پہلے تھانے بات کرلیں

پہلے تھانے بات کرلیں
پہلے تھانے بات کرلیں

  

ماضی میں گلی محلے کی سیاست ،اہم سماجی فیصلے او رمخبریاں تک تھڑے ، معرکے اور ڈیوڑھیاں میں ہوتے تھے لیکن وقت کے ساتھ گلی محلے کی سیاست نے بھی کروٹ لی اور تھڑوں سے نکل کر حجام کی دکانوں اور چائے کے ہوٹلوں کا رخ کرلیا، موسم نے انگڑائی لی تو ہم بھی پورے جلال میں حجام پر جا پہنچے۔ نائی کے ساتھ ابتدائی سلام دعا کے بعد مخصوص سٹائل میں لیٹی کرسی پر براجمان ہوگیا البتہ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ کرسی پر بیٹھا یا پھر کرسی میں فٹ ہوگیا۔ حجام نے اپنا کام شروع کردیالیکن ساتھ بیٹھے ایک صاحب ایک گلی سے دوسری گلی میں ہجرت کرنے کے فوائد بیان کررہے تھے، لیکن ان کی اس ہجرت کی کہانی بھی اپنے اندر ایک کہانی تھی جسے سن کر میں سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ ہم آخر اپنے گریبان میں جھانکے بغیر دوسروں کو براہی کیوں سمجھتے ہیں۔

ان صاحب کے بقول بڑی پریشانی گھر کا دال روٹی چلانا تھا لیکن اب یہ مسئلہ حل ہوگیا اور دو پیسے اکٹھے بھی کرلئے، روڈ کے اس پار ایک مشین (فیول ڈسپینسر)لگالی ہے، اس طرف بھی ایک دکان چاہیے بے شک آدھی دکان ہی مل جائے جس میں ایک مشین اور ایک تیل کا ڈرم رکھنے کی جگہ ہو، پہلی مشین میں ہم دو پارٹنر ہیں، روزانہ کی 500سے 700 روپے دونوں کو بچت ہوتی ہے اور یہ رقم گھر والوں کے نام کردی کہ روز مرہ کے کچن اخراجات اس رقم سے پورے کریں۔ ہفتے میں ایک دن ’لیاقت آباد والوں‘ (تھانہ کے اہلکاروں) کی حاضری ہوتی ہے، کھانا وغیرہ کھاتے ہیں۔

یہ بات سنتے ہی حجام نے اپنی قینچی روکی اور اس شخص کی طرف مڑ کر پوچھا، وہ کیوں؟ ان صاحب نے بتایا ”یہ غیر قانونی ہے ناں“ ایسا کوئی بھی کام کرنا ہو تو پہلے متعلقہ پولیس کے کسی بندے سے بات کرلیتے ہیں۔ بس اب کسی اور جگہ پر ایک مزید مشین لگ جائے تو زندگی سکون میں آجائے گی۔

یہ سن کر حجام نے مزید کسی سوال سے گریز کیا، لیکن میر اکام نپٹتے ہی میں نے گھر کی راہ لی لیکن عجیب خیالوں میں کہیں گم تھا کیونکہ میں نے اسی روز کہیں پڑھا تھا کہ ڈی سی لاہور کی ہدایت پر محکمہ سول ڈیفنس نے کارروائی کی اور دو غیر قانونی پٹرول پمپس سیل کردئیے۔ اگر وہ سچ تھا تو پھر یہاں لوگ پولیس کو کیوں رشوت میں ہفتہ وار کھانے یا کھانے کی رقم پیش کررہے ہیں؟

اس کا جواب تو ڈھونڈ نہ سکا البتہ خیالات میں ایک نئی جنگ چھڑ گئی کہ ماضی میں جو سنا کرتے تھے کہ ”دنیا کی پولیس کو جیسے ہی کسی واقعے کا علم ہو، فوری ایکشن لیتی ہے لیکن پاکستانی پولیس وہ ہے جسے کسی بھی واردات یا واقعے سے پہلے معلوم ہوتا ہے لیکن بروقت موقع پر ہی نہیں پہنچتی“ شاید سچ ہو، لیکن یہ بات حقیقت ہے کہ ہم اپنے پولیس اہلکار بھائیوں کو رشوت خور اور اس جیسے طرح طرح کے القابات سے نوازتے ہیں لیکن انہیں اس حد تک پہنچانے کے ذمہ دار ہم عوام بھی ہیں یا پھر ہمارا کردار ضرور ہے۔ ہمیں کسی پر انگلی اٹھاتے وقت یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ 3 انگلیاں ہماری طرف اشارہ کرنے والے کی اپنی طرف ہی ہوتی ہیں جو شاید خبردار کررہی ہوتی ہیں کہ انگلی اٹھانے سے قبل اپنے بارے بھی سوچ لیں۔ جیسے زیر تذکرہ صاحب نہ صرف غیر قانونی کام کرتے، پولیس اہلکاروں کو رشوت دینے کے باوجود نہ صرف مطمئن اور خوش تھے بلکہ اپنا یہی غیر قانونی دھندہ آگے بڑھانے کو بھی پر تول رہے تھے۔ شہریوں کو بھی چاہیے کہ ایسے غیر قانونی کاروباریوں کے ساتھ لین دین سے گریز کریں اور حکومت کوبھی اپنا کاروبار قانونی طریقے سے شروع کرنے والوں کے لیے راہ ہموار کرنا چاہیے۔ ایسے میں مجموعی طور پر نہ صرف ملک و قوم کا فائدہ ہے بلکہ کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعے سے بھی بچاسکتا ہے۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ پر بھیج دیں۔ 

مزید : بلاگ