تجارتی ومعاشی سرگرمیاں متاثرکرنے والے مسائل کی طرف توجہ دی جائے

تجارتی ومعاشی سرگرمیاں متاثرکرنے والے مسائل کی طرف توجہ دی جائے

لاہور(کامرس رپورٹر)لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو پر زور دیا ہے کہ ان مسائل کی طرف توجہ دے جو تجارتی و معاشی سرگرمیوں کو متاثر کررہے ہیں۔ ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے لاہور چیمبر کے صدر اعجاز اے ممتاز نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو جیسے اداروں کو تاجر برادری کے لیے مشکلات پیدا کرنے کے بجائے سہولت کنندہ کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر محاصل بڑھانے کے لیے تمام اقدامات اٹھارہا ہے لیکن ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کی کوشش نہیں کررہا جو محاصل کا اہداف پورا نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ اعجاز اے ممتاز نے کہا کہ 30جون 2014ء تک کل 855429افراد نے انکم ٹیکس ریٹرن فائل کی جس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے میں کامیابی حاصل نہیں کرسکا۔ لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ ایف بی آر ٹیکسٹائل سیکٹر سے سالانہ دس ارب روپے اکٹھے کرتا ہے، ٹیکسٹائل مصنوعات پر سیلز ٹیکس کی شرح دو فیصد سے پانچ فیصد کے درمیان رہتی ہے، اس شرح کے ساتھ ٹیکسٹائل سیکٹر کے پھنسے ہوئے ریفنڈز کا حجم سو ارب روپے ہوچکا ہے، اگر ایف بی آر سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافہ کرتا ہے تو ریفنڈز کا حجم مزید کئی گنا بڑھ جائے گا۔ انہو ں نے کہا کہ ایف بی آر کو انڈر انوائسنگ کے مسئلے پر خاص توجہ دینی چاہیے کیونکہ یہ معیشت کے لیے بہت بڑا خطرہ بن چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت چین کے اعداد شمار کے مطابق پاکستان کو برآمدات کا حجم گیارہ ارب ڈالر جبکہ پاکستانی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق چین سے درآمدات کا حجم 6.5ارب ڈالر ہے ۔

جس سے 4.5ارب ڈالر کی انڈر انوائسنگ ظاہر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی انوائس کی کاپی اور پیکنگ لسٹ مہیا نہ کرنے پر عائد جرمانہ پینتیس ہزار روپے سے نیچے لاکر پانچ ہزار روپے کرکے ایف بی آر نے انڈر انوائسنگ مزید آسان کردی ہے لہذا اسے اس جانب توجہ دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ صرف چین سے انڈر انوائسنگ کا خاتمہ کرکے ساڑھے چار ارب ڈالر کا فائدہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے ڈیوٹیوں اور سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافے کو مسترد کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا کہ وہ ایف بی آر کو تاجر برادری کے لیے سہولیات مہیا کرنے والا ادارہ بنائے۔

مزید : کامرس