یوم کتاب پر کتاب میلہ کی اہمیت

یوم کتاب پر کتاب میلہ کی اہمیت
 یوم کتاب پر کتاب میلہ کی اہمیت

  

کسی ملک کی ترقی جانچنے کے لئے یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہاں تعلیمی نظام کیسا ہے اور کسی بھی تعلیمی نظام کو جانچنے کے لئے یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہاں کتنی لائبریریاں کام کر رہی ہیں اور کتنے لوگ اس سے استفادہ کر رہے ہیں۔ بدقسمتی سے رجحان پاکستان میں بہت کم ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ پورے پاکستان میں جتنی کتابیں موجود ہیں وہ امریکہ کی ایک یونیورسٹی لائبریری میں موجود ہیں۔

عالمی سطح پر یوم کتاب اور کاپی رائٹ ڈے ہر سال 23 اپریل کو منایا جاتا ہے۔ کتب بینی کے فروغ کے لئے حکومت پاکستان اور حکومت پنجاب نے چھٹا قومی یومِ کتاب 22 تا26 اپریل منایا ۔ قومی یوم کتاب کے حوالے سے ڈائریکٹر جنرل پبلک لائبریریز پنجاب ڈاکٹر ظہیر احمد بابر نے قائداعظم لائبریری باغ جناح لاہور، پنجاب پبلک لائبریری، گورنمنٹ ماڈل ٹاؤن لائبریری، ڈائریکٹوریٹ آف پبلک لائبریریز پنجاب اور پنجاب لائبریری فاؤنڈیشن کے اشتراک سے مختلف پروگرام ترتیب دیے تھے جن میں بْک پریڈ، مشاعرہ، ویڈیو ڈسپلے ، تراجم گول میز کانفرنس، تقریب رونمائی کتب اور نمائش کتب نمایاں تھیں۔اس دن کی مناسبت سے دنیا بھر میں کتابوں کی اہمیت اجاگر کرنے کے لئے مختلف تقاریب کا اہتمام ہوتا ہے۔ کتابوں کی نمائشیں، سیمینار، سمپوزیم اور اسی طرح کے دوسرے فنکشن منعقد کر کے کتب بینی کے ذوق و شوق کو پروان چڑھانے کی زور دار کوششیں کی جاتی ہیں۔ دور جدید میں اگرچہ مطالعہ کے نئے میڈیم متعارف ہو چکے ہیں اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی برکت سے علم کا حصول اور اطلاعات رسانی کے باب میں انقلاب برپا ہو چکا ہے، مگر کتاب کی اپنی دائمی اہمیت اور افادیت اپنی جگہ قائم و دائم ہی نہیں، بلکہ اس میں حد درجہ اضافہ ہو رہا ہے۔

کتب بینی سے انسان میں الفاظ کا ذخیرہ بھی بڑھ جاتا ہے اور وہ اس سے اپنے ما فی الضمیر کو جس طرح چاہے بیان کر سکتا ہے یہ ایک قدرتی تحفہ ہے کتب بینی کی عادت ہمیں ڈالنی ہو گی، تاکہ ایک بہتر اور سمجھ دار معاشرے کا وجود یقینی بنایا جا سکے۔ ہمیں چاہیے کہ بچوں کو لائبریری بھی لے جائیں۔ کہتے ہیں کہ لائبریری بچے کے دماغ کی بہترین میزبان ہوتی ہے۔ ڈھیر ساری کتابیں دیکھ کر بچہ خوش بھی ہوتا ہے۔ وہ اپنی مرضی سے مزاج اور پسند کے مطابق کتابوں کا انتخاب کر کے اپنی دماغی صلاحیتیں اجاگر کر سکتا ہے۔

کتاب بہت اچھی ہم نشین اور رفیق ہے۔ کتاب علم سے بھرا ہوا خزانہ اور دانش مندی سے بھرا ہوا پیمانہ ہے۔ کتاب فطرت کی بخشی ہوئی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے ، عقل و شعور کی صحیح طور پر راہنمائی کرنے اور انھیں پروان چڑھانے کا نہایت مؤثر ذریعہ ہیں۔ اس سے انسان معراج کمال پاتا ہے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے خود کتاب کی اہمیت کم کر دی ہے۔ ہم اپنے دوستوں اور بچوں کو ایک سے ایک قیمتی تحفہ دیتے ہیں، لیکن کتاب نہیں دیتے۔ ہمیں چاہیے کہ تحفہ میں بچوں اور دوستوں کو کتابیں دیں،تاکہ معاشرے میں کتاب پڑھنے کا شوق پیدا ہو۔ کتب بینی کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے سب سے پہلے اخبار، رسالے یا پھر کتابیں خرید کر پڑھیں۔ ہر محلے میں ایک مختصر سی سہی لائبریری کا قیام عمل میں لایا جانا چاہیے جہاں اردو انگریزی اور عربی کی ابتدائی کتابیں میسر ہوں۔ پبلشروں کو چاہیے کہ اپنے بزرگوں کی بہادری، انصاف اور رواداری پر مشتمل کتابیں شائع کریں، تاکہ نوجوانوں اور بچوں میں کتب بینی کا شوق پیدا ہو۔

