حکومت پنجاب، کارکردگی میں اول!

حکومت پنجاب، کارکردگی میں اول!

پلڈاٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق چاروں صوبوں کی کارکردگی کے بارے میں کرائے گئے ایک سروے کے مطابق گڈ گورننس کے حوالے سے پنجاب پہلے نمبر پر آیا، دوسرے نمبر پر خیبرپختوا اور سندھ معہ بلوچستان ان کے بعد ہیں۔ پلڈاٹ نے اس سلسلے میں جو سروے کرایا اس کے مطابق پنجاب کو ٹیکس وصولی میں76اور تنظیمی امور میں شفافیت پر 53فیصد نمبر ملے ہیں۔ خیبرپختونخوا 37فیصد اور سندھ، بلوچستان نے34،34فیصد نمبر حاصل کئے ہیں۔پلڈاٹ ایک معتبر این جی او ہے، جو قومی امور اور معاملات پر سیمینار اور مجالس مباحث بھی منعقد کراتی ہے۔ ان میں مُلک کے مستند اور نامور دانشور، صحافی اور ہنر مند حضرات اپنی رائے دیتے ہیں، جبکہ مختلف امور کے حوالے سے سروے بھی کرائے جاتے ہیں ،جو الیکٹرونک میڈیا وسائل کے علاوہ سوال نامہ دستی بھی بھروایا جاتا ہے یوں یہ سروے مستند جانا جائے گا۔ اگرچہ پنجاب ان امور میں سرفہرست ہے تاہم اس کی کارکردگی کے معیار کو بہتر بنانے کی بہت گنجائش پائی جاتی ہے۔ اب تک بھی جو نتائج آئے ان میں ٹیکس کی وصولی زیادہ بہتر ہوئی، جبکہ حکومتی امور کی کارکردگی کا معیار دوسروں سے بہتر ہونے کے باوجود ابھی مزید بہتری کی گنجائش رکھتا ہے۔پنجاب کے بارے میں سروے کے نتائج بنیادی طور پر خود وزیراعلیٰ پنجاب کی کاوش کا نتیجہ ہیں جو وہ خود کرتے ہیں، ان کی محنت اور تیز کام کرنے کی عادت کی وجہ سے ان سے منسلک عملہ اور سیکرٹری حضرات بھی خبردار رہتے ہیں، اس لئے بہت سے معاملات بہترا نداز میں حل ہوتے ہیں۔اس سلسلے میں حکومتی کارکردگی میں جو کمی نظر آئی وہ بھی سرکاری اداروں مثلاً پولیس، ایل ڈی اے، ٹاؤن اور ضلعی امور کے باعث ہے ان اداروں کی بہتری کے لئے کی جانے والی کوششیں ابھی اپنے نتائج دینے میں تاخیر کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پولیس اور شہری ترقیاتی ادارے تو بدنامی کا بھی باعث ہیں، حتیٰ کہ بلدیاتی اداروں پر تو وزیراعلیٰ کے احکام بھی اثر نہیں کرتے۔ اگر ان اداروں کے سربراہ اور مختلف شعبوں کے انچارج ذاتی دلچسپی لیں تو ان اداروں کی کارکردگی کو بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے اور یہ شعبہ بھی زیادہ نمبر حاصل کر سکتا ہے۔بہرحال وزیراعلیٰ مبارکباد کے مستحق ہیں کہ یہاں تک تو پہنچے، مزید بہتری کی توقع رکھنا چاہئے۔

مزید : اداریہ