پاکستان کی نومنتخب سینیٹر کرشنا کماری شادی شدہ ہیں یا کنواری، اس تصویر نے معمہ حل کردیا وہ بات جو شاید آپ کو معلوم نہیں

پاکستان کی نومنتخب سینیٹر کرشنا کماری شادی شدہ ہیں یا کنواری، اس تصویر نے ...
پاکستان کی نومنتخب سینیٹر کرشنا کماری شادی شدہ ہیں یا کنواری، اس تصویر نے معمہ حل کردیا وہ بات جو شاید آپ کو معلوم نہیں

  

عمر کوٹ (سید ریحان شبیر ) کسی نے خوب کہا ہے کہ زیورات بناو سنگار خوبصورتی   عورت کا حسن ہے پاکستان کے ہر صوبے اور اس میں بسنے والوں کی اپنی اپنی رسم ورواج ہے صحرائے تھر سے پیپلزپارٹی کی منتخب ہونے والی سنیٹر کرشنا کماری اس وقت میڈیا کا مرکز بنی ہوئی ہے کرشنا کماری نے سنیٹ میں حلف لینے کےلیے خصوصی طور پر تھر کا خوبصورت  روایتی لباس مہرون رنگ کا  پولکا کھرتی اور اپنے ہاتھوں اور بازوؤں میں تھر کی ریت مطابق خوبصورت سادے سفید  چوڑے "چوڑیاں"   پہن کر پورے ایوان کی اور عالمی دنیا کی توجہ کرشنا کماری کو حاصل رہی کرشنا کماری کے پہنے ہوئے خوبصورت چوڑا "چوڑیوں "کی مختلف تاریخ ہے تھر میں بلکہ سندھ اور اندرون سندھ میں بسنے والے چاہیے مسلمان ہوں چاہیے ہندو ہو ان میں اپنے اپنے رسم ورواج مطابق زیورات اور ان چوڑا کا رواج ہے خصوصاً کولہی بھیل میگھواڑ  اور اوڈ   قبیلے کی خواتین میں ان چوڑوں کا بہت رواج ہے ۔

اس سلسلے میں چوڑے تیار کرنے والے کاریگر روپ چند کھتری ،اشرف علی اور حسن نے بتایا کہ تھر چوڑے کی تاریخ بہت قدیم ہے مغلیہ عہد کے حکمرانوں اور راجہ مہاراجہ کے ادوار میں یہ چوڑے ابتداء میں ہاتھی کے دانتوں سے تیار کیے جاتے تھے بعد میں وقت کے ساتھ ساتھ اس کام میں بھی تبدیلی آتی گی اب یہ تھر کے چوڑے پلاسٹک سے تیار کیے جاتے ہیں روپ چند کھتری نے بتایا کہ پلاسٹک دانہ ایران چین اور سعودی عرب سے آتا ہے پھر اس پلاسٹک دانے میں مختلف کلر لال ،ہرا پیلا ،سرخ ،سفید سمیت مختلف رنگ میں پلاسٹک تیار کیا جاتا ہے اور اس کے بعد مختلف ڈیزائن کے خوبصورت  چوڑے تیار کیے جاتے ہیں ۔

تھر کے رسم ورواج مطابق جو شادی شدہ خاتون ہوتی ہے وہ اپنے دونوں ہاتھوں اور بازوؤں پر یہ تھر چوڑے پہنتی ہے اور کنواری غیر شادی شدہ لڑکی صرف اپنے ہاتھوں پر یہ چوڑے پہنتی ہے جبکہ مسلمانوں میں بیوہ اور ہندو مذہب میں ویدواہ خاتون کے ہاتھ خالی رہتے ہیں وہ یہ چوڑا "چوڑیاں " نہیں پہنتی ہے تھر چوڑے عید تہوار اور مختلف خوشی شادی بیاہ کے موقع پر خصوصی طور پر پہننے جاتے ہیں ۔

اس کے علاوہ بچیاں بھی تھر چوڑے پہنتی  ہے تھر سمیت سندھ کے مختلف شہروں عمرکوٹ  تھرپارکر ،کھپرو، نوکوٹ شہدادپور میرپورخاص اور اندرون سندھ خواتین اپنے بناؤ سنگار کےگلے میں خوبصورت چندر ہار منگل سوتر کھنٹی ہار اور  ہسلی ہار  پاوں  میں موتیاور   چاندی کے پازیب اور خاص تھری لباس پولکا کھرتی گھاگھرا راجستھانی کھرتی اور تھری گج اور تھری زیورات میں مالا،نتھ ،ہاتھ کی انگلیوں میں پہننے کےکوڑکوں وغیرہ شامل ہے۔

تھر کی تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے ایوان بالا میں نمائندگی ملی ہے کرشنا کماری عرف کشیو بائی "48"سال کی خاتون ہے پندرہ سال کی عمر میں کرشنا کماری کی شادی ہوگی تھی ان کا تعلق ایک غریب گھرانے سے ہے کرشنا کماری کی چار بہنیں اور دو چھوٹے بھائی ہے کرشنا اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے کرشنا کماری نے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے کرشنا کا کہنا ہےکہ وہ تھر میں تعلیم صحت غربت کے خاتمے کےلیے کام کرے گی خصوصاً تھر کی خواتین کی کے حقوق کے لیے بھرپور جہدوجہد کی جائے گی ۔

کرشنا کماری سینیٹ میں حاضری لگاتے ہوئے ۔ ۔ ۔۔ ویڈیو دیکھئے

مزید :

علاقائی -سندھ -عمرکوٹ -ڈیلی بائیٹس -