محکمانہ غفلت،2رجسٹری محرر، 2 پٹواری معطل ،محکمانہ انکوائری کا حکم

محکمانہ غفلت،2رجسٹری محرر، 2 پٹواری معطل ،محکمانہ انکوائری کا حکم

 لاہور (عامر بٹ سے)صوبائی دارلحکومت کی حدود میں محکمہ ریونیو کی انتظامی سیٹوں پر تعینات افسران کی عدم دلچسپی ،لاپرواہی کا نوٹس لے لیا گیا ،ڈی سی او لاہور نے ریونیو سٹاف کی غیر قانونی پریکٹس کا استعمال اور مجرمانہ غفلت برتنے پر کاروائی کرتے ہوئے 2رجسٹری محرروں سمیت 2 پٹواریوں کو معطل کرتے ہوئے ان کے خلاف محکمانہ انکوائری کا حکم دے دیا ہے ،معلومات کے مطابق گزشتہ دنوں ذ مہ دار شہری سیل کے حوالے سے ٹاؤن ہال میں ہونے والی میٹنگ میں بالآخر ڈی سی او لاہور کیپٹن (ر)محمد عثمان نے ریونیو کے معاملات میں غفلت برتنے اور لاپرواہی کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ،روزنامہ پاکستان میں بھی گزشتہ دنوں سے ان سنگین غلطیوں کی جانب محکمہ ریونیو کے اعلیٰ افسران کی توجہ دلانے کی کوششیں جاری تھیں جن کو تاحال سنجیدگی سے نہیں دیکھا گیا اور بالآخر ڈی سی او لاہور کو از خود اس کا نوٹس لینا پڑا ،مزید معلوم ہوا ہے کہ پی ایم یو کی جانب سے بٹھائے جانے والے سٹاف نے ضلع لاہور سے قومی شناختی کارڈ کی تصدیق کی آڑ میں 10کروڑروپے اکٹھے کئے اور بعد میں مکر گئے ،اس حوالے سے بھی ریونیو کی انتظامیہ خاموش رہی، بعد ازاں لنک ڈاؤن ،ڈیٹا انٹری سسٹم میں پرابلم اور نادرا کی جانب سے مہیا کی جانے والی سروس میں بھی بے تحاشہ رکاوٹوں کے نتیجے میں کمپیوٹرائزڈ سسٹم میں رجسٹریوں کو محفوظ کرنے کا منصوبہ ٹھپ ہو کر رہ گیا اور ضلع لاہور کی بیشتر برانچوں میں کام التواء میں ڈال دیا گیا اس حوالے سے ریونیو کی انتظامیہ لاپرواہی کا مظاہرہ کرتی ہوئی دیکھائی دی ،جبکہ '' آپ کی اطلاع ہماری اصلاح ''،وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے ضلع لاہور کے شہریوں کو کرپشن سے بچانے کیلئے تیار کئے جانے والے منصوبے کی بھی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی گئی ہیں اور رجسٹری ہذا پر جعلی ،خود ساختہ نمبروں کی فیڈنگ کا سلسلہ بھی عام کر دیاگیاہے اور اس غیر قانونی پریکٹس کی تمام تر اطلاعات کے باوجود ریونیو انتظامیہ کی جانب سے خاموشی اختیار کی گئی جس پر ڈی سی او لاہور نے ذمہ دار شہری سیل کی میٹنگ کے دوران بنیادی کام میں غفلت برتنے غیر قانونی پریکٹس کے استعمال کرنے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کرنے کی بنیاد پرداتا گنج بخش ٹاؤن کے رجسٹرری محرر رانا نوید آر ایم ون جبکہ نشتر ٹاؤن کے آر ایم تھری طیب اکبر ،بابو صابو کے پٹواری محمد اشفاق سمیت ایک اور سرکل کے پٹواری کو بھی معطل کر نے کا حکم دے دیا ہے اس کے علاوہ تمام رجسٹریشن برانچوں میں تعینات پی ایم یو کے سٹاف کو بھی ہدائت کر دی ہے کہ وہ سب رجسٹرار صاحبان کی زیر نگرانی کام کریں گے اور ڈیٹا انٹری ،قومی شناختی کارڈ کی تصدیق سے لے کر رجسٹریوں کی سکیننگ میں کوتاہی برتنے کی صورت میں اب سب رجسٹرار صاحبان کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا اس طرح تمام سب رجسٹرار کو بھی ہدائت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ رجسٹری کے اوپر چسپاں کئے گئے فارم'' آپ کی اطلاع ہماری اصلاح'' میں دیئے گئے نمبروں کی بذریعہ ایس ایم ایس تصدیق کی جائے گی بصورت دیگر جواب موصول نہ ہونے کی صورت میں اور صحیح معنوں میں تصدیق نہ ہونے کی صورت میں رجسٹری ہذا کو مشکوک قرار دیتے ہوئے التواء میں ڈال دیا جائے گا ،ریونیو ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی سی او لاہور کیپٹن (ر)محمد عثمان نے پہلی مرتبہ ریونیو کے معاملات پر ازخود نوٹس لیا ہے قبل ازیں محکمہ ریونیو کی انتظامیہ کی جانب سے برتے جانے والی غفلت اور ایڈمنسٹریشن سطح پر ہونے والی کوتاہیوں کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے دوسری جانب ڈی سی او لاہور کی جانب سے ریونیو سٹاف کے خلاف کئے جانے والے احکامات پر 10روز گزرجانے کے بعد بھی عمل درآمد نہیں کیا جا سکا ہے اور حسب معمول اس دفعہ محکمہ ریونیو کی انتظامیہ نے ڈی سی اولاہور کے احکامات بھی ردی کی نذر کر دیئے ہیں ،مخصوص لا بی نے ڈی سی او کے احکامات پر عمل درآمد کرنے کی بجائے ٹرانسفر پوسٹنگ کا ایک نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے ،جس کی وجہ اپنے خاص اہلکاروں کو سپورٹ اور تحفظ مہیا کرنا بتائی جارہی ہے تاہم دوسری جانب ڈی سی او لاہور آفس کا کہنا ہے کہ ذمہ داروں کے خلاف بلاتفریق میرٹ پر پیڈا ایکٹ کے تحت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔

مزید : صفحہ آخر