کیسے کیسے موضوعات

کیسے کیسے موضوعات
کیسے کیسے موضوعات

  

آج کل لکھنے کے لئے موضوعات کی کمی نہیں ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں ،کالم لکھنے بیٹھا ہوں تو موضوعات ہی موضوعات چاروں طرف بکھرے پڑے ہیں۔ مثلاً صولت مرزا کی پھانسی، سعد رفیق کی بحالی، جوڈیشل کمیشن کی پیش رفت، چودھری نثار علی خان کی پریس کانفرنس اور شٹ اپ کال، کراچی میں پانی کا بحران، اسامہ بن لادن کے حوالے سے امریکی سٹوری اور نہ جانے کیا کیا کچھ، مگر اسی دوران جب ہم نے اپنے شہر سے اٹھ کر گورنر ہاؤس جابسنے والے جناب رفیق رجوانہ کا یہ بیان پڑھا کہ وہ گورنر کی حیثیت سے تنخواہ نہیں لیں گے اور نہ ہی ان کی فیملی گورنر ہاؤس میں رہے گی تو ہمیں سخت تعجب ہوا اور ہم نے پہلی فرصت میں انہیں یہ عرض کرنے کا تہیہ کیا کہ اعلیٰ حضرت یہ غضب نہ ڈھائیے ، کم ازکم اپنے اہل خانہ کو تو چند دن گورنر ہاؤس کے مزے لینے دیجئے۔ سنا ہے اس کے دروبام جنت جیسی راحت پہنچاتے ہیں اور اس کے بہتے چشمے آب زم زم کا مزادیتے ہیں، پھر اگر قدرت نے آپ کو یہ منصب عطا کرہی دیا ہے تو کفران نعمت کیوں کرتے ہیں، آخراتنے بڑے گورنر ہاؤس میں آپ اکیلے کیسے رہیں گے اور کیسے اپنی فیملی کی یاد میں ٹھنڈی آہیں بھریں گے۔

جہاں تک ملک محمد رفیق رجوانہ کی اس بات کا تعلق ہے کہ وہ گورنر کی حیثیت سے تنخواہ نہیں لیں گے، تو دست بستہ عرض ہے کہ وہ یہ گھسا پٹا طریقہ استعمال نہ کریں۔ جہاں گورنر ہاؤس پر ہرماہ کروڑوں کے اخراجات ہوتے ہیں وہاں گورنر کی معمولی سی تنخواہ نہ لینے سے کیا فرق پڑتا ہے۔حضور یہ نہ کیجئے،کرنا ہی ہے تو کوئی اور ایسا قدم اٹھائیے کہ سرکاری خزانے کی اس سفید ہاتھی کے اخراجات سے جان چھوٹ سکے ۔ گورنر ہاؤس کے ان گنت ملازمین، اس کے دسترخوان کے لامحدود اخراجات ، اس کے بجلی و گیس کے ہوشربا بل ، اس کی تزئین وآرائش پر اٹھنے والے کروڑوں روپے کے خرچ، سب چلتے رہیں گے تو پھر تنخواہ کیوں نہ چلے۔ حضور یہ ظلم نہ کیجئے ، جوآپ کی حق حلال کی کمائی ہے ، اسے ضرور لیجئے ۔ ہاں چھوڑنا ہے تو پروٹوکول چھوڑیئے ،خصوصی جہاز سے سفر کرنا متروک قرار دیجئے ، گورنر ہاؤس کے عمومی اخراجات میں کمی لائیے ، ایسا کچھ کیجئے جو پہلے کسی نے نہ کیا ہو، یہ کام جو پہلے بھی بہت سے لوگ کرچکے ہیں، اب بھی قوم کے کئی بہی خواہ جو ماہانہ کروڑوں روپے میں پڑتے ہیں، چند ہزار روپے تنخواہ کی قربانی دے رہے ہیں، ملتان کے لوگوں میں چونکہ مہمان نوازی بہت ہے، اس لئے ملک صاحب نے بھی کہہ دیا ہے کہ ان کے دروازے عام آدمی کے لئے کھلے ہیں جلد ہی انہیں اندازہ ہوجائے گا کہ یہ عام آدمی ہمیشہ خواص ہوتے ہیں، جوبات بے بات اہل اقتدار کے ساتھ ملتے اور تصویریں کھینچواتے ہیں تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔ اس لئے حضور !اپنے دروازے بے شک بند رکھیں مگر اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھیں، شاید اس سے خلق خدا کا کچھ بھلا ہو جائے۔ ویسے آپ نے خود فرما دیا ہے کہ آپ صرف اپنے آئینی کردار تک محدود رہیں گے ، اس لئے ہمیں سرائیکی دانشور ظہوردھریجہ کی اس بات سے اتفاق کرنا پڑے گا کہ ملتان سے ایک سینیٹر چھین کر اسے گورنر ہاؤس کا قیدی بنادیا گیا ہے۔

قیدی کا ذکر آیا تو یکدم ہمارا ذہن صولت مرزا کی طرف چلا گیا۔ صولت مرزا کا اگر وڈیو بیان سامنے نہ آتا تو شاید آج اس طرح کا ردعمل دیکھنے کو نہ ملتا ، جیسا کہ اب سوشل میڈیا پر سامنے آرہا ہے ۔ ایک طرح سے طعن و تشنیع کے تیر برسائے جارہے ہیں، اس نظام پر جو آل�ۂکار کو تو پکڑتا ہے، اسے استعمال کرنے والوں پر ہاتھ نہیں ڈالتا۔ صولت مرزا سیاسی کارکنوں کے لئے بھی ایک داستان عبرت بن کر سامنے آیا ہے۔ اس سے پہلے سیاسی کارکن کسی احتجاج کے دوران پولیس کی گولی کا نشانہ بن جاتے تھے یا ساری زندگی زندہ باد اور مردہ باد کے نعرے لگا کر کسمپرسی کی زندگی گزار کے اس دنیا سے چلے جاتے تھے، مگر یہ پہلی بار ہوا ہے کہ ایک سیاسی کارکن جو قانون شکنی کا مرتکب ہوا، قانون کی بھینٹ چڑھ گیا۔ سیاسی جماعتوں کے لئے سب کچھ کرگزرنے کے جنون میں مبتلا مٹی کے مادھوؤں کے لئے صولت مرزا ایک ڈراؤنا خواب بن گیا ہے۔ جسے زندگی میں اس بات کا احساس ہوگیا تھا کہ اس کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے ، وہ جس طرح اپنے وڈیو بیان میں اپنے ماضی پر خود کو لعنت ملامت کررہا تھا، وہ اب ہماری تاریخ کا ایک باب ہے، سیاسی جماعتوں میں گھس کر بڑی اور طاقتور شخصیات بننے کے خواب دیکھنے والے کارکنوں کے لئے صولت مرزا کی زندگی میں کئی سبق موجود ہیں۔ مگر شاید سبق سیکھنے والا کوئی نہیں کیونکہ شکاریوں کے جال اس قدر پرکشش ہوگئے ہیں کہ ان سے کوئی بچنا چاہے بھی تو نہیں بچ سکتا۔

