ون ویلنگ کا ناسور کون روکے گا ؟

ون ویلنگ کا ناسور کون روکے گا ؟

  

کراچی کے شہری تو کسی حد تک یہ جانتے ہیں مگر شہر قائد سے باہررہنے والے شاید نہ جانتے ہوں کہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کی سڑکوں پر ایک عرصے سے رات گئے موت کا سرکس لگتا ہے۔کراچی کی شاید ہی کوئی سڑک ایسی ہو جہاں ایک پہیے پر موٹر سائیکل چلاتا کوئی نوجوان کبھی نظر نہ آتا ہو۔ شام کے اوقات میں جب سڑکوں پر بلاکا ٹریفک ہوتا ہے اور گاڑی پھنس پھنس کر چل رہی ہوتی ہیں اس وقت بھی آپ کو اپنی’دھن کے پکے‘ چند نوجوان ایسے ضرور مل جائیں گے جو تمام خطروں کو جانتے بوجھتے پیٹ کے بل لیٹ کر موٹر سائیکل چلانا بڑی بہادری سمجھتے ہیں۔ایک عام رائے کے مطابق ’اس طرح کے کرتب دکھاتے ہوئے بہادری اور بے وقوفی میں بہت کم فرق رہ جاتا ہے‘ لیکن کراچی کے’نوجوان۔۔خطروں کے کھلاڑی‘ کسی صورت نہیں مانتے۔ انہیں جب شہر میں موٹر سائیکل پر کرتب دکھانے کا موقع نہیں ملتا ہے تو اپنے ’شوق‘ کو جلا بخشنے ہر جمعے ،ہفتے اور اتوار کو کلفٹن کے ساحل دو دریا، ڈیول پوائنٹ یا ڈیفنس ،شاہرہ فیصل،شاہراہ پاکستان،نیشنل ہائی وے اور سپرہائی وے پہنچ جاتے ہیں۔یہ سب وہ جگہیں ہیں جو تیز رفتار موٹر سائیکل ریس دیکھنے اور اسٹنٹس کرنے کے لئے مشہور ہیں ۔ اتوار کی دوپہر سے ہی یہاں سیکڑوں نوجوانوں کا رش لگنا شروع ہوجاتا ہے جو مغرب تک جاری رہتا ہے۔ اس سرکس میں سیکڑوں نوجوان دیوانہ وار موٹر سائیکلوں پر ریس لگاتے ہیں ۔موت کے اس کھیل میں اب تک سیکڑوں نوجوان موت کے منہ میں جاچکے ہیں ہزاروں اپاہج ہوچکے ہیں اور معذوری کی زندگی گزار رہے ہیں ۔یہی نہیں بلکہ موٹر سائیکل پر اندھا دھند ریس کا اہتمام کرنے والے گینگز ہی نوجوانوں کو پیسوں کا لالچ دیتے ہیں اور پھر اسٹریٹ کرمنلز بناتے ہیں یا اسٹریٹ کرائم کی طرف راغب کرتے ہیں سب سے حیرت کی بات یہ ہے کہ ابھی تک سندھ پولیس یا انتظامیہ کی جانب سے اس حوالے کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔جان ہتھیلی پر رکھ کر خود کو منوانے کے خطرناک شوق میں کچھ گر کر سنبھل جاتے ہیں تو کچھ زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ،کچھ سال پہلے تک کے ریسنگ گروپس اب باقاعدہ کرمنل گینگز میں بدل گئے ہیں ،اس کھیل میں زندگی اور موت کی کوئی قدر نہیں بس جو جیتا وہی سکندر ،ان ریسر لڑکوں کا گھمنڈ ان کی اسپیڈ ہے یعنی جان جاتی ہے تو جائے پولیس کے ہاتھ میں نہ آئے ،ان گینگز میں زیادہ تو کم عمر لڑکے نسبتا غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں کام اتنا خطرناک ہوچکا ہے کہ جو اس کا حصہ ہیں اس بارے میں بات کرنے سے بھی گھبراتے ہیں ۔ سابق رائیڈرز نے اپنا نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ یہ شوق اتنا آگے بڑھ گیا ہے کہ زیادہ تر استاد کرمنل بن چکے ہیں۔بائیک ریسنگ کے شوقین یہ نوجوان ان مکینک استادوں کیلیے اتنے پاگل ہوگئے ہیں کہ ان کی ہر بات ماننے کیلئے تیار ہوجاتے ہیں ۔ رائیڈرز تو آئے دن مرتے رہتے ہیں اور یہ استاد ہر دوسرے دن نیا رائیڈر بنارہے ہوتے ہیں اور ہر نئے آنے والے بچے کو استعمال کررہے ہوتے ہیں۔ان کا نشانہ کم عمر کے بچے بنتے ہیں کیوں کہ کم عمر بچوں کا جسم دبلا پتلا ہوتا ہے۔ بائیک پر اصل میں ہوا کا سارا زور ہوتا ہے جب دبلا لڑکابائیک چلاتاہے تو ہوا کا پریشر ہوتا ہے جتنا بچے کا وزن کم ہوگا اتنا زیادہ اسے ریس میں فائدہ ہوگا ،استاد ان سے کہتے ہیں جیتنے والے کا نام دنیا میں مشہور ہوجائے گا اسی طریقے سے ان لوگوں نے بچوں کے ذہنوں میں یہ بھی ڈالا ہوا ہے کہ جب ہم بائیک ایکسیڈنٹ میں مرجائیں گے تو شہید کہلائیں گے اور جب ریسر لڑکوں کے پاس پیسے نہیں ہوتے ہیں تو اسٹریٹ کرائم بھی کرتے ہیں کیوں کہ ان سے اچھی بائیک چلانا کوئی نہیں جانتا ۔ان کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ20ہزار روپے کے لئے کسی ماں کا لال مرجائے۔ واٹر پمپ کی مارکیٹ میں کراچی میں رائیڈرز کے لیے موٹر سائیکلیں تیار کرنے والے ایک موٹر مکینک کا کہنا ہے کہ ریس اور کرتب دکھانے کے لئے جو خصوصی موٹرسائیکلز آتی ہیں وہ انتہائی مہنگی ہوتی ہیں۔ کراچی کے متوسط یا غریب خاندانوں کے لڑکے انہیں ’افورڈ‘ ہی نہیں کرسکتے۔ لہذا، عام موٹر سائیکل میں کچھ ضروری تبدیلیاں یا ترامیم کرکے انہیں کسی حد تک ریس کے قابل بنالیا جاتا ہے۔ اس کام پر خرچ کا انحصار کھلاڑی کے شوق اور ڈیمانڈ پر ہے۔سوشل میڈیا رائیڈنگ گینگز کا میدان ہے جہاں یہ ایک دوسرے کو للکارتے ہیں ، ریس کا تعین کرتے ہیں اور اگر کوئی اس ریس میں جان سے چلا جائے تو فیس بک پر ان کو ہیرو بناکر پیش کیا جاتا ہے اگر فیس بک پر کوئی سرچ کرتا ہے یہاں اسے ایک الگ ہی دنیاآباد ملے گی ۔ایاز 1فاروق استاد،Hفائٹرز حنیف استاد، IBLA 1ابلا استاد، S-1شیرزادہ استاد، BABA-1شبیر استاد، BOXER-1شان استاد،R-1،BABA-X،J-1انہیں استاد بھی پکارتے ہیں یہ بچوں کو موٹر سائیکل آلٹر کرکے دیتے ہیں اور ریسوں کا انعقاد بھی کرواتے ہیں۔ رائیڈرز میں یوں تو کئی نام ہیں لیکن ان گینگز میں چند بڑے ناموں میں سے ایک بالیXہے جسکا ہوم گراؤنڈ سپر ہائی وے ہے ،یہ خود کو کراچی کا کنگ کہتا ہے ،کہا جاتا ہے کہ اس کے شہر کے با اثر اور طاقتور حلقوں کے ساتھ تعلقات ہیں جب یہ نکلتا ہے تو اس کے ساتھ بڑی بڑی گاڑیاں اور اسلحے سے لیس کارندے ہوتے ہیں اس کی ریس بھی پروفیشنل طریقے سے فلمبند ہوتی ہے اور یو ٹیوب چینل پر اپ لوڈ کی جاتی ہے ۔اس وقت کراچی کا سب سے پرانا رائیڈر محمد ثاقب عرف سنکی ہے،شاہراہ فیصل ہو، سپر ہائی وے ہو ،کریک روڈ یا پھر کراچی کی کوئی بھی شاہراہ ،بیشتر ریسوں میں یا تو یہ خود شامل ہوتا ہے یا پھر منصف کا کردار ادا کرتا ہے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا الزام ہے کہ ثاقب سنکی بائیک ریسنگ کی آڑ میں کئی اور کاموں میں بھی ملوث رہا ہے ۔ملزم سنکی کے نام سے ایک موٹر سائیکل ریسنگ گروپ چلاتا ہے ،بہت سے بچوں نے اس سے متاثر ہوکر اپنے نام کے ساتھ سنکی کا لفظ استعمال کیا ہوا ہے ،،ملزم اچھے موٹر سائیکل رائڈرز لڑکے اسٹریٹ کرائم اور ٹارگٹ کلنگ کے لیے نہ صرف خود استعمال کرتا ہے بلکہ دوسرے گروپس کو بھی لڑکوں کو مہیا کرتا ہے اور یہ مختلف کیسوں میں پولیس کو بھی مطلوب ہے،عجیب بات یہ ہے وہ آج بھی پہلے سے بھی زیادہ منظم انداز میں اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے ۔رپورٹس کے مطابق سرکاری اسپتال تصدیق کرتے ہیں کہ تقریبا600 نوجوان جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں یعنی روزانہ 2 نوجوان زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔رواں سال کی بات کی جائے تو16فروری2018کو شاہراہ فیصل پر رات کو3بجے ریس ہوئی جس میں4نو عمر لڑکے جان سے چلے گئے۔ مرنے والوں میں ایک حسیب بھی تھا ،ا سکی ماں کا زخم دنیا کا کوئی مرہم نہیں بھر سکتا ۔