واپڈا کی نجکاری کیخلاف لیسکو ملازمین کا احتجاج ،دفاتر کی تالہ بندی

واپڈا کی نجکاری کیخلاف لیسکو ملازمین کا احتجاج ،دفاتر کی تالہ بندی

 لاہور )کامرس رپورٹر( واپڈا نج کاری کے خلاف لیسکو ملازمین گزشتہ روز بھی سراپا احتجاج بنے رہے ۔ شہر بھر کے دفاتر کی تالہ بندی کرکے واپڈا ہاؤس اور لیسکو ہیڈ آفس کے باہر شدید احتجاج کیا ۔ لیسکو افسران کی نج کاری کمیشن کے دفتر میں پرائیویٹ کنسلٹنٹ سے ملاقات کی خبر پر ملازمین مسلم ٹاؤن میں واقع نج کاری کمیشن کے دفتر پہنچ گئے اور دفتر کا گھیراؤ کرکے دفتر میں گھس گئے لیسکو کے ڈائریکٹر فنانس میاں بشارت سمیت دیگر اعلی افسران نے اپنی گاڑیاں وہیں چھوڑ کر بھاگ کر اپنی جانیں بچائیں ۔ میاں بشارت ایک رکشہ پر بیٹھ کر بھاگنے میں کامیاب ہوئے ۔ بعد ازاں ملازمین دوبارہ لیسکو ہیڈ آفس کے باہر جمع ہو گئے ۔ ملازمین کی ہڑتال کے باعث دیگر معاملات سمیت صارفین کی شکایات کا بھی ازالہ نہیں ہو سکا جن علاقوں میں بجلی کی سپلائی میں پیر کی شام آنے والی آندھی سے نقص پیدا ہوئے ملازمین نے ان کو درست نہیں کیا ۔ حتی کہ سب ڈویژنوں میں صارفین کی شکایات کو بھی درج نہیں کیا گیا صارفین کو یہ کہ کر ٹرخا دیا گیا کہ یونین کے چیئرمین خورشید صاحب کی ہدایت ہے کہ کوئی شکایت درج نہ کی جائے اور کسی فیلڈ میں جا کر کوئی کام نہ کیا جائے ۔ ملازمین کے اس رویہ کے باعث کئی علاقوں میں دو دن گزر جانے کے بعد بھی بجلی کی سپلائی معطل ہے ۔ صارفین دفاتر کے چکر لگا رہے ہیں اور کوئی شنوائی نہیں ہو رہی ۔ تفصیلات کے مطابق واپڈا کی نج کاری کے خلافواپڈا ہائیڈرو یونین کی کال پر ملازمین نے دوسرے روز بھی لیسکو ہیڈ آفس اور واپڈا ہاؤس کے باہر احتجاجی دھرنا دیا ۔ دھرنا کئی گھنٹے جاری رہا ۔ ملازمین نے ہیڈ کوارٹر کا مکمل طور پر گھیراؤ کئے رکھا نج کاری اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی، احتجاجی دھرنے میں شریک ملازمین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر نج کاری کے خلاف نعرے درج تھے جبکہ ہیڈ کواٹرز پہنچنے والے چیف ایگزیکٹو سمیت دیگر افسروں کو دفتر میں داخل نہیں ہونے دیا ۔ ملازمین نے افسران کا گھیراؤ کر لیا اور کئی افسروں نے بھاگ کر اپنی جان بچائی اور سرکاری گاڑیاں چھوڑ کر رکشوں میں واپس لوٹ گئے۔ واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک لیبر یونین کے سیکرٹری جنرل خورشید احمد کی طرف سے اعلان کردہ احتجاجی کال پر لیسکو کے سینکڑوں ملازمین صبح ہی ہیڈ کوارٹر کے باہر اکٹھے ہوگئے اور دفتری اوقات کار شروع ہونے سے قبل ہی احتجاجی ملازمین لیسکو ہیڈ کوارٹر کے باہر دھرنے دے کر بیٹھ چکے تھے ، ملازمین نے نج کاری کے خلاف شدید نعرے بازی کی ۔ احتجاجی ملازمین نے لیسکو کے عقبی دروازے پر دھرنا دیے رکھا اور کسی بھی اہلکار سمیت دیگر افسران کو ہیڈ کوارٹر کے اندر داخل نہ ہونے دیا ۔ بعد ازاں ملازمین کو اطلاع ملی کہ لیسکو کے ڈائریکٹر فنانس دیکر افسران کے ہمراہ مسلم ٹاؤن میں واقع نج کاری کمیشن کے دفتر میں نج کاری کے لئے تعینات کئے گئے کنسلٹنٹ کو لیسکو کے فنانشل معاملات کے حوالے سے بریفنگ دے رہے ہیں اس اطلاع پر سینکڑوں ملازمین نج کاری کے دفتر پہنچ گئے انہوں نے دفتر کا گھیراؤ کر لیا اور دفتر میں گھس گئے جس پر نج کاری کے افسران سمیت لیسکو کے افسران نے بھاگ کر اپنی جانیں بچائیں ڈائریکٹر فنانس میاں بشارت اپنی کار وہیں چھوڑ کر ایک رکشہ میں بیٹھ کر بھاگنے میں کامیاب ہوئے ۔ بعد ازاں ملازمین دوبارہ لیسکو ہیڈ آفس آ گئے ۔ ملازمین کی ہڑتال کے باعث ہیڈ کوارٹر میں سرکاری امور ٹھپ ہو کر رہے جبکہ مختلف علاقوں سے مسائل کے حل کیلئے آئے ہوئے سائلین بھی واپس لوٹ گئے ۔ مظاہرین اس موقع پر نج کاری نہ منظور اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے ۔ لیسکو ملازمین کے دھرنے کی وجہ سے وارث روڈسے گنگا رام چوک تک کوئنز روڈ کا ایک حصہ ٹریفک کیلئے شام چار بجے تک مکمل بند رہا جسکی وجہ سے ٹریفک کا دباؤ بڑھنے سے مال روڈ سمیت دیگر شاہراہوں پر ٹریفک کا نظام صبح سے لے کر شام تک شدید تعطل کا شکار رہا ۔ یونین کے سیکرٹری جنرل خورشید احمد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واپڈا کا مزدور اپنی جان تو دے سکتا ہے لیکن اسکی نج کاری نہیں ہونے دیں گے۔ حکومت آئی ایم ایف کے دباؤ پر قومی اداروں کی نج کاری کر رہی ہے جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔ کراچی ، ملتان ، راولپنڈی کمپنیوں کی نج کاری کر کے نتائج دیکھ لئے گئے ہیں ، واپڈا دو سے ڈھائی روپے میں بجلی کا فی یونٹ پیدا کر رہا ہے جبکہ پرائیویٹ ہونے والی کمپنیاں یہی یونٹ پچیس سے تیس روپے میں پیداکررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم حکومت کو دھکے دینے والے نہیں ، وزیر اعظم ، وزیر اعلیٰ اور وزیر پانی و بجلی ہم سے بات کریں اگر ہم ملکی مفاد کے خلاف بات کر رہے ہوئے تو ہم پیچھے ہٹ جائینگے اگر ہم اپنا موقف سچ ثابت کر دکھائیں تو حکومت اپنے فیصلے کو واپس لینے کا اعلان کرے ۔ انہوں نے کہا کہ کمپنیوں کی نج کاری کی بجائے اصلاحات کی جائیں ، نج کاری کے فیصلے سے نہ صرف بجلی مہنگی ہو گی بلکہ لوڈ شیڈنگ میں بھی اضافہ ہوگا۔ ملازمین کا احتجاج

مزید : صفحہ آخر