حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر35

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر35
حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر35

  

الوداع مکہ

ہماری ہجرت کا ایک پہلو ایسا بھی تھا جس پر ہماری نظرنہ تھی۔ مکے سے چلے ہوئے ہمیں چھٹا دن تھا کہ صحرا میں ہماری ملاقات حمزہؓ سے ہوئی۔

انہوں نے ہمیں جو خبر سنائی، اُس کے لئے ہم بالکل تیار نہیں تھے۔ حمزہؓ نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک سارے مسلمان ہجرت نہیں کر جاتے، وہ مکے ہی میں قیام فرمائیں گے۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

ہم اس سوچ میں پڑ گئے کہ کفارِ مکہ کا سارا عناد تو انہی سے ہے۔ دشمن اُن سے فارغ ہوتے تھے تو ہم کو تختہ مشق بناتے تھے۔ جب چھتے کی ملکہ ہی اُن کے پاس ہے تو شہد کی مکھیوں کی انہیں کیا پرواہ۔ وہ جہاں چاہیں اُڑتی پھریں۔ اب صورتِ حال کا جو نقشہ ہمارے ذہن میں اُبھر اوہ یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ قاتلوں اور دشمنوں میں کھلے عام پھر رہے ہیں اور جان کا خطرہ مول لے کر تن تنہا مسلمانوں کی ہجرت کا بندوبست کر رہے ہیں۔ یہ بے خوفی یقیناً اللہ کی دین تھی مگر ہم سوچتے تھے کہ اُن کو اس طرح غیر محفوظ پا کر مشرکینِ مکہ کے زرخیز ذہنوں میں کیسے کیسے منصوبے نہیں آتے ہوں گے۔ اُن کے سرپرست مطعم بن عدی کا بھی انتقال ہو گیا تھا۔ جب تک وہ زندہ تھے، ہزار مخالفت کے باوجود کسی کو اُن کی طرف دیکھنے کی جرأت نہیں تھی۔

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر34 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مکے میں جو کچھ ہوا اس کا علم تو ہمیں بعد میں ہوا لیکن اس کا ذکر یہیں برمحل ہو گا۔ مکے کے امراء نے ابوجہل کے ایما پر واقعی اللہ کے رسولؐ کو شہید کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ ایک نہایت جامع منصوبہ جس میں ابوجہل کی تمام مکاری، تمام چابک دستی، تمام فطانت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ یہ ایسا منصوبہ تھا جسے ابوجہل کے شرپسند اور فتنہ پرور ذہن کا شاہکار کہا جا سکتا ہے۔ آنحضرتؐ بھی راستے سے ہٹ جاتے تھے۔ اور الزام بھی کسی پر نہیں آتا تھا۔

تجویز یہ تھی کہ سات قبیلوں کے سات آدمی، اپنے اپنے قبیلے سے ایک ایک نیزہ لے کر جائیں اور رسول اللہ ﷺ کے جسم میں پیوست کر دیں۔ اس طرح قتل کی ذمے داری نہ کسی ایک قبیلے پر آئے گی اور نہ کسی فردِ واحد پر۔ مکے کے قانون کے مطابق قاتل کو ڈھونڈ کر اُسے قتل کرنا لازم تھا لیکن اس تجویز میں کسی کے قاتل ٹھہرائے جانے کا امکان ہی نہیں تھا۔ سات قبیلوں کے آدمی اگر مل کر کسی کو قتل کر دیں تو محمدؐ کا خون کئی قبیلوں پر تقسیم ہو جائے گا اور اُن سب سے بدلہ لینا ناممکن ہو گا۔ یہ ایسا منصوبہ تھا گویا خود ابلیس نے مرتب کیا ہو۔

لیکن ہوا یہ کہ اُس رات سات نیزے بلند ضرور ہوئے مگر اُٹھے کے اُٹھے رہ گئے، کسی کو مارے نہیں جا سکے۔ حضورؐ کے بستر پر علیؓ سو رہے تھے اور وہ خود ہجرت فرما چکے تھے۔ مکہ چھوڑنے سے قبل وہ سب کی امانتیں واپس کرناچاہتے تھے، اس لئے کہ وہ الامین تھے۔ ان میں سے کئی امانتیں کفار کی بھی تھیں جو تمام اختلافات کے باوجود اب بھی انہیں امین سمجھتے تھے۔ الامین نے ساری امانتیں علیؓ کے سپرد کر دیں کہ اُن کی روانگی کے بعد لوگوں کو واپس کر دیں۔ وہ خود واپس کرتے تو سارے مکے کو اُن کے جانے کی خبر ہو جاتی اور وہ انہیں ہرگز زندہ نہ چھوڑتے۔ نہ واپس کرنے کا تو مکے کے امین کے یہاں سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔ یہ تھا پس منظر اُس رات کا جب علیؓ اُن کے بستر پر سوتے ہوئے پائے گئے تھے۔

