اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 106

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 106
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 106

  

شیخ فرید الدین گنج شکرؒ کے پاس فقط ایک ہی کمبل تھا۔ جسے دن میں بچھا کر بیٹھ جاتے رات کو وہی اوڑھ کر سوجاتے۔ کمبل اتنا چھوٹا تھا کہ آپ کے پیر پوری طرح نہ پھیل سکے تھے۔ ایک لڑکی کا تکیہ تھا جس کا سربانہ بناتے اور ایک عصا تھا جو حضرت بختیار کاکیؒ کے تبرکات سے آپ کو پہنچا تھا۔

ایک دن ہندوستان کا بادشاہ ناصر الدین محمود آپ کی زیارت کے لیے دہلی سے پاک پتن آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہ آپ سے مل کر بے حد خوش ہوا۔ چنانچہ واپس دہلی پہنچ کر اپنے وزیر الغ خاں (جو بعد میں سلطان بلبن کے نام سے مشہور ہوا) کے ہاتھ پانچ گاؤں اور ایک بہت بڑی رقم آپ کی خدمت میں نذرانے کے طور پر ارسال کی۔

آپ نے الغ خاں سے فرمایا ’’ہم فقیروں کو ان چیزوں سے کیا واسطہ؟ یہ انہیں کے حوالے کردو جو اس کے ضرورت مند ہیں۔‘‘

***

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 105 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ایک مرتبہ حضرت ابوبکر شبلیؒ بیمار پڑگئے۔ طبیبوں نے پرہیز کا مشورہ دیا۔ تو آپ نے فرمایا ’’کیا مَیں اس چیز کا پرہیز کروں جو میرا رزق ہے یا اس چیز کا جو میرے رزق میں شامل نہیں ہے۔ جو میرا رزق ہے، وہ تو خود ہی مجھے مل جائے گا اور جو میرا رزق نہیں ہے۔ وہ خود ہی نہیں ملے گا۔ اس لیے جو میرا رزق ہے اس پر پرہیز کرنا میرے بس میں نہیں۔‘‘

***

ایک دفعہ ابو عبداللہ امام بخاریؒ کسی مرض میں مبتلا ہوگئے۔ حکیموں نے آپ کے قارورہ کو ملاحظہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امام صاحبؒ نے کبھی سالن استعمال نہیں کیا۔ اس کے بعد جب علاج میں سالن تجویز کیا گیا تو آپ نے انکار کردیا اور بعد میں بوجہ اصرار سالن وغیرہ پر رضا مندی کا اظہار کیا۔

آپ کی سادگی اور قناعت کا یہ عالم تھا کہ سالن وغیرہ کھانا بھی گوارا نہیں کرتے تھے۔

***

ایک دفعہ حضرت رابعہ بصریؒ علیل ہوئیں۔ حاضرین نے سبب دریافت کیا تو آپ نے فرمایا ’’مجھے جنت کی خواہش ہوئی۔ میرامحبوب مجھ سے ناراض ہوا کہ تو نے میرے سوا کسی اور چیز کی تمنا کیوں کی؟

اس علالت کا سبب صرف ناراضگی محبوب ہے اور کچھ نہیں۔

***

ایک مرتبہ کسی شہر کے بازار میں آگ لگ گئی اور سب مال و اسباب، لونڈی و غلام جو اس میں تھے جل گئے مگر دو رومی غلام جونہایت خوبصورت تھے، قدرت خدا سے بچے کھڑے تھے اور آگ سے بچنے کی راہ ڈھونڈ رہے تھے۔ قریب تھا کہ وہ بھی جل مریں۔ ان کے دلال لوگوں سے کہتے پھرتے تھے کہ جو کوئی ان کو نکال لائے ہزار دینار سرخ انعام میں پائے۔

اتفاق سے حضرت ابوالحسن نوریؒ اس طرف سے گزرے۔ ان دونوں غلاموں کو جلتی آگ میں کھڑا دیکھ کر جی میں کہا۔ اگر میں جل بھی جاؤں تو بلا سے مگر ان مصیبت زدوں کی مدد ضرور کرنی چاہیے۔ چنانچہ بسم اللہ کہہ کر جلتی آگ میں کود پڑے اور دونوں غلاموں کو صاف نکال لائے۔ دلالوں نے جو یہ دیکھا تو آپ کے قدم چومنے لگے اور آپ کو انعام دینا چاہا۔ مگر آپ نے یہ کہہ کر انعام لینے سے انکار کردیا کہ میں نے دنیا کے لالچ کے واسطے یہ کام نہیں کیا بلکہ خدا کے خوف اور اس کی مرضی سے کیا ہے۔ اگر یہ کام دنیا کے لالچ کے واسطے کرتا تو اس آگ میں خود جل کر راکھ ہوجاتا۔

***

امام شافعیؒ نے ایک بار اپنے استاد حضرت وکیعؒ سے شکایت کی کہ میرا حافظہ کمزور ہے۔ کوئی تدبیر بتائیے کہ میرا حافظہ ٹھیک ہوجائے۔

ان کے استاد حضرت وکیعؒ نے نصیحت فرمائی ’’اللہ کی نافرمانی اور گناہ سے بچو۔ یہی حافظہ کا علاج ہے۔ علم اللہ تعالیٰ کا ایک نور ہے ا ور یہ نور ان کو نہیں دیا جاتا جنہوں نے گناہوں سے اپنی زندگی گندی کرلی ہو۔(جاری ہے)

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 107 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے