ایف بی آر پر انحصار کی بجائے ٹیکس ریفارمرکمیشن کی سفارشات کو خصوصی اہمیت مل گئی

ایف بی آر پر انحصار کی بجائے ٹیکس ریفارمرکمیشن کی سفارشات کو خصوصی اہمیت مل ...

لاہور(صبغت اللہ چودھری) وفاقی بجٹ 2015-16 ء کی تیاری میں ایف بی آر پر مکمل انحصار کی بجائے ٹیکس ریفارم کمیشن کی سفارشات کو خاص اہمیت دی گئی ہے، فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے ٹیکس نیٹ میں اضافے سمیت ریونیو اہداف حاصل کرنے میں ناکامی اور ٹیکس استثنیٰ والے متنازعہ ایس آر اوزکے خاتمے کے حوالے سے ایف بی آر کی غیر تسلی بخش کارکردگی کے باعث آئندہ بجٹ میں محکمہ کا کردار محدود ہوا ہے۔وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے ہر سال ایک لاکھ نئے افراد کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا دعویٰ بھی پورا نہیں ہو سکا اور مجموعی طور پر ٹیکس بیس وسیع کرنے کیلئے بھی خاطر خواہ اقدامات کی بجائے موجودہ ٹیکس دہندگان کو ہی نچوڑنے کی کوشش کی گئی، ملک بھر میں 40 لاکھ این ٹی این ہولڈر افراد میں سے صرف 7 لاکھ 27 ہزار 770 افراد ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ میں شامل ہیں ۔ یعنی ایسے افراد جنہوں نے اپنی انکم کے سالانہ گوشوارے داخل کئے ۔دوسری جانب رواں مالی سال میں ٹیکس وصولیوں کامجموعی ہدف نظرثانی کے باوجود حاصل نہیں ہو سکا،2800 ارب روپے کا مقررہ ہدف نظر ثانی کے بعد 2600 ارب رکھا گیا جو بمشکل حاصل ہو سکے گا۔ تاریخی لحاظ سے بجٹ کی تیاری ایف بی آر کی ذمہ داری رہی ہے تاہم اس مرتبہ ٹیکس ریفارم کمیشن کا ڈاکومنٹ بھی میز پر ہے ۔ کمیشن نے انکم ٹیکس ، سیلز ٹیکس اور ڈائریکٹ ٹیکسز کے حوالے سے متعدد تجاویز دی ہیں جبکہ بلیک منی(کالے دھن) کو سفید کرنے کی حوصلہ شکنی کیلئے موجودہ قوانین میں ضروری ترامیم کی سفارش کی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکس ریفارم کمیشن کی سفارشات کو آئندہ بجٹ کا حصہ بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اس حوالے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے لاہور ٹیکس بار کے سابق صدر زاہد عتیق چودھری نے کہا کہ کمیشن کی سفارشات انتہائی موزوں جن کی روشنی میں بجٹ بننا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ ایف بی آر نے رواں مالی سال میں ٹیکس نیٹ میں اضافے کیلئے ضروری اقدامات نہیں کئے اور اس مرتبہ بھی موجودہ ٹیکس دہندگان پر ہی زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالا گیا، انہوں نے کہا کہ ایف بی آر صرف آسان طریقوں سے ٹیکس اکٹھا کرنے میں مصروف ہے تاہم ٹیکس ٹو جی ڈی پی میں اضافے کیلئے کوشش نہیں کی جا رہی،پورے سال میں ٹیکس بیس میں اضافے کیلئے کمرشل اداروں اور صنعتی زونز کا سروے نہیں کیا گیا اور نہ ہی ایف بی آر کے پاس موجود نئے لوگوں کے ڈیٹا سے فائدہ اٹھایا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ اسی خراب کارکردگی کے باعث ایف بی آر کے اختیارات اکنامک کمیٹی اور ٹیکس کمیشن کو تفویض کئے گئے ہیں۔ زاہد عتیق چودھری کا کہنا تھا کہ ملک کی اشرافیہ ٹیکس نہیں دے رہی، زراعت سمیت دیگر شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانا چاہیے۔

مزید : صفحہ آخر