اسی ماہ کی11تاریخ کو سپر ہائی وے پر بھی ایک ریس ہوئی جس میں25سالا جواد عرف جازل جان کی بازی ہار گیا ،اس کی ماں بھی غم سے نڈھال ہے دو بہنیں انتظار کررہی ہیں یہ جو ریس لگواتے ہیں ان کو خدا نیست و نابود کردے۔کراچی کے سب سے بڑے جناح اسپتال میں ریس میں مرنے والے اور زخمی ہونے والوں کو لایا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود یہ کیس رپورٹ نہیں ہوتے ۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ بڑی چالاکی سے کھیلتے ہیں اگر کسی ریس میں بائیک پر لڑکا زخمی ہوجائے یا مرجائے تو چند لمحوں میں بائیک اور بندہ دونوں غائب ہوجاتے ہیں پھر ان کی پہلی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ ایسے اسپتال میں لے کر جائیں جو بڑے اسپتال نہ ہوں پرائیویٹ یا چھوٹے اسپتال میں لے جاتے ہیں کیوں کہ اگر یہ جناح لے کر جاتے ہیں تو یہ ایمرجنسی میں داخل کرواکر ان ہی بچوں کے فون سے ان کے والدین کو اطلاع دے کر غائب ہوجاتے ہیں اگر یہ ایسا نہیں کرتے تو پھر یہ دوسرا کام یہ کرتے ہیں کہ غلط نمبر اور پتہ لکھواکر وہاں سے غائب ہوجاتے ہیں جس سے یہ پتا ہی نہیں چلتا اور جب والدین پولیس کے پاس جانے سے کتراتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نہ ہمیں پوسٹ مارٹم کروانا ہے اوروہ ٹریفک حادثہ قرار دے کر چلے جاتے ہیں۔ یوں یہ معاملہ دب جاتا ہے اور کسی کو پتا ہی نہیں چلتا ،ایکسیڈنٹ ریسرچ اینڈ پریوینشل سینٹر کے عرفان سلیم بھٹی ان چند لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اس مسئلے پر تحقیق کی ،ان کے مطابق جب ہمارے پاس ڈیٹا آتا تھا تو اس ڈیٹا کا سروے کیا جاتا تھا اور چوں کہ میں انویسٹی گیٹر تھا تو بذات خود میں لوکیشن پہ جاتا تھا اور وہاں جا کر لوگوں سے جب تفصیلات معلوم کرتا تھا کہ رات یہاں ایکسیڈنٹ ہوا ہے تو پھر مجھے یہاں پیٹرول پمپس والا ،یا چھیپا یا ایدھی وہ بتاتے تھے کہ رات کو یہاں لڑکے اکھٹے ہوئے اور انہوں نے ریسنگ کی شرط لگائی اور پھر وہ ایسے بے باک ہوکر نکلتے ہیں جیسے کہ کوئی جہاز جا رہا ہے ،انہوں نے بتایا کہ ہماری تحقیق کے مطابق کراچی کے5بڑے اسپتالوں کے ریکارڈ کی چھان بین سے پتا چلا کہ شہر میں شاہراہوں پر مرنے والوں میں نصف تعداد ان کم عمر لڑکوں کی ہے جو بائیک ریسوں میں مارے جاتے ہیں جبکہ سالانہ3ہزار لڑکے ایسے ہوتے ہیں جو زخمی یا معذور ہوجاتے ہیں ،المیہ یہ ہے کہ بائیک ریسنگ پہلے سے کہیں زیادہ ہورہی ہے لیکن ایکشن کوئی نہیں ہے ۔رائیڈرز یہی کہتے ہیں کہ آپ کچھ بھی کرلو ان کے خلاف ہونے والا کچھ نہیں۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا اس ضمن میں کہتے ہیں کہ اس معاملے پر چیف سیکرٹری نے نوٹس لیا ہے۔ ویلنگ کا خطرناک کھیل پہلے سے کم ہو گیا، ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، اس معاملے میں کسی قسم کی غفلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ واقعی حکومت کچھ کرتی ہے یا اس کے لیے بھی سپریم کورٹ کو نوٹس لینا ہوگا ،بہت ہی گھمبیر صورتحال ہے سب سے بڑی بات یہ کہ پولیس اس معاملے میں دلچسپی نہیں رکھتی اسے اچھی طرح سے پتا ہے کہ کہاں پر یہ ہوتا ہے کن علاقوں میں ہوتا ہے کون سی شاہراہیں استعمال ہوتی ہیں کن دنوں میں ہوتی ہیں،لیکن شاید پولیس یہ سمجھتی ہے کہ یہ اس کا کام نہیں ہے بہر حال وہ تماشائی ضرور ہے

مزید :

ایڈیشن 2 -