قاتل ڈور گڈی کا کھیل کب ختم ہو گا؟

قاتل ڈور گڈی کا کھیل کب ختم ہو گا؟

  

صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے سبزہ زار میں ایک انتہائی افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے۔ موٹرسائیکل پر جانے والے دو سگے بھائیوں کے گلے میں کٹی پتنگ کی دھاتی ڈور پھر گئی جس کے نتیجے میں چار بچوں کا باپ جاں بحق جبکہ اس کا چھوٹا بھائی شدید زخمی ہو گیا جس کی حالت تشویش ناک بیان کی جا رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے پتنگ بازی پر پابندی کے باوجود دھاتی ڈور پھرنے سے ایک شخص کی ہلاکت اور دوسرے کے شدید زخمی ہونے کا واقعہ افسوس ناک ہے اس سے پولیس اور انتظامیہ کی سنگین غفلت کا بھی پتہ چلتا ہے۔ دھاتی ڈور کی وجہ سے کئی قیمتوں جانوں کے ضیاع کے واقعات کے باعث ہی حکومت نے کئی سال پہلے پتنگ بازی پر پابندی لگائی تھی لیکن اب بھی ہر سال فروری مارچ کے مہینوں میں نہ صرف چوری چھپے پتنگ بازی ہوتی بلکہ دھاتی ڈور کا استعمال بھی کیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر دھاتی ڈور ایسے کون سے خفیہ مقامات پر تیار اور فروخت کی جاتی ہے جو انتظامیہ اور پولیس کو تو اس کا پتہ نہیں چلتا مگر خریدار آسانی سے خرید کر پتنگیں اڑاتے رہتے ہیں۔ پولس اور انتظامیہ پہلے سوئی رہتی ہے اور جب کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آ جاتے تو کم سن بچوں کو حوالات میں بند کرکے کارروائی پوری کرتی نظر آتی ہے۔ کسی کو بھی پتنگ بازی پر نہیں اس کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان پر اعتراض ہے۔ حکومت اس اہم مسئلے کا کوئی مستقل حل نکالے تاکہ دھاتی ڈور کا استعمال ہمیشہ کے لئے بند ہو اور اس کی وجہ سے آئندہ کوئی قیمتی جان ضائع نہ ہو۔ 

