ایسا آئینی استحقاق جو نو منتخب چیئرمین سینیٹ کبھی استعمال نہیں کر سکیں گے

ایسا آئینی استحقاق جو نو منتخب چیئرمین سینیٹ کبھی استعمال نہیں کر سکیں گے
ایسا آئینی استحقاق جو نو منتخب چیئرمین سینیٹ کبھی استعمال نہیں کر سکیں گے

  

تجزیہ :سعید چودھری 

نومنتخب چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کم عمر ترین سیاستدان ہیں جنہوں نے یہ عہدہ سنبھالا ہے ۔ایک طرف انہوں نے کم عمر ترین چیئرمین سینیٹ منتخب ہونے کا اعزاز حاصل کیا ہے تو دوسری طرف ملک کا اعلیٰ ترین عہدہ سنبھالنے کے حوالے سے ایک آئینی سوال پیدا ہوگیا ہے کہ وہ صدر کی عدم موجودگی میں کبھی قائم مقام صدر نہیں بن سکتے ۔صادق سنجرانی 14اپریل1978ءکو پیدا ہوئے ،اس طرح ان کی عمرتقریباً 39سال 11ماہ بنتی ہے جبکہ صدر کے لئے ضروری ہے کہ اس کی عمر 45سال سے کم نہ ہو۔کیا آئینی طور پر وہ قائم مقام صدر بننے کے اہل نہیں ہیں ؟آئین کے آرٹیکل 62(1)بی کے مطابق قومی اسمبلی کے رکن کی کم ازکم عمر 25سال ہونی چاہیے جبکہ آرٹیکل62(1)سی کے تحت یہ ضروری قرار دیا گیا ہے کہ سینیٹ کے رکن کی عمر 30سال سے کم نہ ہو ۔آئین میں سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کے لئے عمر کی کوئی حد مقرر نہیں ہے ۔ارکان اسمبلی اور سینیٹ کے اراکین اپنے میں سے کسی کو بھی سپیکر یا پھر جیسی صورت ہو چیئرمین منتخب کرسکتے ہیں ۔آئین کے تحت صدر کی اہلیت کی جو شرائط طے ہیں ان کے تحت 45سال سے کم عمر کا کوئی شخص صدر پاکستان کے عہدہ پر براجمان نہیں ہوسکتا۔آئین کے آرٹیکل41(2)میں کہا گیا ہے کہ ایک شخص بطور صدر انتخاب کے لئے اہل نہ ہوگا تا وقتیکہ وہ 45سال کی عمر کا ایک مسلمان اور قومی اسمبلی کے رکن کے طور پر منتخب ہونے کا اہل نہ ہو۔یہ ایک طے شدہ آئینی اصول ہے کہ کسی عہدے کے قائم مقام کے لئے بھی اہلیت کی وہی شرائط ہوں گی جو مستقل عہدیدار کے لئے مقرر ہیں۔دوسرے لفظوں میں کوئی غیر مسلم پاکستان کا قائم مقام صدر نہیں ہوسکتا۔اسی طرح کوئی ایسا شخص جس کی عمر 45سال سے کم ہو وہ قائم مقام صدر کا عہدہ نہیں سنبھال سکتا ۔آئین میں درج ہے کہ صدرکی عدم موجودگی میں چیئرمین سینیٹ قائم مقام صدر کا عہدہ سنبھالیں گے ۔اب ایک طرف چیئرمین سینیٹ کو قائم مقام صدر بننے کا استحقاق حاصل ہے تو دوسری طرف ان کی عمر اس عہدہ کی راہ میں رکاوٹ ہے ،پھر کیاآئینی صورتحال بنے گی ۔کیا صدارت کے لئے نااہل شخص صرف اس بنا ءپر قائم مقام صدر کا عہدہ سنبھال سکتا ہے کہ وہ چیئرمین سینیٹ ہیں اور آئینی طورپر اسے یہ استحقاق حاصل ہے ۔آئین کے متعلقہ آرٹیکلز کا جائزہ لیا جائے تو صادق سنجرانی قائم مقام صدر کے عہدہ پر کبھی فائز نہیں ہوسکتے ،وہ آئندہ ماہ 40سال کے ہوجائیں گے ،وہ 3سال کے لئے چیئرمین سینیٹ منتخب ہوئے ہیں ،اگر وہ 3سال پورے کرلیتے ہیں تو بھی ان کی عمر 43سال ہوگی ،یوں وہ اپنے موجودہ دور میں قائم مقام صدرکے عہدہ پر براجمان نہیں ہوسکتے۔آئین کے آرٹیکل 49کے مطابق اگر صدر کا عہدہ صدر کی وفات ،استعفیٰ یا برطرفی کی وجہ سے خالی ہوجائے تو چیئرمین سینیٹ نئے صدر کے انتخاب تک قائم مقام صدر کا عہدہ سنبھالیں گے ،اس کے ساتھ ہی آرٹیکل 49(1)میں یہ بھی کہہ دیا گیا ہے کہ اگر چیئرمین سینیٹ صدر کے عہدہ کے کارہائے منصبی کی انجام دہی سے قاصر ہو تو قومی اسمبلی کا سپیکر بطور قائم مقام صدر کام کرے گا۔اسی طرح آرٹیکل 49(2)میں کہا گیا ہے کہ صدر مملکت پاکستان سے غیر حاضر ہو یا کسی وجہ سے اپنے فرائض انجام دینے سے قاصر ہو تو چیئرمین سینیٹ قائم مقام صدر ہوگا ،اس آرٹیکل میں بھی یہ وضاحت کردی گئی ہے کہ اگر چیئرمین سینیٹ صدر کے عہدہ کے فرائض انجام دینے کے قابل نہ ہو تو قومی اسمبلی کاسپیکر قائم مقام صدر کے طور پر ذمہ داریاں نبھائے گا جب تک کہ مستقل صدر دوبارہ اپنے عہدے پر واپس نہیں آجاتے۔اب آئینی طور پر چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی صدر کا عہدہ سنبھالنے کے اہل نہیں ہیں ،ایسی صورت میں جب بھی قائم مقام صدر کی ضرورت پڑے گی تومذکورہ آرٹیکلز کے تحت سپیکر قومی اسمبلی قائم مقام صدر کے طور پر کام کریں گے۔

مزید : تجزیہ