جس وقت اُن کے گھر میں نیزے لہرا رہے تھے، وہ خود مکے سے باہر جا چکے تھے مگر ابھی خطرے سے باہر نہیں تھے۔ ابوجہل کو اُن کی ہجرت کی اطلاع ملی تو اُس نے قریش کے سرداروں کو بھڑکا کر اُن سب کی طرف سے یہ اعلان کروا دیا کہ جو محمدؐ کو زندہ یا مُردہ مکہ لے کر آئے گا اُسے سو اونٹ انعام میں دئیے جائیں گے۔ ایک سو اونٹ بہت بڑا نعام تھا۔ مکے کے سارے گھڑ سوار محمدؐ کی کھوج میں صحرا میں پھیل گئے۔ انعام کے علاوہ کفار کی مردم آزار طبیعت کے لئے محمدؐ کو ان حالات میں ڈھونڈ نکالنا بڑی دلچسپ مہم بھی تھی۔ 

محمدؐ ، ابوبکرؓ اور اُن کے بیٹے عبداللہؓ کے ساتھ مکے سے روانہ ہوئے تو مدینے جانے کے لئے انہوں نے کھلے صحرا کا انتخاب نہیں کیا۔ قریش کے پھیلائے ہوئے جال میں وہ راستہ اختیار کرنا قطعی نامناسب تھا۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے شمال کی طرف جانے کی بجائے پہلے جنوب کی طرف گئے اور غارِ ثور میں پناہ لے لی۔ بے شک اللہ بڑا حکمت والا ہے! عبداللہؓ انہیں غار تک پہنچا کر واپس مکہ آ گئے۔ وہ ہر روز رات کے وقت غارِ ثور جاتے، انہیں کھانا پہنچاتے اور شہر کی خبریں سناتے۔

سو اُونٹ بہرحال سو اونٹ ہوتے ہیں۔ یہ انعام چھوڑنے والا نہیں تھا۔ ویسے تو ہر صحرا نورد ریت پر نشان دیکھ کر صورتِ حال کا جائزہ لینے کا پیدائشی ماہر ہوتا ہے مگر اُن دنوں اتفاق سے مکے میں ایک نہایت ماہر کھوجی آیا ہوا تھا۔ میری طرح حبشہ کا رہنے والا سیاہ فام۔ صحرائے عرب میں اُس کی صلاحیتوں کا بڑا شہرہ تھا۔ کہتے ہیں وہ ہوا کو سونگھ کر اُڑتے ہوئے پرندوں کی خبر دے دیا کرتا تھا۔ پتھروں پر قدموں کے نشان دیکھ لیتا تھا۔ اُس کے دوست تو کہا کرتے تھے کہ وہ ہوا کو دیکھ بھی سکتا ہے۔ جب سب لوگ شمال کی طرف نکل پڑے تو یہ کھوجی واحد شخص تھا جو مخالف سمت میں جنوب کی طرف گیا۔ ابوجہل، اُمیہ اور اُن کے ساتھی جنہوں نے اُس کی خدمات حاصل کی تھیں، اُسے حیرت سے دیکھ رہے تھے مگر وہ ایک ہی فقرہ کہے جاتا تھا:

’’میں خود نہیں جا رہا۔ کسی کے قدموں کے نشان مجھے ادھر لئے جا رہے ہیں‘‘۔ ابوبکرؓ نے یہ انتظام کر رکھا تھا کہ ہر روز اُن کے آزاد کردہ غلام عامر بن فہیرہؓ اُن کی بھیڑیں لے کر غارِ ثور تک جاتے اور واپس مکے آ جاتے۔ اس طرح بھیڑوں کے ریوڑ سے عبداللہؓ کی آمدورفت کے نشان مٹ جاتے۔ ہجرت کی شب بھی عامرؓ اپنی بھیڑوں کا گلہ پیچھے پیچھے لے کر گئے تھے مگر کھوجی نے بھیڑوں کے چھوٹے چھوٹے نشانوں میں اونٹوں کے کچھ بڑے بڑے نشان بھی دیکھ لئے تھے۔(جاری ہے )

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر36 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /حضرت بلال