سندھ کا نیا گورنر سوچ سمجھ کر لگایا جائے، جو باصلاحیت بھی ہو

سندھ کا نیا گورنر سوچ سمجھ کر لگایا جائے، جو باصلاحیت بھی ہو

کراچی سے نصیر احمد سلیمی

قومی اسمبلی کے حلقہ 246کے صاف شفاف ضمنی انتخاب میں بھاری اکثریت سے شاندار فتح نے ایم کیو ایم کو نئی زندگی دی اور اسے اس دباؤ سے بھی نکالا ہے جو 90پرچھاپے کے دوران وہاں سے پولیس کو مطلوب ملزموں کی گرفتاری کی وجہ سے تھی مگر ایم کیو ایم تاحال اس داخلی اور خارجی بحران سے نہیں نکل پا رہی جس کا اسے سامنا ہے، گورنر عشرت العباد سے اظہار لاتعلقی بھی اسی بحران کا شاخسانہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان کے مطالبے پر عشرت العباد گورنر شپ سے مستعفی ہو جاتے ہیں تو سندھ کا نیا گورنر کون ہوگا؟ اور اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ خود ڈاکٹر عشرت العباد کا اپنا مستقبل کیا ہوگا؟ وہ اپنی جماعت کے ساتھ کھڑے ہوں گے یا ایم کیو ایم کی قیادت کے لئے ذوالفقار علی مرزا کی طرح کا کردار ادا کریں گے؟ یہ اندازہ تب ہوگا جب ڈاکٹر عشرت العباد مستعفی ہو کر گورنر ہاؤس سے باہر نکلیں گے۔ ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ مستعفی ہو وقت لیں گے۔ اب ان کے رہنے کا کوئی جواز نہیں رہ گیا۔ خواہ وفاقی حکومت ان سے استعفیٰ طلب کرے یا نہ کرے۔ ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار نے اپنے پریس کانفرنس اور جیو کے شاہ زیب خانزادہ کے پروگرام میں دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ انہوں نے مستعفی ہونے کا مطالبہ الطاف حسین کی منظوری کے بعد کیا۔لیکن بعض سیاسی اور صحافتی حلقے اس امکان کو رد نہیں کررہے کہ ڈاکٹر عشرت العباد بھی مستعفی ہونے کے بعد مصطفی کمال کی طرح بحریہ ٹاؤن کے ملک ریاض کے سایہ عافیت میں چلے جائیں گے۔ ملک ریاض نے تین سال سے مصطفےٰ کمال کو رکھا ہوا ہے تو انہیں ڈاکٹر عشرت العباد کو رکھنے میں کیا تکلف ہوگا۔ البتہ وہ یہ رسک نہیں لیں گے کہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی مرضی نہ ہو تب بھی وہ انہیں رکھیں۔ مصطفےٰ کمال کے حوالے سے واضح ہو گیا ہے کہ ان کا ’’دبئی‘‘ میں رہ کر کراچی کے پروجیکٹ کی دیکھ بھال کرنا ایم کیو ایم کی قیادت کی مرضی و منشا کے بغیر تو ممکن نہیں ہو سکتا۔ پریس کانفرنس میں اس کا انکشاف تو بحریہ ٹاؤن نے کیا ہے کہ جناب مصطفےٰ کمال ہمارے کراچی کے پروجیکٹ دیکھ رہے ہیں۔ گورنر صاحب کے حوالے سے منظر جلد صاف ہو جائے گا۔ جناب ڈاکٹر عشرت العباد کو سب سے کم عمر ترین گورنر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوا اور سب سے طویل عرصے تک صوبہ کے آئینی سربراہ ہونے کا اعزازبھی۔ کاش وہ اپنی پارٹی کے مستعفی ہونے کے مطالبہ سے پہلے از خود مستعفی ہو کر باعزت رخصت ہونے کا بھی اعزاز حاصل کر لیتے۔

نیا گورنر کوئی بھی ہو۔ ڈاکٹر عشرت العباد کی طرح کا بااختیار گورنر نہیں ہوگا۔ دسمبر2002ء میں انہیں گورنر بنایا گیا تھا تو ساتھ ہی جنرل (ر) پرویزمشرف کی ضرورتوں اور سیاسی مصلحتوں کے تحت فیصلہ سازوں نے سندھ میں تقسیم اختیارات کا ماورائے آئین خصوصی سیٹ اپ بھی تشکیل دے کر انتظامی اختیارات کو وزیراعلیٰ اور گورنر کے درمیان تقسیم کر دیا تھا، جس سے سندھ کے شہری علاقوں پر ایم کیو ایم کا اور اندرون سندھ وزیراعلیٰ کا راج ہو گیا۔ اختیارات کے استعمال پر جھگڑے پڑنے پر بار بار جنرل پرویز مشرف کو وزیراعلیٰ اور ایم کیو ایم کے درمیان صلح صفائی بھی کرانا پڑتی۔ جنرل (ر) پرویز مشرف کی رخصتی کے بعد پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری جن کے پاس صدر مملکت کا منصب بھی آ گیا تھا۔ نئی حکمت عملی کے تحت تقسیم اختیارات کا متوازی نظام ختم کرنے کے لئے ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کے ذمہ دارانہ پر مشتمل کور کمیٹی تشکیل دے دی۔ پیپلزپارٹی کو مرکز میں اپنی حکومت برقرار رکھنے کے لئے ایم کیو ایم کے 25ووٹوں کی ضرورت کی مجبوری تھی اس لئے وہ کسی صورت ایم کیو ایم کو ناراض کرنے کے متحمل نہیں تھے۔ سندھ میں دوسری قومی جماعتوں کا راستہ روکنے کے لئے ساتھ چلنا پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کی مجبوری بھی تھی اور جب دونوں کا الگ ہو کر مرکز کے انتخاب سے قبل نگران سیٹ اپ بنانے کی ضرورت پڑی تو ملی بھگت سے یہ بھی کر لیا، البتہ مئی 2013ء کے عام انتخاب نے منظر نامہ تبدیل کر دیا۔ مرکز میں مسلم لیگ (ن) کو حکومت سازی کے لئے واضح اکثریت ملنے کی وجہ سے ایم کیو ایم کے ووٹوں کی حاجت نہیں رہی اور سندھ میں پیپلزپارٹی کے پاس سندھ اسمبلی میں حکومت سازی کے لئے ووٹ پورے تھے، مگر جناب زرداری کو سندھ میں جن چیلنجز کا سامنا ہے اور آنے والے دنوں میں بھی ہوگا وہ ایم کیو ایم کی ناراضگی کے متحمل نہیں ہو سکتے، یہی خطرہ زرداری صاحب کو ایم کیو ایم کی طرف مائل بہ کرم کئے ہوئے ہے۔ سندھ کی بدقسمتی یہ ہے کہ اس کی منتخب سندھ اسمبلی اور اسمبلی کے ذریعہ وجود میں آنے والی سندھ حکومت کو آزادانہ طور پر اپنے فیصلے خود کرنے کی کسی منتخب حکومت کے دور میں آزادی نہیں رہی۔ مستند شہادت کے لئے محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کی پہلی حکومت میں ان کے قومی سلامتی کے مشیر اقبال اخوند کی کتاب ’’بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت‘‘ کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ جس میں وہ لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ محترمہ کراچی میں سندھ کے امن و امان پر بحث کے دوران کہنے لگیں کہ سندھ میں امن و امان کا مسئلہ حل ہو تو کیسے ہو؟ یہاں تو پانچ وزیراعلیٰ ہیں، جن میں ایک والدہ محترمہ اور ایک میرے شوہر نامدار بھی ہیں۔جنرل پرویز مشرف کے دور میں وزیراعلیٰ ہاؤس اور گورنر ہاؤس میں دو متوازی حکومتیں قائم تھیں تو آج بھی منتخب وزیراعلیٰ کو اپنے اختیارات پنجاب ،خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ کی طرح استعمال کرنے کی کہنے کو آزادی ہے عملاً وہ اپنے اختیارات اپنی آزادانہ مرضی سے استعمال کرنے سے کوسوں دور ہیں۔ تب ہی تو بدین میں قومی اسمبلی کی سابق سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا اور ان کے شوہر ذوالفقار مرزا چیخ رہے ہیں کہ بدین کی پوری انتظامیہ آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور کے احکامات کی پابند ہو کر ہمارا قافیہ تنگ کررہی ہے۔ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا اور ذوالفقار مرزا کی فریال تالپور کے حوالے سے بات میں وزن ہوگا، مگر جناب ذوالفقار مرزا کو خود بھی اس زمینی حقیقت کا ادراک کر لیناچاہیے کہ وہ اب ’’بادشاہ‘‘ کے ’’نو رتن‘‘ کی ٹیم کے رکن نہیں رہے ہیں بدین تھانہ پر ہنگامہ آرائی ان کو مہنگی پڑے گی۔ ہماری قومی بدقسمتی یہ بھی ہے کہ پہلے اپنے اپنے سیاسی رہنماؤں کو مافوق الفطرت مخلوق قرار دے کر ان کو ’’مقدس اوتار‘‘ کا درجہ دے کر پرستش تک لے جاتے ہیں اور جب ناراض ہو تو ’’شیطان‘‘ ثابت کرنے سے کم پر رکتے نہیں ہیں۔ آصف علی زرداری ہوں یا الطاف حسین، جناب عمران خان ہوں یا جناب میاں نوازشریف سب ہی اپنے اپنے متوالوں کے نزدیک ’’مقدس اوتار‘ کے درجے پر فائز ہیں اور ان کے مخالف ان کو ’’شیطان‘‘ ثابت کرانے سے کم کسی چیز پر راضی ہوتے نظر نہیں آتے۔

سندھ کا سیاسی منظر نامہ آنے والے دنوں میں کیا ہوگا؟ یہ ہے وہ سوال جس پر بحث و مباحثہ بھی ہو رہا ہے اور لوگوں کو تشویش میں مبتلا کئے ہوئے ہے۔ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ایک بار پھر معمول بن رہے ہیں۔ ہماری قومی سلامتی اور قومی یکجہتی کی داخلی اور خارجی دشمنوں کے اجرتی گماشتے ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے فرقہ وارانہ فسادات کی آگ بھڑکانے کے درپے ہیں۔ کراچی کا امن بحال کرنے کے لئے جاری آپریشن کو سبوتاژ کرنے کی بھی یہ ایک کوشش ہو سکتی ہے۔کراچی میں پانی اور بجلی کی عدم دستیابی کا بحران ان قوتوں کی توانائی کا باعث بن رہا ہے جو کراچی کو دہشت گردی سے پاک ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے ہیں، ایسے میں ایم کیو ایم کی احتجاج کی کال کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔

قبل اس کے کہ ایم کیو ایم اپنے احتجاجی پروگرام پر عمل درآمد کرنا شروع کرے۔ کراچی میں پانی اور بجلی کے بحران پر قابو پانے کی سنجیدہ کوشش کر لینی چاہیے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ کراچی میں امن کو یقینی بنانے کے لئے یہاں کے حقیقی مسائل کو حل کرنے میں صوبائی حکومت کے ساتھ وفاقی حکومت بھی اپنا موثر کردار ادا کرے۔

ایم کیو ایم کو لسانی جماعت کے طور پر دیکھنے کی پالیسی پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ پیپلزپارٹی ہو یا ایم کیو ایم دونوں کی ’’بیک بون‘‘ سندھ میں سرکاری ملازمین ہیں، جب تک سرکاری ملازمتوں میں انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے دیانت داری کے ساتھ ’’میرٹ‘‘ بحال نہیں ہوگا۔ سندھ میں دونوں جماعتوں کا کردار شہری سندھ اور دیہی سندھ کی نمائندگی کرنے والی جماعتوں کا رہے گا۔ اس کے لئے قومی سیاست کرنے والی تمام جماعتوں کو آگے بڑھنا ہوگا اور انہیں ہر فورم پر سندھ کے مسائل حل کرنے کے لئے موثر آواز اٹھانا پڑے گی۔ سندھ میں پیپلزپارٹی جب تک دیہی سندھ کی نمائندہ جماعت رہے گی۔ شہری سندھ میں ایم کیو ایم کو بھی تقویت اور توانائی ملتی رہے گی اور ہمیں اس حقیقت کا بھی ادراک کرنا ہوگا کہ سندھ کے تمام طبقات خواہ اس کا کسی بھی مکتبہ فکر سے تعلق ہو۔ سندھ کو دہشت گردی کی لعنت سے پاک دیکھنا چاہیے۔ سب کی دلی تمنا ہے کہ سندھ ہمہ اقسام کے مسلح گروہوں اور ان کے ’’طاقت ور‘‘ سرپرستوں سے پاک ہو۔ اس کے لئے دوران آپریشن پانی بجلی کا بحران پیدا نہیں ہونے دینا چاہیے اور جناب وزیراعظم کو نیا گورنر ایسا لگانا چاہیے جو یہاں کی مقامی سیاست میں کسی ایک فریق کا ساتھ دینے کی بجائے اپنے آئینی منصب کا ادراک بھی رکھتا ہو اور اس کے تقاضے پورا کرنے کی اہلیت اور صلاحیت بھی رکھتا ہو۔

مزید : ایڈیشن 1