مفتی پاکستانی جھنڈا لہرانے کو برداشت کریں جس طرح ہم ترنگا لہرانے پر صبر کرتے ہیں

مفتی پاکستانی جھنڈا لہرانے کو برداشت کریں جس طرح ہم ترنگا لہرانے پر صبر کرتے ...

سری نگر(کے پی آئی(کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ مفتی سعید پاکستانی جھنڈا لہرانے کو اُسی طرح برداشت کریں ، جس طرح کشمیری عوام جموں کشمیر میں بھارت کا ترنگا لہرانے پر صبر کرتے ہیں، چہ جائیکہ وہ ان کی امنگوں ، آرزوؤں اور خیالات کے باکل برخلاف ہے اور وہ اس کو کسی بھی طور پسند نہیں کرتے ہیں۔ حریت ترجمان نے مفتی محمد سعید کے اس بیان کہ ’’حکومت کو گیلانی کی ریلی پر کوئی اعتراض نہیں ہے، تاہم پاکستانی جھنڈا لہرانے سے ماحول درہم برہم ہوگیا ہے۔‘‘ کو مضحکہ خیز اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جھنڈے کے مسئلے کو آزادی پسندوں اور خاص کر گیلانی کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگانے کا ایک بنایا گیا ہے، ورنہ یہ جھنڈا یہاں 47ء سے لہرایا جاتا رہا ہے اور جھنڈا لہرانا ویسے بھی کوئی ایسا حملہ (Offence)نہیں ہے، جس سے ماحول درہم برہم ہونے کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہو۔ حریت نے سوال کیا کہ جموں کشمیر میں لوگوں کی خواہشات کے برخلاف اور فوجی حصار میں ہندوستان کا پرچم لہرایا جاتا ہے تو اس وقت جب ماحول درہم برہم نہیں ہوجاتا ہے تو پاکستانی جھنڈا لہرانے کو مسئلہ کیوں بنایا گیا ہے اور اس کو لیکر شوروغوغا کیوں اٹھایا جارہا ہے۔ پیر کے دن جاری اخباری بیان میں حریت ترجمان ایاز اکبر نے کہا کہ مفتی سعید ’’نظریات کی لڑائی‘‘ شروع ہونے سے پہلے ہی ہار گئے ہیں۔

اور اپنی شکست کو چھُپانے کے لیے اب وہ ایک ایسے اشو کو بنیاد بنانا چاہتے ہیں، جو درحقیقت کوئی اشو ہی نہیں تھا۔ بات صرف اتنی تھی کہ گیلانی صاحب کے دہلی سے سرینگر لوٹتے وقت چند جوانوں نے پاکستانی جھنڈا لہرایا (جو کہ کشمیر میں دہائیوں سے ایک معول رہا ہے) اس کو بھارت کی بعض ٹی وی چینلوں نے فوکس کیا اور مباحثے کا موضوع بنایا۔ اس پر پارلیمنٹ میں اپوزیشن نے ہنگامہ اٹھایا اور دلی کی سرکار نے مفتی محمد سعید کو لتاڑا اور اس پر اپنا نزلہ گرایا۔ حریت ترجمان نے کہا کہ مفتی محمد سعید کوئی پروکشمیر حوصلہ مند سیاسی لیڈر ہوتے، جیسا کہ وہ اپنے کو پوز کرتے تھے، تو وہ دلی والوں کو ہمت سے جواب دیتے اور یہ منہ بولتی حقیقت سمجھاتے کہ کشمیریوں کا دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتا ہے اور یہ ملک ان کے اندرون(Inner)میں بستا ہے، لہٰذا اس چیز کو کشمیر میں روکا نہیں جاسکتا ہے، البتہ وہ پہلے مرحلے پر ہی ایکسپوز ہوگئے اور انہوں نے ثابت کردیا کہ وہ محض ایک واچ مین (Watchman)ہیں اور ان کا کام دلی والوں کے احکامات پر عمل کرنا ہے۔ حریت ترجمان نے کہا کہ گیلانی صاحب کی گھر میں نظربندی اور مسرت عالم بٹ کی جیل منتقلی محض دہلی والوں کے دباؤ کا نتیجہ ہے، ورنہ انہوں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا تھا، جس سے کسی کو کوئی نقصان پہنچنے کا احتمال ہوتا یا جوان کی نظربندی کو آئینی اور اخلاقی جواز فراہم کرتا۔ مفتی محمد سعید کی اس بات کہ ’’نظریات کی جنگ‘‘ ٹھیک ہے، البتہ اس کے کچھ حدود ہیں، جن کو کراس نہیں کیا جاسکتا ہے‘‘، پر تبصرہ کرتے ہوئے حریت ترجمان نے کہا کہ ’’نظریات کی جنگ‘‘ کے لیے مقرر حد جب ہی ختم ہوجاتی ہے، جب فریقین میں سے کوئی تشدد پر اُتر آئے اور طاقت کا استعمال کرے۔ انہوں نے کہا کہ گیلانی کی ریلی میں البتہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔ وہ ہر حیثیت سے ایک پُرامن جلسہ تھا، کیونکہ جھنڈا لہرانا کسی بھی حیثیت سے تشدد اور جُرم کے زُمرے میں نہیں آتا ہے۔ حریت ترجمان نے اپنے اخباری بیان میں کہا کہ یہ البتہ مفتی محمد سعید ہیں، جنہوں نے ’’نظریات کی جنگ‘‘ کے لیے مقرر حدود کو پھاندا ہے اور آزادی پسندوں کی پُرامن آواز کو زبردستی خاموش کرنے کے لیے انہوں نے ریاستی طاقت کا بے جا استعمال کیا ہے اور انہیں غیر آئینی اور غیر قانونی طور گھروں اور جیلوں میں نظربند کردیا ہے۔ یہ ان کے خود کے نعرے کی شکست ہے اور وہ گیلانی کا سیاسی سطح پر مقابلہ کرنے کے بجائے میدان چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ ’’نظریات کی جنگ‘‘ جب ہی کوئی معنیٰ رکھتی، جب مفتی سعید پاکستانی جھنڈا لہرانے کو اُسی طرح برداشت کرتے، جس طرح کشمیری عوام جموں کشمیر میں بھارت کا ترنگا لہرانے پر صبر کرتے ہیں، چہ جائیکہ وہ ان کی امنگوں ، آرزوؤں اور خیالات کے باکل برخلاف ہے اور وہ اس کو کسی بھی طور پسند نہیں کرتے ہیں۔

مزید : عالمی منظر