دھاتی ڈور پھرنے سے جاں بحق ہونیوالے 37سا لہ فا رو ق سبحا ن جمعرات کے روز سبزہ زا ر کے علا قے لیا قت چو ک کے قریب اپنے بھا ئی اسد کے ہمرا ہ مو ٹر سا ئیکل پر آ رہا تھا کہ۔لیا قت چو ک کے قریب اس کے گلے پر ڈور پھر گئی ،جس سے دو نو ں بھائی شدید زخمی ہو گئے ، ورثاء نے الزام لگایاہے کہ پا س سے گذرنے والی پیرو فو رس کی گا ڑی کو رو کا گیا اور کہا گیا کہ انہیں ہسپتال پہنچا دو لیکن پیرو فو رس کے اہلکا رو ں نے ان کی ایک نہ سنی اور گا ڑی بھگا دی جس کے بعد فا روق سبحا نی کے بھا ئی اسد نے مقا می افراد کی مدد سے اسے ہسپتال پہنچا یا جہا ں خو ن کی زیا دتی کے با عث فاروق سبحان جا نبر نہ ہو سکا ، متوفی کے ور ثا ء اور عزیز و اقا رب نے لا ش سڑک پر رکھ کر پو لیس اور حکو مت کے خلا ف شدید احتجاج کیا ، یہا ں یہ با ت قا بل ذکر ہے کہ پو لیس نے ایک ما ہ کے دو ران 500سے زا ئد پتنگ با زو ں اور پتنگ سا زو ں کو گر فتا ر کر کے ان کے خلا ف مقدما ت بھی درج کئے ہیں لیکن لا ہو ر پو لیس اس خو نی کھیل کو رو کنے میں مکمل طو ر پر نا کام ہو چکی ہے ،ایک وقت تھا کہ شہر میں پتنگ بازی کا سلسلہ عام تھا اور آئے روز شہر میں ڈور پھرنے اور ہلاکتوں کے واقعات معمول بن چکے تھے تاہم وزیر اعلی پنجاب نے اس خونی کھیل کو روکنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اعلان کیا کہ جس بھی علاقے میں ڈور پھرنے سے کوئی شہری زخمی یاہلاک ہوا اس ایس ایچ او اور ڈی ایس پی کے خلاف سخت کا رروائی عمل میں لا ئی جا ئے گی ۔ اس اعلان کے بعد پو لیس نے ایسے افراد کے خلاف جب بلا تفریق کا رروائی کی تو کا فی حد تک شہر میں سکون پیدا ہو گیا ۔اب یہ واقعات پہر بڑھنے شروع ہو گئے ہیں اورصوبائی دارالحکومت میں پتنگ بازی کا سلسلہ دوبارہ سے شروع ہو گیا ہے۔ ایک ماہ کے دوران گلے میں ڈور پھرنے کے باعث اب تک چار افراد زخمی ہو چکے ہیں جب کہ پولیس کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران پتنگ بازی کرنے والے ایک ہزار سے زائد افراد کے خلاف مقدمات درج کئے گئے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں پتنگیں اور کیمیکل ڈور کی چرخیاں اور پتنگ سازی کا سامان بھی برآمد کیا گیا ہے۔ایک سروے کے مطابق صوبائی دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں قائم فارم ہاؤسز میں ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب پتنگ بازی کی جاتی ہے چند شوقین مزاج افراد پتنگ بازی کے ساتھ ساتھ ہوائی فائرنگ بھی کرتے نظرآتے ہیں جب کہ پتنگ بازی اور ڈانس پارٹیوں کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ مقامی تھانوں کی پولیس خاموش تماشائی بن کر ان با اثر افراد کی سرپرستی کرتی ہے۔ فروری کے مہینے میں سردی کے اختتام کے ساتھ ہی شہریوں میں بسنت کا تہوار منانے کی شدت بڑھ جاتی ہے۔ حکومت کی جانب سے پتنگ بازی جیسے قاتل کھیل پر مکمل پابندی عائد کی جا چکی ہے مگر پھر بھی پتنگ بازی کے شوقین افراد باز نہیں آتے اپنا شوق پورا کرنے کے لئے چوری چھپے کبھی دن کے وقت اور کبھی رات کے وقت پتنگ بازی کرتے ہیں۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران تھانہ گوالمنڈی، تھانہ مغلپورہ اور تھانہ اچھرہ کے علاقوں میں شہری گلے میں ڈور پھرنے کے باعث شدید زخمی ہو ئے۔ برکی، رائیونڈ سٹی، مناواں، ہیر اور ڈیفنس سی میں قائم فارم ہاؤسز میں ہر ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب پتنگ بازی کے شوقین افراد کے لئے پتنگ بازی کے ساتھ ساتھ شراب اور ڈانس پارٹیوں کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے شوقین مزاج افراد رات بھر ہلکی ہلکی موسیقی کی دھنوں میں شراب کے نشے میں دھت ہو کر پتنگ بازی کے ساتھ ساتھ ہوائی فائرنگ بھی کرتے ہیں ان ڈانس پارٹیوں میں خوبرو خواتین کی کثیر تعداد بھی مختلف اقسام کے نشے کر کے پتنگ بازی کرنے میں مصروف دکھائی دیتی ہیں۔ متعلقہ علاقوں کی پولیس کی جانب سے کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی بلکہ ان تھانوں کی پولیس ان فارم ہاؤسز کے مالکان سے بھاری نذرانے لے کر ان کی سرپرستی کرتی ہے۔ شہر سے دور ایک نئی دنیا کے لوگ رات بھر اپنی زندگی گزار کر پھر شہر لوٹ جاتے ہیں۔ شہر میں جن علاقوں میں پتنگ بازی کا سلسلہ عام ہے ان میں سبزہ زار،گرین ٹاؤ ن، ٹاؤن شپ، ہنجر وال، کاہنہ، کوٹ لکھپت، لیاقت آباد، غالب مارکیٹ، اچھرہ، وحدت کالونی، ملت پارک، شیرا کوٹ، سمن آباد، ساندہ، گجر پورہ، قلعہ گجر سنگھ، شالیمار، گڑھی شاہو، ٹبی سٹی، اکبری گیٹ، لوہاری گیٹ، شفیق آباد، راوی روڈ، ہربنس پورہ، باغبانپورہ، فیکٹری ایریا، غازی آباد، شمالی چھاؤنی، جنوبی چھاؤنی اورڈیفنس بی شامل ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی جانب سے حکم جاری کیا گیا تھا کہ جس علاقے میں پتنگ بازی سے کسی شہری کی جان گئی یا پھر کوئی زخمی ہوا اس علاقے کے ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کو معطل کیا جائے گا۔ ڈی آئی جی آپریشن لاہور نے سبزہ زار کے بعدصرف تھانہ گوالمنڈی کے ایس ایچ او کو گلے میں ڈور پھرنے سے بچی کے زخمی ہونے پر معطل کیا مگر تھانہ مغلپورہ اور تھانہ اچھرہ کے ایس ایچ اوز کے علاقوں میں بھی گلے میں ڈور پھرنے سے دو شہری زخمی ہوئے مگر ان کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہ لائی گئی۔ ڈی آئی جی آپریشن لاہور ڈاکٹر حیدر اشرف کا کہنا ہے کہ شہر میں پتنگ بازی کو روکنے کے حوالے سے 12 نکاتی ہدایت نامہ جاری کیا گیا ہے۔ ڈویژنل ایس پیز کو 12 نکات پر عملدرآمد کرانے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں تھانوں کی حدود میں واقع چھتوں کے مالکان سے شورٹی بانڈ لیئے جائیں تمام بڑی اور چھوٹی مساجد میں روزانہ کی بنیاد پر اعلان کرائے جائیں پتنگ بازی کی روک تھام کے لئے پمفلٹ تقسیم کئے جائیں، بارونق مقامات سمیت پولیس وینز پر پتنگ بازی مخالف بینرز لگائیں جائیں پبلک مقامات پر پولیس اہلکار میگا فونز پر پتنگ بازی روکنے کے اعلانات کریں پولیس اہلکاروں کو روزانہ دوربین سمیت اونچی عمارتوں پر تعینات کیا جائے اور معززین علاقہ سے میٹنگ، کیبل پر پتنگ بازی روکنے کے اشتہارات چلائے جائیں، ہر پولیس گاڑی میں سرچ لائٹ اور سیڑھی رکھی جائے، تمام ڈویڑنل ایس پیز 12 نکاتی ہدایت نامے پر فوری طور پر عملدرآمد کرائیں۔ ڈی آئی جی آپریشن نے مزید بتایا کہ تمام ڈویژنل ایس پیز روزانہ کی بنیاد پر کارکردگی رپورٹ جمع کرائیں گے، خونی کھیل کی قطعی طور پر اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈی آئی جی آپریشن ڈاکٹر حیدر اشرف کا کہنا تھا کہ اس خونی کھیل کو روکنے کے لئے شہری پولیس کے ساتھ تعاون کریں۔ ڈی آئی جی آپریشن لاہورکا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران لاہور پولیس نے ایک ہزار سے زائد افراد کے خلاف پتنگ بازی کے مقدمات درج کر کے ہزاروں کی تعداد میں پتنگیں اور کیمیکل ڈور کی چرخیاں اور پتنگ سازی کا سامان بھی برآمد کیا ہے۔ سبزہ زار کے علاقے میں شہر ی کی ہلاکت پر پہلی بار ایس ایچ اور ڈی ایس پی کے ساتھ ایس پی کو بھی فارغ کیا گیا ہے ۔سوچنے اور غور کر نے کی بات یہ ہے کہ قاتل ڈور گڈی کاکھیل کب ختم ہو گا ؟ حقیقت میں سبزہ زار کے نوجوان کی ہلاکت کا زمہ دار ایس پی ،ڈی ایس پی اور ایس ایچ او ہی نہیں اصل کرداروں کو بھی سزا جرور ملنی چاہیے۔

مزید :

ایڈیشن 2 -