حکومت ، پارلیمنٹ کی منظوری سے صدارتی نظام پر ریفرنڈم کراسکتی ہے

حکومت ، پارلیمنٹ کی منظوری سے صدارتی نظام پر ریفرنڈم کراسکتی ہے
حکومت ، پارلیمنٹ کی منظوری سے صدارتی نظام پر ریفرنڈم کراسکتی ہے

  

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

صدر عارف علوی نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ موجودہ پارلیمانی نظام حکومت کی جگہ اگر صدارتی نظام رائج کردیا جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ تاہم ’’جمہوریت کے تسلسل‘‘ اور عوام کی رائے اور مرضی کو پیش نظر رکھنا ہوگا، جناب صدر کوئی پہلی شخصیت نہیں ہیں جنہوں نے حالیہ دنوں میں صدارتی نظام کے لئے اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ ان سے پہلے وزیراعظم عمران خان بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ ذاتی طور پر صدارتی نظام کے حق میں ہیں، ملک کے اندر بہت سے دوسرے حلقوں کی رائے بھی یہی ہے کہ پارلیمانی کی جگہ صدارتی نظام رائج ہونا چاہئے، سابق چیف جسٹس افتخار چودھری بھی جو اب سیاستدان ہیں اور ایک سیاسی جماعت کے کرتا دھرتا بلکہ سب کچھ ہیں صدارتی نظام کی حمایت کرتے ہیں، جنرل پرویز مشرف نے تو اپنے عہد حکومت میں باقاعدہ کوششیں شروع کر رکھی تھیں کہ کسی نہ کسی طرح صدارتی نظام دوبارہ رائج کردیں۔ وہ دوسری مرتبہ صدر ’’منتخب‘‘ بھی ہو چکے تھے اور ان کا خیال تھا کہ وہ 2013ء میں اپنی دوسری مدت صدارت ختم ہونے سے پہلے یہ کامیابی حاصل کرلیں گے۔ غالباً ان کا خیال تھا کہ ان کے کسی ممکنہ اقدام کی راہ میں جسٹس افتخار چودھری رکاوٹ بن جائیں گے۔ اس لئے انہوں نے پہلے انہیں ہٹانے کا راستہ اختیار کیا، ان کے اس اقدام کے خلاف وکلا کی جو ملک گیر تحریک شروع ہوئی دیکھتے ہی دیکھتے اس نے اتنی قوت پکڑ لی کہ ان کے اقتدار کا تخت ہی لرزنے لگا، اس عالم میں 2008ء کے انتخابات ہوئے تو پیپلز پارٹی کی حکومت بن گئی جس کے چند ماہ بعد ہی انہیں منصب صدارت چھوڑنا پڑا اور یوں ان کا منصوبہ دھرے کا دھرا رہ گیا، پاکستان میں صدارتی نظام کا پہلا تجربہ جنرل ایوب خان نے ملک میں مارشل لا لگا کر کیا تھا، ان کا خیال تھا کہ پاکستان میں پارلیمانی نظام نہیں چل سکتا اور نہ ہی ہمارے ووٹر اتنے باشعور ہیں کہ وہ اپنے درست نمائندے منتخب کرسکیں۔ اس لئے ملک میں محدود یا قابو یافتہ جمہوریت ہونی چاہئے، جسے موم کی ناک کی طرح جدھر چاہے موڑا جاسکے۔ چنانچہ انہوں نے نامور ماہرین قانون کے ذریعے جو صدارتی آئین بنوایا اس کی کسی عوامی یا منتخب نمائندے سے منظوری ضروری نہیں سمجھی گئی، ملکی اور غیر ملکی ماہرین کے بنائے ہوئے اس آئین کا اعلان صدر نے پریس کانفرنس میں کیا اور یوں پاکستان میں صدارتی نظام رائج ہوگیا۔ یہ آئین 62ء میں نافذ ہوا اور بمشکل سات سال چل سکا۔ 69ء میں جب ایوب خان کے خلاف عوامی لہر اٹھی تو انہوں نے بڑے جتنوں سے بنایا ہوا آئین منسوخ کردیا اور اقتدار جنرل یحییٰ خان کے سپرد کرکے تاریخ کا حصہ بن گئے۔

