پنجابی کلچر ڈے

پنجابی کلچر ڈے
پنجابی کلچر ڈے

  

پنجاب تصوف اور محبت کی سرزمین ہے۔یہ سرزمین ہمیشہ سے ہندوستان کا تہذیبی مرکز رہی ہے۔ پنجاب کی تہذیب کا شمار دنیاکی ابتدائی جدید شہری تہذیبوں میں ہوتا ہے جہاں انسانی قدروں سے لے کر رہن سہن کے بہترین نمونے ملتے ہیں۔ آپ ہڑپہ کو دیکھئے،یہاں اپنے عہد کی جدید شہری سہولیات کے ساتھ ساتھ یہ تاثر بھی بہت نمایاں ہوکر ملتا ہے کہ یہاں زندگی اپنی بہترین شکل میں موجود تھی۔ہڑپہ کے باسیوں کی یہ زندگی اس دھرتی پہ رہنے والوں کے ترقی یافتہ ہونے پہ دال ہے۔ اس خطے نے جدید معاشرت کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا،اناج اُگانے سے لے کر محفوظ رکھنے تک بے شمار ایسے معاملات ہیں، جن میں پنجاب نے اس دور میں بھی مثالی ترقی کر رکھی تھی جب دنیا کی دیگر زندہ تہذیبیں ابھی اپنی پہچان کے نشان تلاش کر رہی تھیں۔یہاں ایسا نظام موجود تھا جو شہری سہولتوں کے ساتھ ساتھ قدرتی آفات کا سامنا بھی کرتا تھا۔ہڑپہ ہی کی مثال دیکھئے کہ یہ شہر اُس وقت دریائے راوی کے کنارے آباد تھا،شہر کو ممکنہ سیلابی خطرات سے بچانے کے لیے بند بنائے گئے تھے جو شہر کو محفوظ رکھتے تھے۔

ہندوستان کی قدیم ترین داستانوں میں سے ایک، مہا بھارت میں اس دھرتی کو ”پنج ندا“ لکھا گیا ہے جس کے معنی پانچ ندیوں کے ہیں،یہ تذکرہ ثانوی یا زیب حکایت نہیں، بلکہ تفصیل سے موجود ہے۔اسی طرح ابن ِ بطوطہ نے بھی اپنے سفر نامے میں اس خطے کا ذکر تفصیل سے کیا ہے۔ابن ِ بطوطہ نے یہاں تک لکھا کہ یہ دنیا کی قدیم  تہذیبوں میں سے ایک ہے،جہاں کبھی بھوک اور آفات نے مستقل ڈیرے نہیں ڈالے۔ابوالفضل کی آئین ِ اکبری میں بھی پنجاب کا ناصرف ذکر موجود ہے بلکہ اس کی عسکری اہمیت کے بارے میں بھی سیر حاصل تذکرہ ہے۔ اس طرح کی بے شمار تاریخی اسناد ہیں جو پنجاب کو ہزاروں سال پہلے کی تہذیب کا وارث ثابت کرتی ہیں۔تاریخی حقائق کے آئینے میں دیکھیں تو پنجاب کی اہمیت کو کسی بھی طور کم نہیں کیا جا سکتا،لیکن بدنصیبی سے ایک سازش کے تحت پنجاب کے ہیروز کو وِلن ثابت کرنے کی کوشش کی گئی، جس میں پنجاب دشمن بڑی حد تک کامیاب بھی ہوئے۔ یہ سلسلہ اسی وقت شروع ہو گیا تھا جب یہاں بیرونی حملہ آوروں کی آمد ہوئی۔

سکندر آیا تو اس کے سامنے پورس ڈٹ کے کھڑا ہوا اور دنیا کی مضبوط ترین فوج کا مقابلہ جوانمردی سے کیا۔منگولوں سمیت جب کبھی کوئی یہاں حملہ آور ہوا تو پنجاب کے لوگوں نے مقابلہ کیا، اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے ثابت کیا کہ اپنی دھرتی کے لیے لڑتے ہوئے گردن کٹوا لینا شکست نہیں، جیت ہے۔مغل دور میں دُلّا بھٹی جیسے اَن گنت پنجابی مجاہد وں سے بہت آگے نکل کر دیکھیں تو ہمیں انگریز کے خلاف بھی پنجابی ہی میدان ِ عمل میں دکھائی دیتا ہے۔وہ رائے احمد کھرل ہو یا پھر آزادی کا عظیم ہیرو بھگت سنگھ،پنجابی ہر دور میں آزادی کی دلہن کے ماتھے کا جھومر دکھائی دیتے ہیں۔اِس خطے کے جوانوں نے کبھی شکست تسلیم نہیں کی،یہ ہر طرح کے حالات میں مقابلہ کرتے ہیں۔انہیں زیر کرنا کبھی آسان نہیں رہا۔ اگر وقتی طور پر یہ زیر عتاب آبھی گئے تو بپھرے ہوئے دریا کی طرح بڑھے اور چٹانوں سے سر ٹکرا کر اپنے ہونے کا پتا دیتے رہے۔

پنجاب اور پنجابی چونکہ مزاحمت کا استعارہ تھے اس لیے کوئی بھی قابض یہاں آیا تواِس خطے کی ثقافت مٹانے کی کوشش کی۔رنجیت سنگھ پنجاب کا بیٹا تھا،وہ جانتا تھا کہ پنجاب کا حکمران رہنا ہے تو اسے مذاہب کی تفریق کے بجائے پنجابی ہونے کی پہچان نمایاں کرنی ہوگی۔رنجیت سنگھ نے تصوف اور پنجاب کی رہتل کے دھاگے میں سکھ، مسلمان اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے پنجابیوں کو پرو دیا۔وہ بابا نانک کا ماننے والا ضرور تھا،لیکن سیوک شاہ حسینؒ اور میاں میرؒ کا بھی تھا۔اس کاکاروبارِ حکومت چلانے والوں میں بہت سے مسلمان بھی شامل تھے جنہوں نے مسلمان رعایا کو یہ احساس دلائے رکھا کہ حکومت پنجابیوں کی ہے، کسی خاص مذہب کی نہیں۔جب پنجاب کی حدود وسیع ہورہی تھیں تو سازشیں بھی بڑھنے لگیں،رنجیت سنگھ کے بعد پنجابی حکومت کا تخت بھی متزلزل رہا۔انگریز نے مذہبی، مسلکی اور لسانی بنیادوں پر جھگڑوں کے بیج بوئے جو نفرت کے تناور درختوں کی شکل میں سامنے آئے۔ آپس کے جھگڑوں نے پنجابیوں کو بہت کمزور کر دیا اور گورے کو قبضہ کرنے میں زیادہ مشکل پیش نہ آئی۔

انگریز کا دور آیا تو پنجاب کی روایتی مزاحمت اس کے لیے سب سے بڑاخطرہ تھی۔انگریز سرکار نے یہاں ایسی تقسیم کی بنیاد رکھی جس نے کبھی پنجابیوں کو مضبوط نہیں ہونے دیا۔سب سے پہلے اس خطے کی بولی کے خلاف سازش کی گئی اور اسے کارِ سرکار سے دور کر دیا۔پنجابی،جو تخت لاہور کے مختصر دور میں ذریعہ تعلیم بنی تھی اپنے وجود پر خود ہی سوالیہ نشان بن گئی۔شاہ مُکھی اور گرومکھی رسم الخطوط پر جیسے مذہبی چھاپ لگا دی گئی۔بابانانک کو گرومکھی اور بابافرید کو شاہ مکھی کے چوکھٹے میں فٹ کرکے مسلمان اور سکھ دھرم کے ماننے والوں میں بانٹ دیا گیا۔پنجابی زبان کا مذہبی حوالے سے بٹوارہ اب تک کی سب سے بڑی سازش ثابت ہوا۔انگریز دور میں جس زبان نے سب سے زیادہ صدمے برداشت کئے وہ پنجابی ہی تھی۔

