میونسپل کارپوریشن ملتان ‘55کروڑ کے ٹینڈرز اوپن کرنیکی مشروط اجازت

میونسپل کارپوریشن ملتان ‘55کروڑ کے ٹینڈرز اوپن کرنیکی مشروط اجازت

  

ملتان ( سپیشل رپورٹر)ہائیکورٹ کی ڈائریکشن پر سیکرٹری لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ پنجاب نے میونسپل کارپوریشن ملتان میں 55 کروڑ کی ورلڈ بینک اور سٹی پیکج کی ترقیاتی سکیموں (بقیہ نمبر47صفحہ12پر )

کے ٹینڈرز کو اوپن کرنے کی مشروط اجازت دے دی ہے۔ سیکرٹری بلدیات نے کہا کہ وہ خود یا ان کی مقرر کردہ کمیٹی ان سکیموں کو چیک کرے گی۔ اگر یہ ملتان کی عوام کی فلاح کے لیئے ٹھیک ہوئیں تو ان کی باقاعدہ اجازت دے دی جائے گی اور اگر یہ کسی کو سیاسی فائدے کے لیئے دی جا رہی ہو ں گی تو ان کو روک دیا جائے گا۔ ملتان ڈویلپمنٹ گروپ نے کہا کہ وہ کمیٹی کی رپورٹ کو دیکھیں گے۔ اگر طریقہ کار درست نہ ہوا تو دوبارہ ہائیکورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔ تفصیل کے مطابق گزشتہ روز سیکرٹری لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے آفس میں ملتان ڈویلپمنٹ گروپ کی رابطہ کمیٹی کے اراکین اور چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن اور ورلڈ بینک کے نمائندے پیش ہو ئے۔ سیکرٹری بلدیات نے باری باری تمام فریقوں کا مؤقف سنا۔ ملتان ڈویلپمنٹ گروپ نے کہا کہ ورلڈ بینک اور سٹی پیکیج کی تقریباً55کروڑ کی سکیموں میں 90 فیصد سے زائد کام پی پی 196 میں ہو رہا ہے کیونکہ میئر چودھری نویدالحق کے بھائی سابق صوبائی وزیر چودھری وحید ارائیں کا یہ حلقہ ہے اور اب بھی وہ یا ان کے کوئی اور بھائی اس حلقے سے امیدوار ہوں گے۔ اسی لئے سارا فنڈ اس حلقے میں لگایا جا رہا ہے۔ جو ملتان کے دیگر حصوں میں رہنے والے شہریوں کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔ دوسرا یہ کہ اتنی بڑی رقم کے ترقیاتی منصوبوں کی میونسپل کارپوریشن کے ہاؤس سے منظوری نہ لی گئی ہے جس کی وجہ سے یہ ٹینڈرز غیر قانونی قرار دئیے جائیں۔ سیکرٹری بلدیات نے ورلڈ بینک کے نمائندوں اور چیف آفیسر سے پوچھا کہ آپ لوگوں کے پاس کیا جواب ہے تو دونوں فریقوں نے کہا کہ میئر کو اختیار ہے کہ وہ فنڈز جہاں چاہیں خرچ کر سکتے ہیں۔ فیصل آباد میں بھی ایسا ہوا ہے جس پر سیکرٹری بلدیات برہم ہو گئے اور کہا کہ فرد واحد کو اختیار کیسے دیا جا سکتا ہے۔ لاہور کے میئر نے تو ایوان سے منظوری کے بعد یہ منصوبے جاری کئے ہیں۔ اگر فیصل آباد والے غلط کام کریں تو ملتان والوں کو ان کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں۔ ورلڈ بینک کے نمائندوں اور چیف آفیسر نے سیکرٹری بلدیات کو بتایا کہ اگر کل تک یہ ٹینڈرز اوپن نہ کئے گئے تو پھر یہ فنڈز ختم ہو جائیں گے جس سے ملتان کے شہریوں کا بہت بڑا نقصان ہو جائے گا۔ اس صورتحال پر سیکرٹری بلدیات نے مشروط اجازت دیتے ہوئے کہا کہ میں خود یا جو کمیٹی بنائیں گے وہ موقع پر آ کر ترقیاتی سکیموں کو دیکھے گی۔ اگر یہ سکیمیں عوامی فلاح کے لئے درست ہوئیں تو اجازت دیں گے ورنہ ہم اس کو روک دیں گے۔ ’’پاکستان‘‘ سے بات چیت کرتے ہوئے چیف آفیسر سردار نصیر نے کہا کہ ہمیں مشروط اجازت ملی ہے تاہم آج سے ہم ٹینڈرز کو اوپن کر کے کام کو شروع کر دیں گے۔ملتان ڈویلپمنٹ گروپ کی رابطہ کمیٹی کے چیئرمین جلیل خان بابر نے ’’پاکستان‘‘ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم سیکرٹری بلدیات کی کمیٹی کی رپورٹ کا انتظار کریں گے۔ اگر رپورٹ کے مطابق یہ میونسپل کارپوریشن کا طریقہ کار درست نہ ہوا تو اس کو پھر ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیں گے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -