دنیا کا سب بڑا سولر پارک

دنیا کا سب بڑا سولر پارک
 دنیا کا سب بڑا سولر پارک

  

چولستان سرائیکی کے لفظ ’’چول‘‘ سے نکلا ہے ،جس کا مطلب ہے ’’ وسطی حصہ‘‘ چول کا ترکی زبان میں مطلب ہے ریگستان۔چولستان چونکہ وادی سندھ اور وادی ہڑپہ میں واقع ہے اوراس لئے اس دھرتی کو چولستان کا نام دیا گیا۔چولستان کو بارہا دیکھنے کا موقع ملا ہے یہ ڈارہروں اور روہیلو ں کی سرزمین ہے چولستان 1898 میلوں پر محیط ہے یہ اپنے دامن میں عظیم تہذیبی ورثے لئے ہوئے ہے چولستان وادی ہاکڑا کا امین ہے۔اس تہذیب کی بنیاد آج سے پانچ ہزار قبل داروڑوں نے رکھی تھی جن میں ان کے قبائل کیہل،سناتھل، بھیل، گونڈ وغیرہ شامل تھے رکھی ۔ یہ داروڑو عراق کے قدیم آشوری قبائل ہم نسل وہم مذہب تھے ان کا مذہب سانپوں کی پوچاتھی ،کیونکہ سانپ کو قدیم اساطیر میں خوشحالی وترقی کی علامت کے طور لیاجاتا تھا۔

موجودہ چولستان میں پانچ ہزارسال قبل دریائے ہاکڑا میں بہتاتھا یہ دریا ہمالیہ سے نکل کر کالکہ سے ہوتا ہوا عہد قدیم کے مقدس دریا سرسوتی کے نام سے موسوم ہو کر جب موجودہ چولستان میں داخل ہوتا تھا اسکو دریائے ہاکڑا کا نام دیاجاتا تھا۔یہ دریا بے حد تیزو تند تھااس دریا کے کناروں پر وسیع ھاکڑا تہذیب نے جنم لیامورخین کے مطابق یہ قدیم تہذیب مونجودودوڑاو،ہڑپہ اور میسوپیٹیم سے دوہزار سال قدیم ہے۔تاہم جب میں پانچ مئی کو قائداعظم سولر پارک کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لئے چولستان میں داخلے کے لئے بہاولپور ائیرپورٹ کے ساتھ بہتی ہوئی صحرائی نہرکے متوازی چلتی ہوئی سڑک پر بھکا موڑ کراس کر کے چولستان میں داخل ہوئی تو پندرہ کلومیڑ تک دائیں بائیں چولستان صحرا ہزاروں سال کی بے سروسامانی کی تصویر بنا ہوا تھا، مگر قائد اعظم سولرپارک کے پراجیکٹ کے علاقہ کے شروع ہوتے ہی جو منظر میری آنکھوں کے سامنے کے ابھرا تو فیض صاحب کے لافانی مصرعے میرے ہونٹون پر امڈا آئے۔

جیسے ویرانے میں چپکے سے بہارآجائے

قائد اعظم سولر پارک سڑک کے دائیں جانب واقع ہے یہ 1500ایکڑ رقبے پر میحط ہے اس وسیع و عریض رقبے پر نیلے سولر پینل سے منعکس ہونے والی شاعیں یوں دکھائی دیے رہی تھی جیسے نیلگوں دریاسب کو دعوت نظارہ دے رہاہو۔ ۔چندسال پہلے جب سولر پارک کی قریبی بستی بھکا موٹر جانے کا اتفاق ہوا تھا تب یہ علاقہ ریت کے ٹیلے کے سوا کچھ بھی نہیں تھا،مگر اب وہاں 10ماہ کے قلیل عرصہ میں دنیا کے سب سے بڑے سولر پارک سے بجلی بنائی جارہی ہے ۔وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف نے تقریبا پونے گیارہ بجے منصوبے افتتاح کیا انہوں نے رسم نقاب کشائی کے بعد منصوبے کی کامیابی کے لئے دعاکی،وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف چین کے سفیر TBEAکے چیف ایگزیکٹواور وفاقی وزرابھی موجود تھے۔

افتتاحی تقریب کا پنڈال سادگی اور وقار حسین امتزاج تھا۔مہمانوں کو چلچلاتی اور سخت دھوپ سے بچانے سے کے لئے مکمل طور پر ائیرکنڈیشنڈرکھا گیا تھا اس تقریب میں پاکستان بھر کے ذرائع ابلاغ کے نامور اکابرین کی شرکت اس منصوبے کی افادیت و اہمیت کو اجاگر کرتی ہے ۔ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو ان کے پیش وارنہ امور کی بہتربجاآوری محکمہ تعلقات عامہ حکومت پنجاب نے خصوصی انتظامات کیے تھے۔ وزیراعظم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قائد اعظم سولر پارک پاک چین دوستی عظمتوں اور رفعتوں کا عملی ثبوت ہے۔ 2018تک تمام مسائل پر قابو پالیاجائے گا۔ گذشتہ دوسال میں بجلی میں کی فی یونٹ نرخ پانچ روپے میں کمی کی ہے انہوں نے مزید کہا کہ متبادل انرجی کے منصوبوں کے لئے پیمرا سے متعلقہ امور کے بارئے میں غورخوص کیاجائے گا۔

اس موقع پر وزیر اعلی پنجاب نے بھی اردو اور انگلش میں خطاب کیا وزیراعلی نے اس موقع پر شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وطن عزیز سے سرمایہ کار،پیسہ توکما رہے ہیں ،مگراُن کا سولر پارک جیسے منصوبوں میں دل چسپی نہ ہونا ایک افسوناک امر ہے ،تاہم یہ چینی بھائیوں کی خاص عنایت اور پاکستان سے محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے وہ آگے بڑھے اور ہمارا دست بازو بنے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دو بڑئے مسائل لوڈشیڈنگ اور دہشت گردی ہیں انہوں نے شرکا تقریب کو بتایا کہ یہ پراجیکٹ کم ترین ریٹس پر عالمی ٹینڈرنگ کے ذریعے حاصل کیا گیا جو کہ دنیا کا پہلا بڑا سولرپارک ہے اورکم بولی کے باوجود اس فرم نے پاکستان کو دوارب کی چھوٹ دی ہے۔

دنیامیں متبادل توانائی کو فیصلہ کن توانائی سے تعبیر کیا جارہا ہے اور اس موقع پر جب پاکستان گزشہ کئی سالوں لوڈشیڈنگ کا شکار ہو رہا ہے ۔ طلب اور رسد میں کمی مسلسل ملکی معشیت کو پریشان کر رہی ہے تو سولر پارک پراجیکٹ 1000میگاواٹ کامنصوبہ ملکی ومعاشی ترقی میں خوش آئندہ ثابت ہوگا اور حکومت پنجاب نے اس منصوبے کی بنیاد رکھ کر تمام صوبوں پر سبقت حاصل کی وہ قابل تقلید ہے ،کیونکہ وزیر اعلی پنجاب کا مشن لوڈشیڈنگ کا خاتمہ تھا اور سولر پارک اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے اس سولر پارک پر بہت تیز رفتاری سے کام کر کے پایہ تکمیل تک پہنچایاگیا جو کہ ملکی تاریخ میں پہلے شمسی توانائی منصوبے کا اتنی جلدی مکمل ہونا ایک ریکارڈ ہے ۔

اکانومسٹ لندن کی ایک رپورٹ کے مطابق گلوبل انرجی کی کل کھپت 30 ٹیٹرا واٹ لگائی گئی ہے گویا اگلے 35سال میں گلوبل انرجی مارکیٹ میں 12ٹریلین اضافہ ہوجائے گااس وقت دینا بھرمیں متبادل انرجی صرف ایک فی صد ہے ،مگر MITکے ایک سائیسند ان ایم نائل ساچے نے سٹنگ ربن ٹیکنالوجی متعارف کرالی ہے جس سے سولر سیل کی استعداد دگنی ہو گئی ہے اور اہم ترین وجہ یہ ہے کہ پاکستان دنیاکا ایک بہترین سولر زون تسلیم کیاجاتا ہے ،کیونکہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان سولرانرجی سے مالامال ہے یہ ان خطوں میں شامل ہے جہاں سال میں تین سودن سورج کی روشنی میسر ہوتی ہے اور اس لئے پاکستان کو ایک بہترین سولر زون کہاجاتا ہے ۔

یہ ایک اتنا بڑا پراجیکٹ گویا ایسا ہے کہ ناممکنات کو ممکنات کو بدلنے کا تجربہ ہو،تاہم یہ شہبازشریف کے ویژن اور عوام دوستی کی عملی تفسیر ہے اور یہ عزم بھی جھلکتا ہے کہ اگر سرسوتی نے منہ موڑ لیا ہے تو اس لق دق صحرا میں 10ماہ کے قلیل عرصہ میں دنیا کے سب سے بڑئے سولر پارک سے بجلی پیدا کر کے عظیم ہاکڑا تہذیب کو ایک نئے عہد میں داخل کیا گیا ہے اور سورج کی تپش کو بجلی میں بدل کر اندھیروں سے اجالاوں میں بدل رہا ہے ۔ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث سرسوتی منہ موڑنے لینے سے ہاکڑا دریاوں کی سرزمیں ریگستان میں بدل گئی یہ دریاوں کی سرزمین سرسوتی کے منہ موڑنے سے سرسز و شاداب ،اور ثمر بار وادیوں سے محروم ہوکر بے آب وگیاہ ریگستان بن گئی۔ صدیوں یہاں پر ریت کے طوفان یہاں مقدر رہے ،غربت افلاس اور پسماندگی کی تاریک چادر نے اس صحرا کو ہزاروں سال تیرہ بختی کا شکار رکھا۔

تاریخ بتاتی ہے کہ نگاہ بلندہ سخن دل نواز لیڈر شپ صحراووں کو نخلستان ویروانوں کو گلستان بناکر سماجی اور معاشی باد سموم کو خوشحالی کی باد نسیم میں بدل کر رکھ دیتے ہیں۔ دریاوں کی سوتے خشک بھی ہوجائے تو ویژینری لیڈر شپ جدید ٹیکناجوی کو استعمال کرکے صحرا کو سورج کی تپش لوٹا کر ہزروں سال پرانے تیرہ بختی کے لینڈسیکپ کو عہد جدید کی ٹیکنالوجی سے بہرمند کرکے روشنی کے نئے سفر کا آغاز کر سکتی ہے ۔ دریا خشک ہوسکتے ہیں ، مگر قلب ونظر میں ترقی کے ٹھاٹھیں مارتے جذبوں عزم صمیم سامنے کھڑی نہیں ہو سکتی صرف عوام سے محبت کا جذبہ زندہ ہونا چاہیے:

محبت ایسا دریا ہے کہ

بارش روٹھ بھی جائے، تو پانی کم نہیں ہوتا

مزید : کالم