بول اشتہارنہیں لے رہا،پھر آمدن کہاں سے ہے؟چیف جسٹس کے ایگزیکٹ جعلی ڈگری سکینڈل ازخودنوٹس کی سماعت کے دوران ریمارکس

بول اشتہارنہیں لے رہا،پھر آمدن کہاں سے ہے؟چیف جسٹس کے ایگزیکٹ جعلی ڈگری ...
بول اشتہارنہیں لے رہا،پھر آمدن کہاں سے ہے؟چیف جسٹس کے ایگزیکٹ جعلی ڈگری سکینڈل ازخودنوٹس کی سماعت کے دوران ریمارکس

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں ایگزیکٹ جعلی ڈگری سکینڈل ازخودنوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ بول اشتہارنہیں لے رہا،پھر آمدن کہاں سے ہے؟،کیوں نہ بول کاآڈٹ کرالیں؟۔

دوران سماعت ڈی جی ایف آئی اے کہا کہ بول کے پاس پیسہ توہوگا،اس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ بول کہاں سے چل رہاہے،پیسہ کہاں سے آگیا؟ ایف بی آر سے ٹیکس ریٹرن منگوالیتے ہیں،

چیف جسٹس ثاقب نثارنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی عزت کے سواباقی تمام چیزیں ثانی ہیں،پتہ چلناچاہئے کہ اربوں روپے کہاں سے آرہے ہیں؟، چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ بول کے ملازمین کوتنخواہیں اداکی گئیں یانہیں؟۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے جرم ثابت ہوجائے،پھرجرم کے پیسے کابھی دیکھیں گے۔

وکیل پی بی اے نے کہا کہ جرائم کاپیسہ میڈیامیں لگایاجارہاہے،کمپنی کااثاثہ 70 لاکھ اورتنخواہیں کروڑوں میں دیتی ہے۔

اس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ پی بی اے کامعاملے سے کوئی تعلق نہیں بنتا،ایف بی آر سے ایگزیکٹ کمپنی کا آڈٹ کرالیں گے،پاکستان کی بدنامی نہیں ہونے دیں گے۔

وکیل پی بی اے نے کہا کہ میڈیا انڈسٹری اسٹیک پر ہے،اعلیٰ عدلیہ کے معزز جج نے کہا کہ کل شاہدمسعود نے بھی کہا کہ میڈیااسٹیک پر ہے،ضرورت پڑی تو پیمرا کوفریق بنائیں گے،سپریم کورٹ نے رکن ایف بی آرانکم ٹیکس کوطلب کرلیا۔ عدالت نے پی بی اے کی فریق بننے کی درخواست خارج کردی۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -