ختم نبوت حلف نامہ تبدیلی کیس اور اسلام آباد ہائی کورٹ کاتاریخ ساز فیصلہ

ختم نبوت حلف نامہ تبدیلی کیس اور اسلام آباد ہائی کورٹ کاتاریخ ساز فیصلہ
ختم نبوت حلف نامہ تبدیلی کیس اور اسلام آباد ہائی کورٹ کاتاریخ ساز فیصلہ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

9مارچ2018بروز جمعة المبار ک کے دن اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ختم نبوت حلف نامہ تبدیلی کیس کا تاریخ ساز فیصلہ سنایا۔الیکشن ایکٹ 2017بل میں ختم نبوت حلف نامہ میں تبدیلی کیس کی سماعت تقریباً 10 دن تک جاری رہی۔کیس کی سماعت کے دوران اسلام آباد عدالت عالیہ نے مختلف مکاتب فکر کے چار علماء کرام سمیت تین بڑے آئینی ماہرین کو بطور عدالتی معاونین طلب کیا۔جنہوں نے بھرپور طریقے سے ختم نبوت کی آئین اوردینی حیثیت کو عدالت کے سامنے پیش کیا۔

عدالت عالیہ اسلام آباد کے چیف جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے تاریخ ساز فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ دین اسلام اور آئین پاکستان مذہبی آزادی سمیت اقلیتوں (غیرمسلموں)کے تمام بنیادی حقوق کی مکمل ضمانت فراہم کرتاہے۔ریاست پر لازم ہے کہ ان کی جان ومال ،جائیداد اور عزت وآبرو کی حفاظت کرے اور بطور شہری ان کے مفادات کا تحفظ کرے۔آئین کی شق نمبر 5 کے مطابق ہرشہری کا بنیادی فرض ہے کہ وہ ریاست کا وفادار اورآئین وقانون کا پابند ہو۔یہ فریضہ ان افراد پر بھی لازم ہوتا ہے جو پاکستان کے شہری نہیں ،لیکن یہاں موجود ہیں۔اس کے علاوہ انہوں نے اپنے فیصلے میں تمام سرکاری ملازمین کے لیے ختم نبوت حلف نامہ لازمی کرنے کی تجویزد ی۔ان کا کہنا تھا کہ شناختی کارڈ،پیدائش سرٹیفیکٹ،پاسپورٹ، اور انتخابی فہرستوں میں مسلم اور غیر مسلم حلف نامہ کو لازمی قرار دیا جائے۔شناختی کارڈ میں مذہب چھپانے کو جرم قراردیاجائے۔نادرا کو فوری طور پرقادیانیوں کا مکمل ڈیٹا مرتب کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان تمام شہریوں کے مکمل کوائف مرتب کرے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ قادیانیوں کا خود کو مسلمان ظاہر کرنا ریاست سے دھوکہ دہی کے متراد ف ہے۔سول سروس افسران کی مذہب کے اعتبار سے عدم شناخت آئین پاکستان کی روح کے منافی ہے۔ریاست کے ہرشہری کو آئین وقانون کا وفادار ہونا ضروری ہے۔اسلامیات پڑھانے کے لیے مسلمان اساتذہ کی شرط لگانا ضروری ہے۔مذہب اسلام کے مطابق اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پارلیمنٹ کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ ختم نبوت ہمارے دین کی اساس ہے۔اس ضمن میں پارلیمان سے حساسیت اور بیداری کی توقع رکھنا مسلم اکثریت کا حق ہے۔ختم نبوت پر نقب لگانے والوں کی سازشوں کے مکمل سد باب کے لیے پارلیمنٹ کو ہنگامی اقدامات کرنے چاہیئں۔ختم المرسلین ﷺ کے بعد کوئی شخص جونبوت کا دعوی کرے،وہ جھوٹا،خائن اور دائرہ اسلام سے خارج ہے،اس عبارت کو آئین کے علامیہ کے طور پر پڑھا جانا چاہیے۔پارلیمان اس پر ضرور غور کریں۔

فاضل جج نے راجہ ظفر الحق کمیٹی رپورٹ کوتسلی بخش قراردیتے ہوئے کہا کہ اب یہ پارلیمان پر منحصر ہے کہ وہ راجہ ظفرا لحق کمیٹی رپورٹ پر مزید غوروفکر کرے یا اجتناب۔

واضح رہے کہ 2اکتوبر 2017 کو انتخابی اصلاحاتی بل میں ختم نبوت حلف نامہ میں تبدیلی کی مبینہ سازش سامنے آئی۔جس پر حکومت نے کسی بھی قسم کی تبدیلی سے انکار کیا،بعدازاں سپیکر قومی اسمبلی نے پارلیمانی رہنماو¿ں کے ساتھ میٹنگ میں ختم نبوت حلف نامہ میں تبدیلی کا اقرار کرتے ہوئے ختم نبوت حلف نامہ کو اپنی اصلی شکل میں بحال کردیا۔بعدازں ملک بھر میں ختم نبوت حلف نامے میں تبدیلی کے پیچھے چھپے اصل چہروں کو بے نقاب کرنے اور اس وقت کے وزیر قانون زاہد حامد کے استعفی کامطالبہ زور پکڑنے لگا۔لیکن حکومت نے ان مطالبات کو سیریس نہ لیا،جس پر فیض آباد دھرنا ہوا اور وطن عزیز پاکستان کا بے پناہ جانی مالی نقصان ہوا۔فیض آباد دھرنے میں حکومت نے ناکامی تسلیم کرتے ہوئے وزیرقانون زاہد حامد کو مستعفی کردیا اور راجہ ظفرالحق کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنادی۔جس نے 20دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کا قوم سے وعدہ کیا۔لیکن وہ رپورٹ لگ بھگ تین ماہ گزرنے کے بعد عدالت کے بار بار مطالبہ کرنے کے بعد سربمہر اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش کی گئی۔جسے عدالت نے تسلی بخش قراردیتے ہوئے پارلیمان کو مزید غوروفکر کرنے کی تجویز دی۔

