سینٹ الیکشن ، پیپلز پارٹی کے نظر یات کی اینٹ سے اینٹ بجا کر زرداری جیت گئے

سینٹ الیکشن ، پیپلز پارٹی کے نظر یات کی اینٹ سے اینٹ بجا کر زرداری جیت گئے
سینٹ الیکشن ، پیپلز پارٹی کے نظر یات کی اینٹ سے اینٹ بجا کر زرداری جیت گئے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تجزیہ سہیل چوہدری

چیئرمین سینیٹ کیلئے ووٹ کاؤنٹنگ 10منٹ میں مکمل ہوئی لیکن یہ 10منٹ 10صدیوں پر محیط تھے ، کئی روز سے جاری سانپ و سیڑھی کے کھیل کا بالآخر ڈراپ سین ہوگیا ، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی کامیابی کا اعلان ہوتے ہی گیلریوں سے بعض پی پی پی کے کارکنوں نے بلند آواز ایک زرداری سب پر بھاری اوراگلی باری پھر زرداری کے پرجوش نعرے لگائے ، لیکن یہ معلوم کرنا خاصہ مشکل کام ہے کہ درحقیقت کون بھاری ہے ،سابق صدر آصف علی زرداری، کپتان عمران خان یا پھر کوئی تیسری طاقت ! کیونکہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی پی پی پی اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار ضرور ہیں لیکن ان کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں بلکہ وہ آزاد امیدوار تھے ، گزشتہ روز صبح ہی سے پارلیمنٹ کی غلام گردشوں میں چہل پہل زوروں پر تھی ، نو منتخب اراکین سینیٹ نے ایک سادہ پروقارتقریب میں حلف اٹھایا، 103رکنی ایوان میں پاکستان پیپلزپارٹی کی نو منتخب رکن سینیٹر کرشنا کماری کوہلی تھر کے روایتی دیدہ زیب لباس میں ملبوس سب سے منفرد نظر آرہی تھی ، انہوں نے دونوں جانب کلائیوں میں تھر میں پہنے جانے والی مخصوص روایتی چوڑیاں پہن رکھی تھیں ، دلچسپ امر یہ ہے کہ حلف اٹھانے کے بعد بھی اراکین سینیٹرز کو ہمنوا بنانے کیلئے آخری وقت تک مہم جاری رہی ، بالخصوص جمعیت علماء اسلام مولانا فضل الرحمن کو رام کرنے کیلئے دونوں اتحادوں کی جانب سے کوششیں ہوتی رہیں ، بظاہر تو جے یو آئی نے پاکستان مسلم لیگ ن کی حمایت کی ، بلوچستان سے پاکستان مسلم لیگ ن کی ایک خاتون کے بارے میں قیاس آرائیاں تھیں کہ انہوں نے اپنی جماعت کو ووٹ نہیں دیا ، پاکستان مسلم لیگ نے چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کی بساط پر مات کھائی ، بعض حلقے اس کی ایک وجہ پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے اپنے امیدواروں کی نامزدگی میں غیر ضروری التواء اور پھر امیدواروں کے انتخاب کو بھی قرار دے رہے تھے، کیونکہ بہت سے تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ اگر پاکستان مسلم لیگ ن حاصل بزنجو کو چیئرمین کے عہدہ پر نامزد کرتی تو ان کی کامیابی کے امکانات بڑھ سکتے تھے کہا جارہا ہے کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کی نااہلی کے بعد مسلم لیگ ن کے سیاسی گراف میں مسلسل اضافہ ہورہا تھا اوراس میں کوئی بڑا ڈینٹ ڈالنے میں کامیابی نہیں ہوئی تھی تاہم سینٹ الیکشن میں ناکامی سے مسلم لیگ ن کو ایک بڑادھچکا لگاہے ، تاہم بعض اطلاعات کے مطابق چیئرمین کے الیکشن سے ایک روز قبل وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے سینیٹرز کا پارلیمانی اجلاس بلایا تو اس میں