نان سٹاپ خونی ڈکیتیاں پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ؟

نان سٹاپ خونی ڈکیتیاں پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ؟

  

چوری ڈکیتی ‘ قتل و غارت گری‘مسلم معاشرے کے منہ پر ایک تمانچہ ہے تو دوسری طرف قانون نافذ کرنیوالے تمام اداروں کے لیے لمحہ فکریہ بھی لوگ ساری زندگی محنت مزدوری کر کے اپنی سہولت کے لیے موٹر سائیکل ‘ خریدتے ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ نامعلوم چور موٹر سائیکل لیکر فرا ر ہو گئے ہیں قتل وغارت گری ایک ایسا ناقابل تلافی نقصان ہے جس کا خمیازہ نسل در نسل متاثرہ خاندان کو بھگتنا پڑتا ہے تو دوسری طرف ملزم فریق کا خاندان بھی اسی مکافات عمل کا شکار ہوتا ہے بعض اوقات بااثر ملزمان کے ورثا مقتول خاندان پر سیاسی ‘ سماجی اور مالی طور پر دباؤ ڈال کر صلح کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں روتے روتے متاثرہ خاندان کو بھی صبر آ جاتا ہے اور وہ باامر مجبوری صلح پر مجبور ہو جاتا ہے گجرات میں قتل وغارت گری کی سالانہ شرح 300کے قریب ہے جبکہ ڈکیتی کی وارداتیں بھی سینکڑوں میں اور خونی ڈکیتی کی وارداتیں بھی درجنوں میں سالانہ ہوتی ہیں چند یوم قبل دن دیہاڑے تھانہ سول لائن کے علاقے بھمبر روڈ پر خونی ڈکیتی کی واردات کے دوران مزاحمت پر ریٹائرڈ تھانیدار محمد ایوب کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا بھمبر روڈ پر موٹر سائیکل سوار مسلح ڈاکوؤں نے ریٹائرڈ تھانیدار محمد ایوب کی بیوی کو اسلحہ کے زور پر یرغمال بنا کر زیورات چھین لیے محمد ایوب کی طرف سے مزاحمت کرنے پرڈاکوؤں نے فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں گولیاں لگنے سے محمد ایوب موقع پر دم توڑ گیا ملزمان واردات کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے سول لائن پولیس نے مقدمہ درج کر کے روایتی طور پر تفتیش شروع کر دی بھمبر روڈ پر خونی ڈکیتی کی واردات میں قتل ہونیوالے ریٹائرڈ تھانیدار کے ورثا نے واقع کے خلاف ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر عزیز بھٹی شہید ہسپتال میں احتجاجی مظاہرہ کیا ورثا نے ڈکیتی کی واردات میں ریٹائرڈ سب انسپکٹر محمد ایوب کی ہلاکت کو پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان قرار دیتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا مقتول محمد ایوب دو بیٹیوں اور تین بیٹوں کا باپ تھا جسے مسلح ڈاکوؤں نے اسکی بیوی سے زیورات چھیننے کے دوران مزاحمت پر فائرنگ کر کے قتل کر دیاڈی پی او جہانزیب نذیر خان نے اس خونی ڈکیتی کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایچ او تھانہ سول لائن امیر عباس چدھڑ کو معطل کر کے لائن حاضرکر دیا گیا اسکی جگہ عدنان شہزاد کو بطور ایس ایچ او تعینات کیا گیا ہے سی سی ٹی وی کیمروں سے حاصل کی گئی ڈاکوؤں کی تصاویر کو انٹرنیٹ پر جاری کر دیا گیا گرین ٹاؤن چوکی کے انچارج ریاض بوسال اور اے ایس آئی احمد نواز کو بھی ڈکیتی کی