کاریں بنانے والی کمپنی کا پاکستانی پٹرول پمپس پر دستیاب تیل سے انجن کو نقصان پہنچنے کا دعویٰ ، اوگرا نے تیل کے نمونے حاصل کرکے ٹیسٹ کیے تو کیا نتیجہ نکلا ؟ جان کر پاکستانیوں کی پریشانی کی انتہاءنہ رہے گی کیونکہ۔۔۔

کاریں بنانے والی کمپنی کا پاکستانی پٹرول پمپس پر دستیاب تیل سے انجن کو نقصان ...
کاریں بنانے والی کمپنی کا پاکستانی پٹرول پمپس پر دستیاب تیل سے انجن کو نقصان پہنچنے کا دعویٰ ، اوگرا نے تیل کے نمونے حاصل کرکے ٹیسٹ کیے تو کیا نتیجہ نکلا ؟ جان کر پاکستانیوں کی پریشانی کی انتہاءنہ رہے گی کیونکہ۔۔۔

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن )آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی ’اوگرا‘نے تصدیق کردی ہے کہ پاکستان میں ملنے والا پیٹرول گاڑیوں کے انجن خراب کر رہا ہے ۔ کاریں بنانے والی معروف کمپنی ہنڈا نے 2017میں اوگرا کو شکایت کی تھی کہ آئل کمپنیاں پیٹرول میں ملاوٹ کر رہی ہیں جس سے کاروں کا انجن متاثر ہو رہا ہے ۔ہنڈا نے بتا یا کہ آئل کمپنیاں اوگرا کے معیار پر پورا اترنے کے لیے پیٹرول میں منگنیز کی ملاوٹ کر رہے ہیں۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پرانی کمپنیوں کا معیار گرجانے کی وجہ سے اب کچھ نئی کمپنیاں بھی پاکستان میں کام شروع کررہی ہیں جن میں سےایک نام ’’ یوروآئل‘‘ بھی ہے ۔ 

نیوزویب سائٹ پروپاکستانی کے مطابقاس حوالے سے اوگرا نے مختلف آئل کمپنیوں کے پیٹرول کے نمونے ٹیسٹ کرائے تو انکشاف ہوا کہ امپورٹرز اور ریفائنریز پیٹرول کا معیار بڑھانے کے لیے کیمیلز کا استعمال کر رہی ہیں ۔اوگرا اور ہائیڈرو کاربن ڈیویلپمنٹ انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے ٹیسٹ میں انکشاف ہوا کہ پیٹرول میں بہت زیادہ مقدار میں کیمیکلز ملائے جا رہے ہیں ۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ پیٹرول میں کیمیکلز کی مقدار نہ صرف گاڑیوں کے انجنوں بلکہ ماحول اور انسانی صحت کے لیے بھی خطرناک ہیں ۔بتا یا گیا کہ امپورٹرز اور آئل کمپنیوں کی طرف سے پیٹرول میں کیمیکلز اس لیے ملائے جاتے ہیں تاکہ کم قیمت پر ریسرچ آکٹین نمبر ’رون‘ ویلیو کو بڑھا یا جا سکے ۔

ہنڈا کمپنی نے اپنے نئے ماڈل کی گاڑیوں کی بکنگ روکتے ہوئے اوگرا کو یہ شکایت کی تھی ،ان کا کہنا تھا کہ ناقص پیٹرول کی وجہ سے انجن میں نوکنگ شروع ہو جاتی ہے اور سینسر فیل ہو جاتا ہے ۔ٹیسٹ کے دوران منگنیز اور آئرن کی ملاوٹ کے ثبوت ملے ۔

ہیسکول پیٹرولیم نے بھی ہنڈا کمپنی کے دعوے کی حمایت کی اور کہا کہ بہت سی ریفائنریز رون ویلیو بڑھانے کے لیے نقصان دہ کیمیکلز استعمال کر رہی ہیں ۔دیگر کمپنیوں کا کہنا ہے کہ ہیسکول ہم سے مقابلے میں سبقت لے جانے کے لیے یہ بیان دے رہی ہے اور ہیسکول بھی اسی طریقے سے پیٹرول بناتی ہے ۔

مزید : بزنس