پنجابی زبان میں تحقیق کا کام تو جیسے نہ ہونے تک ہی محدود رہا،جو پنجابی کتب خانوں اور تراجم کی جانب راغب ہو رہے تھے انہوں نے بھی مزاحمت کی راہ اختیار کی۔ پنجابی نے ایک بار پھر کتاب کی جگہ ڈھال اور قلم کی جگہ بندوق اٹھا لی۔پنجابی انگریز سرکار کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور پھر ان کی نسلیں بھی اسی لڑائی میں خرچ ہوئیں۔یہ وہ وقت تھا جب علمی انقلاب چھاپہ خانے کی شکل میں دنیا کے دروازے پر دستک دے رہا تھا۔چھاپہ خانے کی ہندوستان آمدنے زبانوں کی ترقی میں انقلاب کا دروازہ ضرور کھولا لیکن پنجابی کے لیے یہ انقلاب بھی آکسیجن کی وہ کھڑکی ثابت نہ ہوا، جس سے اس زبان کی سانسیں بحال ہو سکتیں۔یہ زبان اتنی طاقتور تھی کہ آ ج سازش کی کئی صدیاں گزر جانے کے باوجود اپنی جگہ پرقائم ہے۔یہ کل کی طرح آج بھی اپنی بقا کی جنگ تو لڑ رہی ہے، لیکن کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ پنجابی زبان مٹ جائے گی یا پنجاب کی ثقافت کا نشان باقی نہیں رہے گا۔

آج بھی پنجاب میں وہی تازگی دکھائی دے رہی ہے جو کسی زندہ ثقافت کے سلامت اور توانا ہونے کا ثبوت فراہم کرتی ہے۔پنجاب کے عوام اپنی ہزاروں سال پرانی روایات اور ثقافت سے محبت کے اظہار کے لیے ”پنجابی کلچر ڈے“منا رہے ہیں۔چیت کی یکم تاریخ بہار کی آمد کا اعلان ہے۔ دنیا میں بیشتر اقوام بہار کے آغاز پر ہی اپنے ثقافتی تہوار منانے کی روایت رکھتی ہیں۔

آج پنجابی چاہتے ہیں کہ ان کی ثقافت کا دن منانے کی روایت زندہ ہو،وہ ثقافت جسے قتل کرنے کے لیے ہر دور کی بڑی عالمی قوت کوشش کر چکی، لیکن ناکام رہی۔کلچر ڈے منانے کا فیصلہ پنجاب اور پنجابی کے لیے کام کرنے والی تمام تنظیموں نے مشترکہ طور پر کیا ہے۔اگرچہ وقت کی کمی اور دیگر معاملات بھی آڑے آئے،لیکن پنجاب اور پنجابی روایات سے محبت کرنے والوں نے ہمت نہیں ہاری۔چیت کا مہینہ بھی کیلنڈر سے زیادہ پنجابیوں کے دِلوں میں ہے۔پہلی چیت اس طلوع کی پہلی کرن ہے جو آنے والی نسلوں کو ایسی روشنی دے گا، جس میں اپنی ثقافت کا ہر نقش روشن اور نمایاں ہو کر دکھائی دے گا۔آج کا دن پنجاب کا دن ہے،اس پنجاب کادن جس کی پہچان مٹانے کی کوشش کئی صدیوں سے ہوتی رہی، لیکن اس کا اُچاشملہ جھکا نہ آنکھوں سے ”روایتی اَنکھ“ کی سرخی گئی۔پنجاب آج بھی قائم ہے اور اللہ کے فضل سے ہمیشہ اسی طرح ہنستا بستا اور لہلہاتا رہے گا۔

مزید :

رائے -کالم -