وارداتوں کا سراغ نہ لگانے پر شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا ہے یہ امر قابل ذکر ہے کہ سٹی سرکل سمیت دیگر علاقوں میں ڈکیتی وچوری اور راہزنی کی وارداتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے سٹی سرکل کے افسران کی ناقص کارکردگی پر تاجر برادری اور شہری عدم تحفظ کا شکار دکھائی دیتے ہیں بیشتر وارداتوں کا سراغ نہیں لگایا جا سکا جبکہ موٹر سائیکل چوری کی وارداتوں کی شرح سب سے زیادہ ہے تھانہ شاہین پولیس کے علاقہ میں ایف آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر سرفراز علی مرزا کے گھر مسلح ڈاکو ؤں نے داخل ہو کر اہل خانہ کو اسلحے کے زور پر یرغمال بنا کر لاکھوں روپے مالیت کے زیورات ‘ نقدی اور دوسرا قیمتی سامان چھین لیا اور فرار ہو گئے ایک قانون نافذ کرنیوالے اہم ترین ادارے کے سربراہ کے گھر ہونیوالی ڈکیتی پولیس کے لیے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی تھی اسسٹنٹ ڈائریکٹر سرفراز علی مرزا نے خود ہی ملزمان کو ٹریس کیا خود کی انکی لوکیشن ٹریس کی اور خود ہی پولیس کو ڈاکوؤں کے بارے میں تفصیلات فراہم کیں پولیس نے مذکورہ ڈاکوؤں کو گرفتار تو کر لیا مگر کئی ماہ گزرجانے کے باوجود وہ سرفراز علی مرزا کی جمع پونجی برآمد نہ کر سکے مذکورہ ڈاکو گجرات میں درجنوں ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث بیان کیے جاتے ہیں انہی ڈاکوؤں نے النبی کالونی میں ایک بینک منیجر ظہیر سندھو کے گھر میں داخل ہو کر لاکھوں روپے مالیت کے زیورات و نقدی چھین لی اور فرار ہو گئے سی پی ایل سی کے چیئرمین اور گجرات کے معروف صنعتکار الحاج امجد فاروق کو دن دیہاڑے ڈاکوؤں نے بینک سے کیش حاصل کرنے کے بعد فیکٹری جاتے ہوئے لاکھوں روپے کی نقدی سے محروم کر دیا اور فرار ہو گئے محکمہ پولیس کو لوگوں کی داد رسی کیلئے قائم ہونیوالے اس ادارے کے سربراہ کے ساتھ ہونیوالی ڈکیتی بلاشبہ پولیس کیلئے لمحہ فکریہ تھی مگراس میں بھی پولیس بری طرح ناکام ہوئی کچھ عرصہ بعد ان کے بھانجے کے گھر شادمان کالونی میں بھی ڈکیتی کی واردات میں لاکھوں کی نقدی زیورات چھین لیے گئے کڑیانوالہ میں بھی موبائل کارڈ فروخت کرنیوالے سیل مین تھانہ صدر کھاریاں میں پنجن کسانہ میں سبزی فروش کے ساتھ کے علاوہ مدینہ سیداں کے قریب واقع ڈاکخانے میں بھی ڈکیتی کی دلیرانہ وارداتیں رونما ہو چکی ہیں یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے بٹوارے سے قبل معاشرہ اس قدر پر امن تھا کہ خواتین دہلی سے زیور بن کر اکیلئے کابل تک پہنچ جاتی تھیں مگر اب صورتحال یہ ہے کہ اگر کوئی خاتون زیور پہن کر باہر نکل جائے تو خوش قسمتی سے ہی وہ سلامت گھر پہنچتی ہے وگرنہ راستے میں ہی ڈاکو زیور چھین کر فرار ہو جاتے ہیں خواتین کی ننانوے فیصد تعداد نے اسی وجہ سے زیور پہننا چھوڑ دیے ہیں اب اگر کسی کے پاس زیورات ہیں تو بینک کے لاکر میں ہی پڑے ہونگے اب تو خواتین ڈاکوؤں کے ڈر سے اس قدر خوفزدہ ہیں کہ وہ مصنوعی زیورات پہننے