کاشتکاروں کوموسمی کپاس کی کاشت 31 مئی تک مکمل کرنے کی ہدایت

کاشتکاروں کوموسمی کپاس کی کاشت 31 مئی تک مکمل کرنے کی ہدایت

فیصل آباد(بیورورپورٹ) محکمہ زراعت نے کاشتکاروں کوموسمی کپاس کی کاشت 31 مئی تک مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ کاشتکار موسمی حالات کی وجہ سے گندم کی کٹائی و گہائی میں تاخیر کے باعث موسمی کپاس کی بروقت کاشت یقینی بنائیں تاکہ بعد ازاں انہیں کسی نقصان یا مشکل کا سامنا نہ کرناپڑے ۔ کپاس کی بہتر اور منافع بخش پیداوار کا راز کاشت کی اچھی منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ کھیت میں ناغوں کو پر کرنے، بروقت چھدرائی و پودوں کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں پوشیدہ ہے۔انہوں نے کہاکہ کپاس کی اچھی پیداوار حاصل کرنے کیلئے قطاروں میں پودوں کا آپس میں درمیانی فاصلہ برقرار رکھنا بہت ضروری ہے تاکہ پودے جگہ کی مناسبت سے بڑھوتری کریں۔

انہوں نے کہاکہ چھدرائی کا عمل بوائی سے 20سے 25 دن کے اندر یا پہلے پانی سے پہلے یا خشک گوڈی کے بعد ہر حالت میں ایک ہی دفعہ مکمل کریں۔انہوں نے کہاکہ چھدرائی کے عمل کے دوران ایک جگہ پر ایک صحتمند پودا چھوڑ کر کمزور، بیماری سے متاثرہ اور فالتو پودے نکال دینے چاہئیں۔ انہوں نے کہاکہ درمیانی کاشتہ فصل میں پودے سے پودے کا فاصلہ 9 سے 12 انچ، کھیلیوں سے کھیلیوں کا فاصلہ 2 فٹ 6 انچ جبکہ پودوں کی تعداد 17500 سے 23000 فی ایکڑ رکھنابھی ضروری ہے تاہم کپاس کی پچھیت کاشتہ فصل میں ایک ایکڑ میں پودوں کی تعداد 23000 سے 35000 اور پودوں کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے کیلئے پودے سے پودے کا فاصلہ 6 سے 9 انچ رکھاجائے ۔ بی ٹی اقسام کو اگر لائنوں میں کاشت کیاہے تو پہلی آبپاشی بوائی کے 30 سے 35 دن بعد جبکہ بقیہ آبپاشیاں 12 سے 15 دن کے وقفہ سے کی جائیں۔ انہوں نے کہاکہ پٹڑیوں پر کاشت کی صورت میں بوائی کے بعد پہلا پانی 2 سے 3 دن بعد اور بقیہ 6 سے 9 دن کے وقفہ سے لگایاجائے اور پودے کو پانی کی کمی کی علامات ظاہر ہونے پر فصل کی فوری آبپاشی کی جائے ۔انہوں نے کہاکہ ڈرل سے لائنوں میں کاشت کی گئی روایتی کپاس کو پہلی آبپاشی بوائی کے 30 سے40 دن بعدجبکہ اس کے بعد ہر آبپاشی 12 سے 15 دن کے وقفہ سے کرکے بہترین فصل حاصل کی جاسکتی ہے ۔

مزید : کامرس