شہباز شریف نے ن لیگ کا صدر منتخب ہوتے ہی عمران خان کو جس شعر سے طعنہ مارا وہ شعر دراصل ایک ایسے شاعر کالکھا ہوا ہے جو کہ ۔۔۔

شہباز شریف نے ن لیگ کا صدر منتخب ہوتے ہی عمران خان کو جس شعر سے طعنہ مارا وہ ...
شہباز شریف نے ن لیگ کا صدر منتخب ہوتے ہی عمران خان کو جس شعر سے طعنہ مارا وہ شعر دراصل ایک ایسے شاعر کالکھا ہوا ہے جو کہ ۔۔۔

  

لاہور(ایس چودھری )عہد حاضر میں میاں شہباز شریف کو سب سے جوشیلا اور شعلہ بیاں مقرر بھی کہا جانے لگا ہے جو شعروں کی مدد سے اپنا مافی الضمیر بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے مخالفو ں کو ادب سے مارمارتے ہیں۔ان کے انداز خطابت سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ مطالعہ کے شوقین ہیں اور ادب سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں اوریہ بات حقیقت بر مبنی بھی ہے ۔انہیں علامہ اقبال،غالب کے بے شمار اشعار یاد ہیں جو موقع کی مناسبت سے جلسوں میں بولتے ہیں تو انہیں بے پناہ داد بھی ملتی ہے۔میاں شہباز شریف دیگراشعار کے ساتھ ساتھ حسب موقع جب بھی کسی مخالف پرگہرا وارکرنے کے لئے شاعرانہ مار مارنا چاہتے ہیں تو یہ شعر ’’رخ روشن کا روشن ایک پہلو بھی نہیں نکلا‘‘ اکثر سنادیتے ہیں ۔ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ اکثر یہ شعر غلط پڑھااور لکھا بھی جارہا ہے ۔اب تک میاں صاحب بہت سے جلسوں میں یہ شعر سناچکے ہیں۔ انہوں نے مسلم لیگ ن کا باقاعدہ صدر منتخب کئے جانے کی تقریب کے دوران مسلم لیگ ن کی قیادت اور کارکنوں سے خطاب کے دوران عمران خان پر کڑی تنقیدکی تو حسب معمول جوش خطابت سے اس شعر کا طعنہ مارکرمحفل لوٹ لی مگر اس شعر کی مدد سے اپنی قوت اظہار کامظاہرہ کرتے ہوئے وہ شعر کے خالق کو داد نہیں دے پائے ۔ممکن ہے میاں شہباز شریف اس شعر کے خالق کونہ جانتے ہوں کیونکہ اپنے خطاب کے دوران وہ اقبال ا ور غالب کے اشعار سنانے سے پہلے ان کا نام تو لیتے ہیں لیکن اپنے پسندیدہ اور حربی شعر’’ رخ روشن کا روشن کوئی پہلو بھی نہیں نکلا‘‘ کے خالق کا نام نہیں لے پاتے ۔حقیقت یہ ہے کہ اس شعر کا خالق اردوادب کا مایہ ناز شاعر اقبال ساجد ہے جس نے ہجرت کے بعد لاہور میں قیام کیا اور اپنے منفرد شعری ادب سے سب کو حیران کردیا تھا۔ اقبال ساجد پر زمانے نے بڑا ستم کیا ،وہ کچھ عرصہ ریڈیو پر اناونسر بھی رہا،کالم نویسی بھی کی ۔معروف بات ہے کہ اپنی غربت کی وجہ سے اپنی غزلیں بیچ دیا کرتا تھا اور شاعری میں معروف شعروں سے شہرت پانے والوں نے اس سے اشعار بھی خریدے تھے۔کسمپرسی اور شراب اس شاعر کو لے ڈوبی،لیکن مرنے سے پہلے وہ ادبی اثاثہ چھوڑگیا جس پر بندر بانٹ بھی ہوئی،اسکے شعر چرالئے گئے۔ساغر صدیقی کی طرح اسکا ادبی اثاثہ ابھی تک لوٹا جارہا ہے اور اس عظیم شاعر کو گمنامی کی تاریخ میں دفن کیا جارہا ہے۔

  ۸۸ء میں وفات پانے کے بعد  اقبال ساجد کو میانی صاحب میں دفن کیا گیا ۔وزیر اعلٰی پنجاب میاں شہباز شریف کو اس شعر کی رائلٹی کے طور پر ہی اقبال ساجد کی ادبی خدمات پر یاد گار قائم کرنی چاہئے ۔جس شعر سے ان کا قد بڑھتا ہے،اس شعر کے خالق کا بھی ان پر حق بنتا ہے ۔یہ شعر اقبال ساجد کی مشہور زمانہ غزل کا مطلع ہے ۔آپ بھی پوری غزل پڑھئے اور آخر میں اقبال ساجد کی زبانی یہ غزل بھی سنئے جو ڈیجیٹل آرکائیو میں محفوظ ہے،آپ کو سرور آجائے گا ۔ 

رخ روشن کا روشن کوئی پہلو بھی نہیں نکلا 

جسے میں چاند سمجھا تھا وہ جگنو بھی نہیں نکلا 

وہ تیرا دوست جو پھولوں کو پتھرانے کا عادی تھا 

کچھ اس سے شعبدہ بازی میں کم تو بھی نہیں نکلا 

ابھی کس منہ سے میں دعویٰ کروں شاداب ہونے کا 

ابھی ترشے ہوئے شانے پہ بازو بھی نہیں نکلا 

گھروں سے کس لیے یہ بھیڑ سڑکوں پر نکل آئی 

ابھی تو بانٹنے وہ شخص خوشبو بھی نہیں نکلا 

شکاری آئے تھے دل میں شکار آرزو کرنے 

مگر اس دشت میں تو ایک آہو بھی نہیں نکلا 

تری بھی حسن کاری کے ہزاروں لوگ ہیں قائل 

گلی کوچوں سے لیکن اس کا جادو بھی نہیں نکلا 

بتا اس دور میں اقبال ساجد کون نکلے گا 

صداقت کا علم لے کر اگر تو بھی نہیں نکلا 

۔۔

اقبال ساجد کی زبانی یہ غزل سنئے 

مزید :

ڈیلی بائیٹس -