہوتے جو صرف پاکستان سے محبت کرتے۔

بات بلوچستان تک ہی کیوں محدود رکھی جائے، عمران نیازی صاحب کا تعلق پنجاب کے علاقے میانوالی سے ہے مگر ان کی حکومت میانوالی سے جڑے ہوئے صوبے خیبرپختونخوا میں ہے۔ وہ بلوچستان کے لئے اتنے دل گرفتہ ہوئے کہ انہوں نے آصف علی زرداری، جسے وہ ہمیشہ سے سب سے بڑی بیماری کہتے چلے آئے ہیں، کو اپنے تمام تیرہ سینیٹر نومنتخب وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کے ذریعے پارسل کر دئیے اور اس طرح وہ جس صادق اور امین کی تلاش میں تھے الحمد للہ اس کے صادق کو پا لیا،امید ہے کہ دینے والا انہیں امین کہیں اور سے دے دے گا۔ دوسری طرف آصف علی زرداری تھے جن کا بنیادی تعلق سندھ سے ہے اور ان کی بلوچستان سے محبت ہے یا بلوچستان کو ان سے محبت ہے کہ مسلم لیگ نون کے غدار بلوچ ارکان ان کی طرف ایسے کھنچے چلے آئے جیسے لوہے کو مقناطیس کھینچ لیتا ہے۔ یہ معجزہ بھی بلوچستان کی محبت میں ہوا کہ آصف علی زرداری اور عمران خان دونوں ہی صادق سنجرانی کی صورت یک جان دو قالب ہوگئے۔ بلوچستان کی محرومی کا رونا یہیں ختم نہیں ہوتا بلکہ پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کی یکساں دشمن سمجھی جانے والی ایم کیو ایم بھی اس بہت ہی نیک مقصد کے حصول میں ان کے ساتھ شامل ہوگئی اور سونے پر سہاگہ ، دونوں ایوانوں میں ایک تحفہ سمجھے جانے والے‘ نظریات کے حوالے سے ہمیشہ طاقت کے مراکز پر سجدے کرنے والے فاٹا کے سینیٹروں کا گروپ بھی بلوچستان کی سنجرانی صاحب کے ذریعے محرومیاں مٹانے کے لئے اس بھان متی کے کنبے میں شامل ہو گیا۔ میں فاٹا کے ارکان کے فیصلے کواس لئے بھی درست سمجھتا ہوں کہ وہ خود طویل عرصے سے فاٹا کی محرومیوں کا پھل کھا رہے ہیں اور ان سے بہتر کون ہے جو بلوچستان کی محرومیوں کوسمجھ سکتا ہے۔

میں بلوچستان سے جنونیوں کی طرح محبت کرنے والوں کو سلام پیش کرتا ہوں اور اگر آپ کا یہ خیال ہے کہ بلوچستان کی محرومی کو حکمران اتحاد کے ارکان نہیں سمجھتے تو جان لیجئے کہ ان میں بھی سمجھنے اور سمجھانے والے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ جب چیئرمین کا انتخاب ہوتا ہے تو حکمران اتحاد کے سات کے قریب ووٹ بھی بلوچستان کی محبت میں بہہ جاتے ہیں جس سے مجھے انداز وہوتا ہے کہ یہ صرف پنجاب کے کچھ سینیٹرز ہیں جو بلوچستان کے دکھ، درد اور مسائل کو نہیں سمجھتے۔ جو یہ نہیں سمجھتے کہ ایک نامعلوم سیاسی پس منظر اور اگر معلوم بھی ہے تو مشکوک سیاسی پس منظر کاحامل شخص راجا ظفر الحق سے جیت جاتا ہے۔ مجھے میاں نواز شریف سے بھی کہنا ہے کہ اگر آپ راجا ظفر الحق کی بجائے کسی ایسے شخص کو الیکشن میں کھڑا کر دیتے جو اس نظرئیے کا حامل ہوتا جسے آپ اپنا نظریہ کہتے ہیں تو تب بھی نتیجہ یہی ہونا تھا کہ آپ کے امیدوار نے ہار جانا تھا۔ چئیرمین سینیٹ کے الیکشن کے نتیجے کی صورت آپ کی طرف سے مفاہمت کی وہ پیش کش بھی ٹھکر ادی گئی ہے جو اس سے پہلے آپ وزیراعظم کے عہدے پر جناب شاہد خاقان عباسی اور پارٹی صدر کے عہدے پر جناب شہباز شریف کی صورت کر چکے ہیں۔

بلوچستان کی محرومی اب ایک ضرب المثل بنتی چلی جار ہی ہے جس نے ہمیشہ آئین، جمہوریت اور عوامی حاکمیت جیسے بوسیدہ اور پرانے تصورات کو لمبا لٹانے میں اہم کردارادا کیا ہے۔ اگر اپوزیشن اتحاد کے سینیٹروں کی طرح میری بھی کوئی دکان ہوتی تو میں وہاں سے ’ کشمیر کی آزادی تک اُدھار بند رہے گا‘ کی تختی اتار کے’ بلوچستان کی محرومی کے خاتمے تک ادھار بند رہے گا‘ کی تختی لگا دیتا کیونکہ میرا خیال ہے کہ کشمیربھارت کے شکنجے سے کبھی نہ کبھی ضرور آزاد ہوسکتا ہے مگر میرایہ یقین پختہ ہو گیا ہے کہ بلوچستان کی محرومی ہمیشہ برقرار رہے گی تاکہ سند رہے اور حسب ضرورت کام آتی رہے۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...