سے بھی ڈرتی ہیں پولیس کے سابق سب انسپکٹر محمد ایوب کی اہلیہ بھی زیور پہننے کی وجہ سے ڈاکوؤں کے ہتھے چڑھ گئی مزاحمت کی شور وغل کی آواز سن کر محمد ایوب اپنی بیوی کی مدد کو پہنچے ڈاکوؤں نے انہیں اندھا دھند فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا گجرات میں ہونیوالی نام سٹاپ ڈکیتیاں پولیس کے اعلی حکام کے علاوہ ڈی پی او گجرات کے لیے لمحہ فکریہ اور پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگاتی ہیں پولیس کی تنخواہیں عوام کے ٹیکس سے ادا کی جاتی ہیں پولیس کا فرض ہے مدد آپ کی ‘ آئے روز پولیس میں بھرتیاں کرنے سے پولیس کی کارکردگی دن بدن زوال پذیر ہے دو دیہائی قبل پولیس کی کارکردگی کو اگر دیکھا جائے تو آج کی پولیس سے ہزار گنا بہتر تھی اب جبکہ پولیس کے پاس جدید ترین سہولیات‘ اسلحہ اور جرائم کی بیخ کنی کیلئے تمام سہولیات موجود ہیں پنجاب پولیس کی کارکردگی زوال پذیر کیوں ہے اس سوال کا جواب شاید پولیس کے اعلی افسران کے پاس بھی نہ ہو مگر پنجاب کے عوام کے پاس سوال کا جواب ضرور موجود ہے لوگ احساس محرومی اور عدم تحفظ کا شکار ہو چکے ہیں رشوت کو فیس سمجھ کر وصول کیا جاتا ہے مدعی اور ملزم دونوں سے رقم بٹورنا اپنا اولین فرض سمجھا جاتا ہے ڈی پی او گجرات جہانزیب نذیر خان گجرات پولیس کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے کوشاں رہتے ہیں مگر معلوم نہیں کہ ان کے ویژن پر عمل درآمد کیوں نہیں ہو سکتا ماضی میں ہونیوالی ڈکیتیاں چھوڑ کر موجودہ ڈی پی او اپنے دور میں ہونیوالی چوری اور ڈکیتیوں کا تقابلی جائزہ لیں تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ کیا پولیس بہتری کی طرف گامزن ہے یا صرف موٹر سائیکل چوروں کو گرفتار کرنے کے علاوہ منشیات کی بھاری تعداد برآمد ہونے کی خبریں لگوا کر ایس ایچ او حضرات یہ تاثر دینے کی کوشش کریں کہ ان کی کارکردگی بہت بہتر ہے اور ڈی پی او اور ڈی ایس پی سٹی کی زیر قیادت جیسے فقرے انہوں نے زبانی رٹے ہوئے ہیں تھانوں میں فوری طور پر انسپکٹرز اور مستند پولیس افسران کی تعیناتی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے سب انسپکٹروں کو فوری طور پر ایس ایچ او شپ سے ہٹایا جائے اور محکمانہ قوانین کے مطابق اہل افسران کو تھانہ جات میں تعینات کیا جائے مگر یہاں تو الٹی گنگا بہتی ہے ماڈل تھانوں میں بھی سب انسپکٹرز ایک عرصہ سے تعینات ہیں فرنٹ ڈیسک کا نظام بھی طرح فلاپ ہو چکا ہے ماسوائے فوری طور پر درخواست وصول کرنے کے اور سائل کو لالی پاپ دینے کے علاوہ مقدمات کے اندراج اور مال مسروقہ کی برآمدگی کی شرح مزید کم ہوئی ہے حقیقی معنوں میں فرنٹ ڈیسک بھی قومی خزانے پر ایک بوجھ ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ محکمہ پولیس میں دھڑا دھڑ بھرتیوں کی بجائے موجودہ پولیس ملازمین کی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جائے اور فرنٹ ڈیسک کے نظام کو ختم کر کے سابقہ نظام کو بحال کیا جائے ۔

مزید :

ایڈیشن 2 -