گھریلو ملازمین کے تحفظ کے لئے قانون سازی ،ہائی کورٹ نے کمیشن تشکیل دے دیا

گھریلو ملازمین کے تحفظ کے لئے قانون سازی ،ہائی کورٹ نے کمیشن تشکیل دے دیا
گھریلو ملازمین کے تحفظ کے لئے قانون سازی ،ہائی کورٹ نے کمیشن تشکیل دے دیا

  

لاہو(نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن نے گھریلو ملازمین کے تحفظ کے لئے قانون سازی کی سفارشات مرتب کرنے کے لئے کمشن تشکیل دے دیا ہے ۔

کمیشن سیکرٹری لیبر کی سربراہی میں کام کرے گا،عدالتی کمشن میںسپریم کورٹ کے ایک جج کی وکیل بیٹی کو بھی شامل کیا گیا ہے ۔یہ عدالتی کمیشن ایک شہری صوبہ خان کی طرف سے شیراز ذکاءایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر درخواست پر تشکیل دیا گیا ہے۔ اس کمیشن کو یہ ٹاسک سونپا گیا ہے کہ وہ گھریلو ملازمین کے تحفظ کیلئے قانون سازی کی سفارشات مرتب کرے اور حکومت کی طرف سے قانون سازی نہ کرنے کے عمل پر بھی اپنی سفارشات دے۔درخواست گزار کا مﺅقف ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے گھریلو ملازمین پر تشدد روکنے کے حوالے سے کسی قسم کی قانون سازی نہیں کی جا رہی ہے، سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس منصور علی شاہ نے 2015ءمیں پنجاب حکومت کو قانون سازی کا حکم دیا تھا لیکن ابھی تک اس حکم پر عملدرآمد نہیں ہوا۔جسٹس جواد حسن نے اس درخواست پر سیکرٹری لیبر کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیا ہے جس میں اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اشفاق احمد کھرل، بیرسٹر احمد پنسوتا، شیراز ذکاءایڈووکیٹ اور سحر بندیال ایڈووکیٹ بھی شامل ہیں۔سحر بندیال ایڈووکیٹ کیمبرج یونیورسٹی سے گریجوایٹ ہیں اور سپریم کورٹ کے سینئر جج مسٹر جسٹس عمر عطاءبندیال کی بیٹی ہیں،وہ وفاقی وزیر پرویز ملک کی بہو بھی ہیں، اس کیس کی مزید سماعت19مارچ تک ملتوی کی گئی ہے۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور