چیئرمین نیب نے سابق ایم ڈی واسا ،سابق سیکرٹری خزانہ بلوچستان ودیگرکیخلاف ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دیدی

چیئرمین نیب نے سابق ایم ڈی واسا ،سابق سیکرٹری خزانہ بلوچستان ودیگرکیخلاف ...
چیئرمین نیب نے سابق ایم ڈی واسا ،سابق سیکرٹری خزانہ بلوچستان ودیگرکیخلاف ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دیدی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس(ر) جاوید اقبال نےسابق ایم ڈی واسا ، مسلم لیگ ن کے سابق ایم این اے حاجی مدثر قیوم ناہرا ،سابق سیکرٹر ی خزانہ بلوچستان، ڈائریکٹر جنرل گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی سمیت دیگر کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دے دی ، جسٹس(ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ ’’احتساب سب کے لئے ‘‘ کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہیں ،نیب کی پہلی اور آخری وابستگی پاکستان اور پاکستان کی عوام ہے ۔

تفصیلات کے مطابق چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال کی زیر صدارت  نیب ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں منعقد ہونے والے نیب کے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے غلام مرتضیٰ ملک سابق ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل بلڈنگ کنٹرول سیکشن سی ڈی اے، خلیل احمد سابق ڈائریکٹر بلڈنگ کنٹرول سیکشن سی ڈی اے، محمد عمار ادریس سابق ڈپٹی ڈائریکٹر بلڈنگ کنٹرول سیکشن سی ڈی اے، خادم حسین سابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر بلڈنگ کنٹرول سیکشن سی ڈی اے اور رانا عبدالقویم مالک صفائگولڈ مال کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی۔ ملزمان پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے صفاء گولڈ مال ایف سیون اسلام آباد پلازہ کی اضافی منزلوں کی تعمیر کیلئے غیر قانونی طور پر نظر ثانی شدہ عمارت کے نقشہ کی منظوری دینے کا الزام ہے، جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے طارق حیات خان، سابق ڈائریکٹر جنرل گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور دیگر کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی،ملزمان پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی قیمتی زمین کو غیر قانونی طور پر الاٹ کرنے کا الزام ہے،جس سے قومی خزانے کو 90 ملین روپے کا نقصان پہنچا۔ ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے حامد لطیف رانا، سابق منیجنگ ڈائریکٹر واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسی اور دیگر کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی، ملزمان پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا الزام ہے جس سے قومی خزانے کو 337 ملین روپے کا نقصان پہنچا۔ایگزیکٹو بورڈ نے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ محمد افضل جنجوعہ، بریگیڈیئر ریٹائرڈ افتخار مہدی، محفوظ علی خان سابق سیکرٹری خزانہ حکومت بلوچستان، میسرز اللہ ہو ہولڈنگ لمیٹڈ کے ڈائریکٹرز، یونائیٹڈ انشورنس کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ کے ڈائریکٹرز اور بلوچستان حکومت کے افسران اور اہلکاران اور دیگر کے خلاف انویسٹی گیشن کی منظوری دی۔ ملزمان پر اختیارات کا ناجائز استعمال اور سرکاری فنڈز میں خور برد کرنے کا الزام ہے۔ جس سے قومی خزانے کو 243.640 ملین روپے کا نقصان پہنچا۔ ایگزیکٹو بورڈ نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی NHA کی انتظامیہ اور دیگر کے خلاف انکوائری کی منظوری دی، ملزمان پر مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر کراچی، لاہور موٹروے سیکشن III عبدالحکیم (230 کلومیٹر) کا ٹھیکہ میسرز چائنہ ریلوے 20 بیورو گروپ کا رپوریشن کو غیر قانونی طور پر دینے کا الزام ہے جس سے قومی خزانے کو 14 ارب روپے کا نقصان پہنچا۔

نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے مدثر قیوم ناہرہ، سابق ایم این اے، اظہر قیوم ناہرہ اور دیگر کے خلاف انکوائری کی منظوری دی، ملزمان پر مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا الزام ہے۔ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے حفیظ الرحمان اور سید قاسم شاہ کے خلاف انکوائری کی منظوری دی۔ ملزمان پر مبینہ طور پر بدعنوانی کا الزام ہے۔ ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے سرحد ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے افسران اور اہلکاران کے خلاف انکوائری کی منظوری دی۔ ملزمان پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر ایک تدریسی ادارے کو انڈسٹریل سٹیٹ / زون حیات آباد میں انسٹیٹیوٹ قائم کی اجازت دینے الزام ہے جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔ نیب ایگزیکٹو بورڈ نے نذیر احمد سومرو، ڈپٹی منیجر ایس ایس اینڈ ٹی ڈویڑن سیپکو سکھر کے خلاف انکوائری کی منطوری دی۔ ملزم پر مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا الزام ہے۔ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ کے افسران و اہلکاران اور اے کے ڈی رئیل سٹیٹ اور میسرز سیمنٹ فیکٹری کے ڈائریکٹرز اور مالکان کے خلاف انکوائری جبکہ یونس برادرز گروپ آف انڈسٹریز کے ڈائریکٹرز اورمالکان کے خلاف انکوائری اور لمیٹڈ یوٹیلائزیشن ڈیپارٹمنٹ بورڈ آف ریونیو سندھ کے افسران اور اہلکاران اور دیگر اور ہری پور یونیورسٹی کے افسران واہلکاران کے خلاف انکوائری بند کرنے کی منظوری دی۔

چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ بدعنوانی تمام برائیوں کی جڑ ہے، جس کو اکھاڑنا انتہائی ضروری ہے، نیب کے افسران بدعنوانی کے خاتمے کو نہ صرف اپنی قومی ذمہ داری سمجھتے ہیں بلکہ اپنی بہترین صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے کرپشن فری پاکستان کے لئے بھرپور کاوشیں کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائریاں اور انویسٹی گیشنز کو قانون، میرٹ، شفافیت اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر مقررہ وقت کے اندر منطقی انجام تک پہنچائی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب ’’احتساب سب کے لئے‘‘ کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے، نیب کی پہلی اور آخری وابستگی پاکستان اور پاکستان کی عوام سے ہے۔ نیب افسران اپنے فرائض پوری ایمانداری، دیانت، میرٹ، شفافیت اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سرنجام دیں۔

مزید : قومی