وہ کون تھا ؟ایک خنّاس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ دوسری قسط

وہ کون تھا ؟ایک خنّاس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ دوسری قسط
وہ کون تھا ؟ایک خنّاس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ دوسری قسط

  

حسنان نے شیشے سے باہر جھانک کے زوردار نعرہ لگایا۔ ’’بس اب کھیل ختم، پہاڑی سلسلہ شروع ہو چکاہے۔Lets enjoy itمجھے یہ سب بہت پسندہے۔‘‘

اریبہ نے مسکراتے ہوئے لمبا سانس کھینچا۔ ’’دل چاہتا ہے کہ قدرت کے بنائے ان دلفریب مناظر کو آنکھوں میں جذب کر لوں۔‘‘

دیوہیکل پہاڑوں پر لگے چیڑ کے درخت جیسے آسمان کی بلندیوں کوچھو رہے تھے۔کچھ فاصلے کے بعد بس ایک ناہموار تنگ سڑک پر گولائی میں چکر کاٹتی ہوئی پہاڑی پر چڑھنے لگی۔

’’سانپ کی طرح لہریں بناتی ہوئی سڑک کو پیچھے چھوڑ کر ہم آسمان کو چھو رہے ہیں۔‘‘ ایک لڑکے نے ونڈو سکرین کی طرف دیکھتے ہوئے نعرہ لگایا۔

پہاڑی سلسلوں کا پر لطف سفر سبھی لڑکے لڑکیوں کے لیے خوشی بھری تفریح کا باعث تھا۔ تقریباً سبھی قدرت کے ان شاہکاروں کی پراسرار خوبصورتی میں محو تھے۔پرمزہ ہونے کے ساتھ ساتھ یہ سفر انتہائی پر خطر بھی تھا۔ کچھ سفر کے بعد اب بس بلند ترین چڑھائیوں کی طرف رواں دواں تھی۔

وہ کون تھا ؟ایک خنّاس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ پہلی قسط  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ونڈو سکرین سے کھائیوں کی طرف دیکھتے تو سر چکرا جاتا۔پروفیسر حسنان نے اسٹوڈنٹس سے کہا’’یہاں پر لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہوتا ہے اور یہ راستہ بھی دشوار گزار ہے۔ خاص طور پر ایک بھری ہوئی بس کے لیے ،اس لیے تم سب درود شریفک کا ورد کرتے رہو۔‘‘

بلند ترین چڑھائیوں کے بعد مری سے پہلے آنے والے چھوٹے چھوٹے قصبوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ پہاڑوں پر لوگوں کے بیترتیب گھروں کی آبادی حیران کن تھی۔ کہیں گھر پہاڑوں کی چوٹیوں پر دھائی دیتے اور کہیں کھائیوں میں پہاڑوں کے کناروں پر آویزاں دکھائی دیتے۔ جس علاقے سے ان کی بس گزر رہی تھی وہ بلند ترین پہاڑی سلسلہ تھا۔ 

خیام اور فواد نے اپنے اپنے بیگ سنبھالے اور بس کے دروازے کے قریب بس کا راڈ پکڑ کے کھڑے ہوگئے۔

’’تم لوگ اپنی سیٹ پر بیٹھ جاؤ یہ سفر اس طرح کھڑے ہو کر کرنے والا نہیں ہے۔‘‘ حسنان نے ان دونوں سے کہا۔

خیام نے دھیرے سے پوچھا۔ ’’یہ پڑوکسل کا علاقہ ہے؟‘‘

’’ہاں‘ حسنان نے سرسری سا جواب دیا۔ خیام کے قریب یٹھے ہوئے لڑکے نے مضحکہ آمیز انداز میں کہا۔ ’’کیوں؟ تم نے یہاں سے چھلیاں لینی ہیں۔‘‘

سارے اسٹوڈنٹس ہنس پڑے وشاء اور حوریہ بھی خیام اور فواد کے ساتھ کھڑی ہوگئیں۔ اس بار انہیں مس اریبہ نے ڈانٹا۔ ’’تم لوگوں کو بات سمجھ نہیں آتی۔ جاؤ جا کے اپنی اپنی سیٹس پر بیٹھو۔‘‘

فواد کے چہرے پر مکروہ مسکراہٹ بکھر گئی جس کے ساتھ ہی اس نے چلتی ہوئی بس کا دروازہ کھول دیا۔ پھر ان چاروں نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے گہری کھائی میں اس طرح چھلانگ لگا دی جیسے انہوں نے پیرا شوٹ باندھ رکھے ہوں اور انہیں گرنے کا خطرہ نہ ہو۔

’’روکو۔۔۔گاڑی روکو‘‘ پروفیسر حسنان نے چلا کر ڈرائیور سے کہا۔

ڈرائیور نے ایمرجسنی بریک لگائی اور بس کے کنارے پر زور دار جھٹکے سے جا رکی۔

’’پروفیسر صاحب اس سڑک پر بس روکنا انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔ ہمارے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی۔‘‘

’’مگر ہمارا اس جگہ اترنا ضروری ہے تم ایسا کرو کہ مجھے اور اریبہ کو اور تین لڑکوں کو ادھر چھوڑ دو۔ باقی طالب علم گاڑی میں ہی بیٹھے رہیں۔ دو کلو میٹر کے فاصلے پر ہوٹل ہے۔ وہاں اسٹوڈنٹس کو چھوڑ کر واپس آنا۔‘‘

جیسا پروفیسر حسنان نے کہا۔ ڈرائیور نے وسیا ہی کیا۔

پروفیسر حسنان اریبہ کے ساتھ عارفین ، حیدر اور بلال وہیں اتر گئے۔

اس اچانک پریشانی نے پروفیسر اور اریبہ کے ہوش اڑا دیئے۔ٹرپ کے ساتھ جانے کی ساری خوشی ہوا ہوگئی۔ وہ پانچوں سڑک کے ساتھ پہاڑی سلسلے میں بکھر گئے۔

’’وہ چاروں انسان تھے یا آسیب، اس کھائی میں کس طرح کھو گئے۔ یہاں تو اس قدر گہرائی اور خوفناک پہاڑ ہیں کہ کوئی زندہ ہی نہیں بچ سکتا۔‘‘ حسنان نے چاروں طرف نظر دوڑائی۔

عارفین، حیدر اور بلال بھی تھک ہار کے واپس آگئے۔

’’سر ان چاروں کا کچھ پتہ نہیں چلا۔ ہمیں تو لگتا ہے ان چاروں نے خودکشی کی ہے۔‘‘ عارفین نے اپنی پھولی ہوئی سانس کے ساتھ اپنی رائے دی۔

اریبہ تذبذب کی کیفیت میں بولی۔’’تم لوگوں کا دماغ خراب ہوگیا ہے۔ وہ یہاں کیا خودکشی کرنے آئے تھے۔‘‘

حسنان جو فرسٹریشن میں ادھر ادھر ٹہل رہا تھا چڑ کر بولا۔ ’’اگر خودکشی کرنی بھی تھی تو ہمارے ساتھ آنے کی کیا ضرورت تھی۔ کہیں پر بھی اپنا شوق پورا کر لیتے۔ اب ہم یونیورسٹی والوں کو اور ان چاروں کے پیرنٹس کو کیا جواب دیں گے۔‘‘

’’حسنان باتیں کرکے وقت برباد نہ کرو۔ ہمیں پولیس اور ریسکیوکی مدد لینی ہوگی۔‘‘ حسنان نے اریبہ کی بات سنتے ہی پولیس اور ریسکیو کے نمبر ملائے اور ان سے مدد مانگی۔اریبہ نے ان چاروں اسٹوڈنٹس کے والدین کو فون کرکے ساری صورت حال بتائی اور یونیورسٹی کے پرنسپل کو بھی ساری صورتحال سے آگاہ کیا۔

یہ خبر ملتے ہی ان چاروں کے والدین نے کہرام برپا کردیا۔

پروفیسر حسنان اریبہ سے جھگڑ پڑا۔’’ابھی یہ خبر بتانے کی کیا ضرورت تھی۔ فون کالز کی وجہ سے ہم اپنا کام ٹھیک طرح سے نہیں کر پائیں گے۔‘‘

’’یہ خبر سننے کے بعد ان لوگوں کا ردعمل کچھ بھی ہو مگر انہیں حالات سے آگاہ کرنا ضروری تھا۔ ’’تم پولیس اور ریسکیو سے رابطہ کرو۔‘‘ اریبہ نڈھال ہو کر بڑے سے پتھر پر بیٹھ گئی۔

حسنان بھی اس کے قریب بیٹھ گیا۔ ’’یہ واقعہ ایسی جگہ پر ہوا ہے کہ جب تک ریسکیو یا پولیس یہاں تک پہنچے گی بہت دیر ہو چکی ہوگی۔‘‘

’’کتنی ہی دیر کیوں نہ لگ جائے وہ چاروں ملیں یا نہ ملیں لیکن ہمیں ان کی تلاش میں کوئی کمی نہیں چھوڑنی ہوگی۔‘‘

اریبہ کی بات سنتے ہی حسنان نے ریسکیو سے رابطہ کیا۔

اس کیبعد وہ اریبہ سے گویا ہوا۔’’میں نے فون کر دیا ہے تھوڑی دیر تک ریسکیو کی ٹیم روانہ ہو جائے گی۔ ہم سب مل کر ان چاروں کو ڈھونڈیں گے۔ ہمیں دوسرے اسٹوڈنٹس کا بھی خیال رکھنا ہوگا۔ میں ڈرائیور سے کہہ دیتاہوں وہ تمہیں لے جائے گا۔‘‘

’’میں تمہارے پاس ہی رکوں گی۔‘‘

’’سمجھا کرو دوسرے اسٹوڈنٹس کے پاس بھی کسی کو ہونا چاہئے۔‘‘

حسنان نے ڈرائیور کو فون کیا۔ تقریبا آدھے گھنٹے کے بعد ڈرائیور وہاں پہنچ گیا۔ حسنان کے کہنے پر وہ کچھ کھانے پینے کی اشیاء بھی لے آیا تھا۔

اریبہ اس کے ہمراہ چلی گئی۔(جاری ہے )

وہ کون تھا ؟ایک خنّاس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ تیسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

۔۔۔

وجیہہ سحرکو پراسرار کہانیاں اور ناول لکھنے کا ملکہ حاصل ہے ۔ان دنوں ان کا ایک پراسرار ڈرامہ” سایہ“ جیو ٹی وی پر آن ائر ہو رہا ہے ۔وہ سماجی مسائل کے پس منظر میں ماورائی دنیا کا ایساتانا بانا بُنتی ہیں کہ قاری انکی کہانی کے کرداروں میں کھو کر رہ جاتا اور ہر کسی کووہ کہانی اپنی لگتی ہے۔ ڈیلی پاکستان کے قارئین کے لئے ان کاتحریر کردہ ناول ”خنّاس “ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔۔۔۔

مزید : کتابیں /وہ کون تھا ؟