ایک طرف اسلام آباد عدالت عالیہ کا ختم نبوت پر تاریخ ساز شاندارفیصلہ ہے ،جسے پورے پاکستان میں سراہا جارہاہے۔دوسری طرف نظریہ پاکستان اور آئین پاکستان کے مخالفین ہیں جو اس فیصلے کے خلاف سیخ پا ہیں۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جب عدالت نے پاکستان سینٹ میں الیکشن ایکٹ 2017بل میں ختم نبوت حلف نامے کے حوالے سے ریکارڈ منگوایا تو سینٹ کے سابق چیئرمین رضا ربانی نے عدالت کے اس اقدام کو آئین سے متجاوز قراردیا اور خوامخواہ فاضل جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی پرسپیکر قومی اسمبلی کو نوٹس دینے کا الزام لگایا۔جس کی تردید فاضل جج نے خود اپنے بیان میں کی۔ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے سینٹ سے ختم نبوت حلف نامے میں تبدیلی کی وہ معلومات مانگی ہیں جو سینٹ کی ویب سائٹ پر بھی موجود ہیں۔اگر یہ معلومات مانگنا خلاف آئین ہے تو پھر ان معلومات کو سینٹ کی ویب سائٹ سے بھی ہٹادینا چاہیے۔

یادرہے 22ستمبر 2017کو پہلی بار ختم نبوت حلف نامہ میں تبدیلی کا معاملہ سینٹ میں اس وقت پیش آیا جب سابق سنیٹر حافظ حمداللہ نے سینٹرز کو توجہ دلائی کہ ختم نبوت حلف نامے میں تبدیلی ہوئی ہے ،اسے پہلے کی طرح بحال کیا جائے۔لیکن ایوان بالامیں حافظ حمداللہ کے توجہ دلاو¿ نوٹس پر کوئی توجہ نہ دی گئی اور ختم نبوت حلف نامہ میں تبدیلی کو برقراررکھا گیا جو بعدازاں 2 اکتوبر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں اس زور سے اٹھاکہ پورا پاکستان ختم نبوت حلف نامہ میں تبدیلی پر سڑکوں پر نکل آیا۔جس کے بعد جو حالات ہوئے وہ سب کے سامنے ہیں۔

بہرحال حقیقت یہ ہے کہ ختم نبوت دنیابھر کے مسلمانوں کا ایک ایسا عقیدہ ہے جس پر ہر مسلمان قربان ہونے کے لیے تیار ہے۔بالخصوص پاکستان کے مسلمان خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں اس قدر حساس ہیں کہ کوئی ادنٰی سے ادنٰی مسلمان بھی آپﷺ کے بارے ذرہ برابر بھی کوتاہی برداشت نہیں کرسکتا۔اس کے باوجود کچھ شرپسند عناصر جو وطن عزیز پاکستان میں فسادات کی آگ لگاکر پاکستان کو کمزور کرنا چاہتے ہیں ،وقتاً فوقتاً ختم نبوت اور قانو ن توہین رسالت جیسے حساس قوانین کے ساتھ چھیڑخانی کرتے رہتے ہیں۔ان شرپسندوں میں کچھ لوگ وہ بھی ہیں جوآئین پاکستان کی 1974سے توہین کرتے آرہے ہیں جو آج بھی آئین پاکستان کو محض ردی کا غذ کہتے ہیں،لیکن اس کے باوجود اپنی شناخت چھپاکر پاکستان کے مسلمانوں کی اسلامی شناخت کو مجروح کرنے کے ساتھ ان کے سرکاری اداروں میں ملازمتوں کے حقوق بھی غصب کرتے ہیں۔اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے تمام ادارے ختم نبوت اور قانون توہین رسالت جیسے حساس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کریں اور بیدار مغز رہیں۔ایسا نہ ہو کہ قومی اسمبلی اور سینٹ سے ختم نبوت کے حساس مسئلے کے ساتھ چھیڑ خانی کی گئی مگر کسی کو خبر تک نہ ہوئی۔اس لیے اب پاکستان میں قانون ختم نبوت اور قانون توہین رسالت پر ایسی قانون سازی کی جائے کہ ان پر بات کرنا سخت ترین جرم ہو،اور جوکوئی ان قوانین کو نہ مانے اسے کڑی سزادی جائے۔تاکہ آئندہ کسی کو پاکستان کا امن وامان خراب کرنے کی جرات ہو اور نہ ہی خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر پاکستان کے مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کی ہمت ہو۔

..

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