ضرور پڑھیں: اسد عمر کی چھٹی

بچنے کی بات ہوئی ہے تو لامحالہ دھیان سعدرفیق کی طرف جاتا ہے۔ وہ سپریم کورٹ کے حکم سے مستقل طورپر پٹڑی سے اترنے کی شرمندگی سے بچ گئے ہیں۔ انہیں عبو ری ریلیف مل گیا ہے، ان کے حامی جشن تو منارہے ہیں، مگر یہ نہ بھولیں کہ ابھی تلوار لٹک رہی ہے۔ ایک ماہ بعد جب سپریم کورٹ اس کیس کی روزانہ سماعت کرے گی تو جلد ہی فیصلہ بھی آجائے گا ۔ سیانوں نے مشورہ تو یہی دیا تھاکہ سعدرفیق دوبارہ انتخابات میں چلے جائیں۔ کیونکہ سیاست میں مستقل کامیابی یہی ہے کہ آپ عوام سے دوبارہ مینڈیٹ لے کر آئیں۔ عدالت کے حکم سے نااہلی پر سیاستدان ہیرو بنتا ہے، لیکن اگر اس کے حکم سے بحال ہوجائے تو زیروبن جاتا ہے ، کیونکہ اس کی بحالی کے باعث کئی طرح کے شکوک وشبہات ابھرتے ہیں لیکن شاید مسلم لیگ ن کوئی ایسی روایت قائم نہیں کرنا چاہتی کہ جو نااہلی کے کیسوں کا راستہ کھول دے بہرحال سعد رفیق ایک منجھے ہوئے سیاستدان ہیں، انہیں کچھ سمجھانا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے تاہم ہماری ناقص رائے میں اگر وہ اپنی زبان پر تھوڑا سا قابو پالیں اور سخت الفاظ اور جملوں سے پرہیز کریں تو ان کے سیاسی قدکاٹھ اور سیاسی امیج میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ انہیں ہماری یہ تجویز بالکل پسند نہیں آئے گی۔ بالکل اسی طرح جیسے پرویز رشید بھی ایسی کوئی بات سننے کے روادارنہیں ، حالانکہ اپنی اسی عادت دیرینہ کے باعث وہ خواہ مخواہ ان حلقوں کی بھی تنقید کا نشانہ بن جاتے ہیں جو حکومت کے فطری حلیف ہیں۔ مثلاً کراچی میں انہوں نے مدرسوں کے بارے میں جو متنازعہ تقریر کی ہے، اس کی چنداں ضرورت نہ تھی اور اب دائرہ اسلام سے خارج ہونے کے فتوؤں کی زد میں ہیں۔ ہمیں افسوس ہے کہ ان جیسا ایک سیاسی ورکر جو اپنی ثابت قدمی کے باعث وزارت جیسے اعلیٰ منصب تک پہنچا، اپنی حرمت وتکریم برقرار نہیں رکھ پارہا اور علماء کرام انہیں چلو بھر پانی میں ڈوب مرنے کے طعنے دے رہے ہیں۔

پانی کا ذکر آیا تو کراچی کے حالات کی تصویر سامنے آگئی، جیسے ہرروز ٹی وی چینلز دکھاتے ہیں کہ خلق خدا ایک گھونٹ پانی کے لئے ماری ماری پھر رہی ہے، کیا اندھیر نگری چوپٹ راج ہے کہ پانی کے ٹینکر کراچی کی سڑکوں پر دندناتے پھررہے ہیں لیکن شہریوں کے لئے پانی دستیاب نہیں۔ کراچی واٹر بورڈ ایک ایسے یزیدکی شکل اختیار کرچکا ہے جو صرف پیسے خرچ کرنے والوں کو پانی دیتا ہے۔ لوگ بجاطورپر یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ کراچی میں پانی کا مسئلہ بھی رینجرزکوحل کرنا چاہئے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پانی کی فراہمی اس قدر دشوار گزار ہے کہ رینجرز اگر اسے اپنے کنٹرول میں لے بھی لے تو پورا نہیں کرسکتی۔ کراچی میں پانی کی قلت سال ہا سال سے چلی آرہی ہے۔ اربوں روپے ہرسال اس میں رکھے جاتے ہیں، مگربجائے اس حوالے سے کوئی کام نہیں کیا گیا۔ سندھ میں پیپلزپارٹی اور ایم کیوایم ہی برسوں سے برسراقتدار ہیں۔ یہ خود کو اس مسئلے سے بری الذمہ قرار نہیں دے سکتیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اس بارے میں سندھ اسمبلی بھی خاموش ہے اور سندھ حکومت بھی۔ ایم کیوایم نے اس مسئلے کو بنیاد بناکر سندھ کے گورنر عشرت العباد سے مستعفی ہونے کا مطالبہ تو کردیا ہے، لیکن یہ نہیں بتایا کہ وہ اس سلسلے میں کردار کیسے ادا کرتے ، کیا گورنر ہاؤس میں پانی کے چشمے بہہ رہے ہیں، جن سے وہ کراچی کو سیراب کرتے، حقیقت یہ ہے کہ ہرطرف کرپشن کی گنگا تو بہہ رہی ہے، مگر اس سے عوام اپنی پیاس نہیں بجھا سکتے ، کیونکہ یہی گنگا درحقیقت ان کے تمام مسائل کی جڑ ہے اور اسی کی وجہ سے وہ آج پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔

مزید : کالم