رمضان المبارک کا پہلا عشرہ لیکن ذہنی اور جسمانی طور پر تندرست رہنے کے لیے کونسے وقت ورزش کرنی چاہیے؟ معروف فٹنس ایکسپرٹ نے مؤقف دے دیا

رمضان المبارک کا پہلا عشرہ لیکن ذہنی اور جسمانی طور پر تندرست رہنے کے لیے ...
رمضان المبارک کا پہلا عشرہ لیکن ذہنی اور جسمانی طور پر تندرست رہنے کے لیے کونسے وقت ورزش کرنی چاہیے؟ معروف فٹنس ایکسپرٹ نے مؤقف دے دیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

دبئی(مانیٹرنگ ڈیسک) ماہ مقدس میں کھانے پینے اور نیند کے معمولات تبدیل ہونے سے میٹابولزم پر ایک منفرد دباؤ آتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ایسی حالت میں ہمیں اپنی جسمانی ضروریات کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے اور ان کی مناسبت سے ورزش کو ماہ صیام میں اپنے معمول کا لازمی حصہ بنانا چاہیے۔ 
العریبیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے فٹنس سنٹر ROARکی شریک بانی سارا لنزے نے کہا ہے کہ رمضان المبارک میں ذہنی و جسمانی طور پر فٹ رہنے کے لیے خصوصی منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ماہ مقدس میں ہمیں سحر ی سے پہلے یا افطار کے بعد ورزش کرنی چاہیے، کیونکہ اس وقت جسم میں توانائی خوب ہوتی ہے۔‘‘
 سارا لنزے کہتی ہیں کہ ’’اگر ان 2 اوقات میں آپ ورزش نہیں کر سکتے تو افطار سے 20سے 30منٹ پہلے بھی ورزش کی جا سکتی ہے تاہم اس وقت بالکل ہلکی ورزش کریں۔ہمیں اس مہینے میں بھاری ورزشوں سے گریز کرنا چاہیے اور کم سے درمیانی شدت کی ورزشیں کرنی چاہیے۔ بالخصوص واک، یوگا اور سٹریچنگ پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔‘‘
وہ کہتی ہیں کہ ’’رمضان المبارک میں ڈی ہائیڈریشن سے بچنے کے لیے سحری اور افطار میں خوب پانی پئیں۔ افطار میں کھجوروں، پتوں والی سبزیوں، دہی اور کیلے کا استعمال لازمی کریں۔ اگر آپ انسولین اور شوگر کی گولیوں جیسی ادویات لیتے ہیں تو اپنے ڈاکٹر کے مشورے کے ساتھ ورزش کریں، کیونکہ ورزش سے آپ کے جسم میں بلڈ شوگر لیول کم ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔‘‘

مزید :

Ramadan -Ramadan News -