سی بی اے یونین کی کردار کشی قابل مذمت ہے ،محمد رسول

سی بی اے یونین کی کردار کشی قابل مذمت ہے ،محمد رسول

  

نوشہرہ(بیورورپورٹ)چراٹ سیمنٹ کمپنی سی بی اے یونین نے تھرڈ پارٹی کنٹریکٹ میں مداخلت کا حق نہ رکھنے کے باوجود فارغ شدہ کنٹریکٹ سیکیورٹی گارڈز کو ایک کروڑ سے زائد کی رقم قانونی واجبات کی مد میں دلوائی چراٹ سیمنٹ کمپنی سی بی اے یونین کے ترجمان محمد رسول نے ایک اخباری بیان کے ذریعے چراٹ سیمنٹ کمپنی سے فارغ کنٹریکٹ پر رکھے گئے ملازمین کی طرف سے سی بی اے یونین کی مقامی اخبارات اور سوشل میڈیا پر کردارکشی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تھرڈ پارٹی کنٹریکٹ میں مداخلت کا حق نہ رکھنے کے باوجود یونین کے صدر نے فارغ شدہ سیکیورٹی گارڈز کو ایک کروڑ سے زائد کی رقم کمپنی انتظامیہ سے دلوائی سیکیورٹی کا ٹھیکہ پروفیشنل سیکیورٹی کمپنی کے حوالے کرنے کا فیصلہ اکتوبر 2017ء میں فیکٹری انتظامیہ نے کیا تھا۔ مگر یونین کی مداخلت پر اکتوبر 2017ء سے لیکر مارچ 2018ء تک پانچ مہینوں تک مذاکرات کی وجہ سے عمل درآمد التوا کا شکار رہا۔ یونین کا مطالبہ تھا کہ کسی معاوضہ کے بغیر ٹھیکے پر رکھے گئے ملازمین کو فارغ کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائیگی۔ 4/5 مہینوں کی جدوجہد اور مذاکرات کے بعد کمپنی انتظامیہ سے فارغ شدہ سیکیورٹی گارڈز کیلئے گریجویٹی اور اضافی دو مہینوں کی تنخواہ کا حق دلوایا گیا جو کہ ایک مثال ہے اور اس کی مثال کہیں پر بھی نہیں ملتی۔ جس کے لیے ہم کمپنی انتظامیہ کے تعاون کے بھی مشکور ہیں ترجمان نے مزید کہا کہ چراٹ سیمنٹ کی سی بی اے یونین اپنی ایک تاریخ رکھتی ہے۔ اور اس یونین کے ہوتے ہوئے فیکٹری میں کام کرنے والے مستقل مزدور ہوں یا ٹھیکہ دار کے ذریعے رکھے گئے مزدور ہوں، کوئی ان کی حق تلفی نہیں کرسکتا۔ اس لیے یونین پر جانبداری کا الزام لگانا انتہائی مضحکہ خیز اور شرم ناک فعل ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -کراچی صفحہ اول -