پاکستان میں کتب بینی کے فروغ نہ پانے کی وجوہات میں کم شرح خواندگی، صارفین کی کم قوت خرید، حصول معلومات کے لئے موبائل، انٹرنیٹ اور الیکٹرونک میڈیا کا بڑھتا ہوا استعمال، اچھی کتابوں کا کم ہوتا ہوا رجحان، حکومتی عدم سرپرستی اور لائبریریوں کے لئے مناسب وسائل کی عدم فراہمی کے علاوہ خاندان اور تعلیمی اداروں کی طرف سے کتب بینی کے فروغ کی کوششوں کا نہ ہونا بھی شامل ہے۔

کتاب اور کتب خانوں کی افادیت اور اہمیت کو مہذب قوموں نے ہر دور میں تسلیم کیا ہے۔ حکومت پنجاب کتاب کی ترویج و ترقی کے لئے ملک میں کتب خانوں کا جال پھیلا رہی ہے اس سلسلے میں لاہور میں بھی مختلف پارکوں میں لائبریریوں کے قیام کی تجویز ہے۔ لائبریریوں کی ترقی، ترویج اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک ملک میں اس کے لئے باقاعدہ قانون موجود نہ ہو۔ کتب بینی کے رجحان میں اضافہ کرنے کے لئے حکومت کو چاہیے کہ پورے پاکستان میں لائبریریوں سے متعلق قانون سازی کرتے ہوئے تمام کارپوریشنز، میونسپل کمیٹیوں، ضلع کونسلوں اور یونین کونسلوں تک کو ہدایت کرے کہ وہ اپنی آمدنی کاکم از کم 3% لائبریریوں کی ترویج و ترقی پر صرف کریں۔ اور لائبریری میں کام کرنے والے سٹاف کے لئے سروس سٹرکچر و سروس رولز بنائے جائیں۔

پاکستان جیسے ملک میں جہاں کتاب پڑھنے کا کلچر پہلے ہی کم تھا اب جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے مزید کم ہوتا جا رہا ہے اور نوجوان نسل لائبریریوں کی جگہ گیمنگ زون اور ہاتھوں میں کتاب کی جگہ موبائل فونز، ٹیبلیٹ، آئی پیڈ اور لیپ ٹاپ تھامے نظر آتی ہے۔ اگرچہ نجی سطح پر کتب میلوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے، تاہم ان میلوں میں بھی نوجوان کتابیں خریدنے سے گریزاں نظر آتے ہیں۔ ’’کتاب بہترین دوست ہے‘‘‘ کی پرانی کہاوت کو ٹیکنالوجی کی نئی لہر نے تبدیل کرکے ’ موبائل فون بہترین دوست ‘ میں تبدیل کر دیا ہے، اور وہ نوجوان جو پہلے اپنا وقت کتب بینی میں گزارتے تھے اب وہی وقت جدید آلات اور انٹرنیٹ پر سرفنگ میں ضائع کر رہے ہیں۔

کتاب کسی بھی معاشرے کو مہذب، تعلیم یافتہ، تحمل مزاج بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور نوجوان نسل میں کتب بینی کی کم ہوتی عادت کے معاشرے پر نہایت غلط اثرات مرتب ہوں گے۔ صدیوں پرانے ختم ہوتے اس کلچر کو ازسرِ نو بحال کرنے کے لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ باقاعدہ مہم کے ذریعے نوجوانوں کو کتاب کی اہمیت و افادیت سے روشناس کرائے، قیمتوں میں کمی کے لیے اقدامات کرے اور نئی لائبریریوں کا قیام عمل میں لائے۔ آج کل نئی نسل میں کتب بینی کا رجحان تقریبا ختم ہوتا جا رہا ہے نوجوانوں اور نئی نسل کو چاہیے کہ وہ ہمارے اسلاف کے کارناموں سے واقفیت کے لئے قائد اعظم محمد علی جناح کے فرمودات ، علامہ اقبال کی شاعری، سرسید احمد خاں کی لکھی ہوئی کتابیں اور تحریریں،مولانا شبلی نعمانی کے خیالات ، حالی کی شاعری ، مولانا عبدالماجد دریا بادی ڈاکٹر رشید احمد صدیقی، فراق گورکھ پوری، خواجہ احمد عباس ، اشفاق احمد، ممتاز مفتی ، بانو قدسیہ، فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی، جوش ملیح آبادی، احمد فراز، جون ایلیا، حبیب جالب، منیر نیازی، عطاء الحق قاسمی اور دیگر مشاہیر کے خطبات و کلام پڑھیں اوران کے نظریات اور افکار کو عملی جامہ پہنائیں۔

مزید : کالم