کل 43سینیٹرز نے شرکت کی تھی ، یعنی الیکشن سے ایک روز قبل ہی پاکستان مسلم لیگ ن کے اتحاد میں’’ نقب زنی ‘‘کے اشارے مل گئے تھے ، بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق دارالحکومت کے جڑواں شہر میں ایک بریفنگ اور ریڈ لائنز کے تعین کے بعد صورتحال میں قدرے ڈرامائی تبدیلی آئی ، سو یہ سوال اپنی جگہ ہنوز موجود ہے کہ آصف علی زرداری یا عمران خان یا پھر کوئی تیسری قوت ن لیگ کیلئے بھاری ثابت ہوئی ہے ! تاہم دارالحکومت کے بیشتر سیاسی حلقے اس بات پر متفق ہیں کہ سینیٹ چیئرمین تو زرداری کے دعویٰ کے برعکس کوئی جیالا نہ بن سکا جبکہ پی پی پی اور پی ٹی آئی دونوں سیاسی جماعتوں کا سینیٹ الیکشن میں غیر فطری اتحاد آئندہ الیکشن میں ان کے اپنے لئے بھاری ثابت ہوگا، پاکستان پیپلزپارٹی کے ذرائع کے مطابق نہ صرف الیکشن سے ایک روز قبل پارٹی کے سنجیدہ رہنماؤں کا رضا ربانی کے نام پر اتفاق تھا بلکہ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو کی رضا ربانی سے ملاقات کے بعد سابق صدر زرداری بھی انہیں نامزد کرنے پر آمادہ ہوگئے تھے ، الیکشن سے ایک روز قبل شام 6بجے تک سابق صدر زرداری کی جانب سے رضا ربانی کو نامزد کرنے کے حوالے سے مثبت اشارے مل رہے تھے ، لیکن یکایک شام 6بجے زرداری ہاؤس میں ایک کاروباری شخصیت کی گاڑیوں کا قافلہ داخل ہوا جس کے بعد صورتحال تبدیل ہونا شروع ہوگئی ، سنا ہے کہ یہ وہی شخصیت تھی جس کی چیئرمین نیب کی تعیناتی میں بھی اہم کردار ادا کرنے کے حوالے سے اطلاعات سامنے آئی تھیں ، اس کے بعد چیئرمین وڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخابات کیلئے پی پی پی نے اپنی پرانی حکمت عملی اپنائی جس کیلئے بہت دیر سے ہوم ورک جاری تھا، پولنگ کا عمل انتہائی پر سکون اور خوشگوار ماحول میں ہوا، تمام اراکین سینیٹرز پارٹی وابستگی سے بالا تر ہوکر ایوان میں خوش گپیاں لگارہے تھے ، پولنگ کے دوران مہمانوں کی گیلریاں کھچا کھچ بھری ہوئی تھیں، جس میں بڑی سیاسی جماعتوں کے پر جوش کارکنان بھی موجود تھے ، پریس گیلری میں بھی پارٹی کارکن بڑی تعداد میں موجود تھے اس موقع پر بعض دلچسپ واقعات بھی دیکھنے میں آئے ، سینیٹر رحمان ملک ووٹ کی پرچی لے کر پولنگ بوتھ کی طرف جانے کے بجائے غلطی سے ایوان سے باہر چلے گئے جس پر ایوان میں شور مچ گیا ، ایوان اور گیلریوں سے بھی قہقہوں کی آوازیں گونجنے لگیں تو رحمان ملک مسکرا کرخفت مٹاتے ہوئے ایوان میں واپس آکر بوتھ میں چلے گئے، اس موقع پر سینیٹر پرویز رشید کھڑے ہوگئے اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ رحمان ملک ہال سے باہر بیلٹ پیپر لے گئے تھے اس لئے انکا ووٹ کینسل کیا جائے تاہم وہ بعد ازاں شیری رحمن کی استدعا پر بیٹھ گئے اس طرح جب شیری رحمن کی ووٹ ڈالنے کی باری آئی تو وہ بیلٹ پیپر لئے بغیر پولنگ بوتھ میں چلی گئیں جس پر ایوان اور گیلریاں ایک بار پھر کشف زعفران بن گئیں ، سینیٹر کلثوم پروین ووٹ ڈالنے کیلئے گئیں جاتے ہوئے وہ سینیٹر رضا ربانی کے پاس رک کر ان کے گھٹنوں کو احتراماً ہلکا سا چھوکر گزریں ، جب رضا ربانی ووٹ ڈالنے کیلئے اٹھے تو ایوان میں تمام سینیٹرزنے انکا ڈیسک بجاکر زبردست استقبال کیا،مہمانوں کی گیلریوں میں امیر مقام خاصے پر جوش نظر آرہے تھے ان کے ہمراہ حال ہی میں پاکستان مسلم لیگ ن کے ریٹائر ہونے والے سابق سینیٹر نثار محمد بیٹھے ہوئے تھے دلچسپ امر یہ ہے کہ سابق سینیٹر نثار محمدکے بھائی کے پی کے سے پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر منتخب ہوئے ہیں ، ایوان میں وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ ، مشاہد اللہ خان ، دانیال عزیز ، طلال چوہدری ، انوشہ رحمان ، مریم اورنگزیب اور خواجہ سعد رفیق بھی متحرک رہے جبکہ سینیٹر چوہدری تنویر علی خان بھی خاصے متحرک دکھائی دیئے ، اس طرح پاکستان مسلم لیگ ن کے جاوید عبا سی اور جنرل (ر) صلاح الدین ترمذی بھی تمام وقت ایوان میں پچھلی نشستوں پر کھڑے رہے ، پی ٹی آئی کے پنجاب سے منتخب ہونے وا لے سینیٹر چوہدری محمد سروراور وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق پچھلی نشستوں پر خاصی دیر تک محو گفتگو رہے ، جے یو آئی کے سینیٹرز ایوان میں پولنگ شروع ہونے کے بعد آدھے گھنٹے کی تاخیر سے آئے ان کی عدم موجودگی کی بناء پر ان کے حوالے سے بہت سی قیاس آرائیاں جاری تھیں ، یوں جے یو آئی آخری وقت کے بعد میڈیا کی توجہ کا مرکز بنی رہی ، شام 5:45پر چیئرمین کیلئے پولنگ کا عمل مکمل ہوگیا جبکہ دس منٹ میں کاؤنٹنگ ہوئی ، چیئرمین سینیٹ کے اس اعصاب شکن انتخاب میں یہ دس منٹ دس صدیوں پر محیط تھے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی کامیابی کا اعلان ہوا تو گیلریوں میں نعرے بازی شروع ہوگئی اور بد نظمی دیکھنے میں آئی ، جبکہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے بیٹے عبداللہ عباسی بھی گیلریوں میں موجود تھے ، جبکہ ان کے ساتھ پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی حامد الحق نعرے بازی کیلئے کھڑے ہوئے تو توازن برقرار نہ رکھنے کی وجہ سے وہ عبداللہ عباسی پر آن گرئے جس کے بعد کچھ ہاتھا پائی کے مناظر دیکھنے میں آئے بعد ازاں عبداللہ عباسی اپنے سر کاری باڈی گارڈ ز کے ہمراہ وہاں سے نکل گئے پی پی پی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق صدر زرداری نے حال ہی میں ایک پارٹی اجلاس میں کہا کہ’’ ہم اس وقت ایک Turmoil سے گزررہے ہیں ‘‘اس میں سے جو بچ پائے گا وہی بعد میں سیاست کرسکے گا ، لگتاہے کہ انہوں نے سینیٹ الیکشن میں اپنے اس مقولے کو مد نظر رکھا ہے ، جس کی بناء پر انہوں نے مفاہمت کی ایسی پالیسی اپنائی ہے کہ پیپلز پارٹی کے نظر یا ت کی سینیٹ الیکشن میں اینٹ سے اینٹ بجادی ہے ۔لگتاہے کہ جمہوری ارتقاء کے حوالے سے سینیٹ انتخابات پاکستان کی تاریخ کے سب سے اہم ترین انتخابات تھے ، گزشتہ دس برسوں میں پاکستان کی روایتی سیاسی جماعتوں نے جمہوریت کے حوالے سے جو سفر طے کیا تھا اب ان انتخابات کے بعد وہ سفر معکوس کی شکل اختیار کرتا ہوا نظر آرہاہے ، ایسے محسوس ہورہاہے کہ ہم ایک 10سالہ اپنا جمہوری سائیکل مکمل کر چکے ہیں اور ایک قدم آگے جاکر دو قدم پیچھے جاتے نظر آرہے ہیں ۔

تجزیہ سہیل چوہدری

مزید : تجزیہ /رائے