جن لوگوں کی رائے یہ ہے کہ پاکستان میں پارلیمانی نظام کامیاب نہیں ہوسکا ان سے کوئی پوچھے کہ چلئے یہ تو مان لیا، کیا محض سات سال کے صدارتی نظام کو کامیاب قرار دیا جاسکتا ہے جو صرف ایک شخص کے گرد گھومتا رہا اور جونہی وہ رخصت ہوا یہ صدارتی نظام بھی ختم ہوگیا، ایوب خان اپنے آخری ایام میں دوبارہ پارلیمانی نظام کی جانب مراجعت کے لئے تیار ہوگئے تھے لیکن جنرل یحییٰ خان نے بعض سیاستدانوں سے مل کر ان کی یہ کوششیں کامیاب نہ ہونے دیں۔ پاکستان میں اس وقت وفاقی پارلیمانی آئین نافذ ہے اس میں پارلیمینٹ دوتہائی اکثریت سے ترمیم کرسکتی ہے، تاہم ملک کی اعلیٰ ترین عدالت قرار دے چکی ہے کہ پارلیمینٹ بھی اس آئین میں بنیادی نوعیت کی کوئی ایسی ترمیم نہیں کرسکتی جو اس کی روح کے خلاف ہو، پارلیمانی نظام بھی اس کی بنیاد ہے اس لئے جس کسی کی بھی، چاہے وہ صدر مملکت ہی کیوں نہ ہو، یہ خواہش ہے کہ ملک میں صدارتی نظام آجائے اس کے لئے اسے عوام کے پاس ہی جانا ہوگا۔ جس کا طریقہ یہ ہے کہ جو سیاسی جماعت صدارتی نظام چاہتی ہے وہ پہلے اسے اپنے منشور کا حصہ بنائے اور اپنا پروگرام عوام کے سامنے رکھے، اگر وہ جیت جائے تو اس طرح قائم ہونے والی پارلیمینٹ آئین کی بنیاد تبدیل کرسکتی ہے۔ اگرچہ ماضی میں پارلیمانی نظام کو صدارتی چھتری میں لانے کی دو بڑی کوششیں ہو چکی ہیں، پہلی کوشش جنرل ضیاء الحق اور دوسری کوشش جنرل پرویز مشرف نے کی تھی، اول الذکر نے مشہور آٹھویں ترمیم آئین میں شامل کرائی جس کے تحت صدر کو اسمبلی توڑنے کا اختیار حاصل ہوگیا۔ اس اختیار کے تحت جنرل ضیاء الحق، غلام اسحاق خان اور فاروق لغاری نے بطور صدر چار اسمبلیاں تحلیل کیں، تاہم نواز شریف جب دوسری مرتبہ وزیراعظم بنے تو انہوں نے تیرھویں ترمیم کے ذریعے یہ صدارتی اختیار ختم کردیا۔ جنرل پرویز مشرف نے جب نوازشریف کا تختہ الٹنے کے تین سال بعد 2002ء میں انتخابات کرائے تو انہوں نے ایم ایم اے کی مدد سے سترھویں ترمیم منظور کرالی جس کے تحت صدر کو اسمبلی توڑنے کا اختیار دوبارہ حاصل ہوگیا۔ تاہم اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے ایک بار پھر یہ صدارتی اختیارختم ہوگیا۔

اب آئین کی موجودگی میں تو پارلیمانی نظام کو صدارتی نظام میں بدلا نہیں جاسکتا تو پھر سوال یہ ہے کہ صدر عارف علوی سمیت ان لوگوں کی خواہش کیسے پوری ہوسکتی ہے جو صدارتی نظام کے حق میں رائے رکھتے ہیں، اس کا ایک طریقہ تو ہم نے اوپر درج کردیا ہے۔ تاہم صدارتی نظام کا معاملہ حکومت پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس میں رکھ سکتی ہے جہاں سے منظوری کے بعد ریفرنڈم کرایا جاسکتا ہے۔ جس میں عوام سے یہ سوال پوچھا جائے کہ وہ پارلیمانی نظام چاہتے ہیں یا صدارتی، لیکن ریفرنڈم کا سوال بالواسطہ نہیں ہونا چاہئے۔ جیسا جنرل ضیاء الحق نے کرایا تھا کہ اگر آپ اسلامی نظام چاہتے ہیں تو میں پانچ سال کے لئے صدر ہوں۔ اس وقت صدر اور وزیراعظم دونوں کا جھکاؤ اگرچہ صدارتی نظام کی طرف ہے لیکن کیا کوئی اس بات کی ضمانت دے سکتا ہے کہ ایوب خان کے نظام کی طرح یہ دوبارہ اختیار کیا جانے والا صدارتی نظام بھی چند برس بعد ناکام نہیں ہو جائے گا اور قوم ایک بار پھر پارلیمانی نظام کا مطالبہ کرنے کے لئے پہلے کی طرح اٹھ کھڑی نہیں ہوگی۔

صدارتی نظام

مزید : تجزیہ