امریکی سائنسدانوں نے مریخ اور مشتری کے درمیان سیارے پر روشنی کا پتہ لگا لیا

امریکی سائنسدانوں نے مریخ اور مشتری کے درمیان سیارے پر روشنی کا پتہ لگا لیا
 امریکی سائنسدانوں نے مریخ اور مشتری کے درمیان سیارے پر روشنی کا پتہ لگا لیا

  

 سان فرانسسکو (نیوز ڈیسک) امریکی سائنسدانوں نے سیارہ مریخ اور مشتری کے درمیان پائے جانے والے بونے سیارے سئیریس کی پر اسرار روشنیوں کی اب تک کی واضح ترین تصاویر حاصل کر کے خلائی مخلوق کے اشارے قرار دی جانے والی روشنیوں کی حقیقت کا سراغ لگا لیا ہے۔ نئی تحققیات کے مٖطابق سیارے پر روشنی پیدا کرنے والے کوئی اجزاء نہیں ہیں بلکہ اس پر نظر آنے والی روشنیاں سورج کی روشنی کا عکس ہیں۔پہلے جنہیں دو بڑی روشنیوں کا جوڑا سمجھا جاتا تھا اب انکشاف ہوا ہے کہ یہ بہت سی چھوٹی روشنیوں کا مجموعہ ہیں۔ تازہ معلومات بونے سیارے سے 13600 میل کی دوری پر اس کے گرد چکر لگانے والے ڈان خلائی جہاز نے بھیجی ہیں۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے سائنسدان کرسٹوفر رسل کا کہنا ہے کہ ان روشنیوں کے بارے میں مختلف قسم کے نظریات پیش کئے جاتے رہے ہیں جن کے مطابق یہ روشنیاں بونے سیارے کی تخلیق ہیں لیکن تازہ ترین تصاویر ظاہر کرتی ہیں کہ سیارے پر موجود نمک کے زخائر یا برف سورج کی روشنی کو منعکس کرتی ہے جس کی وجہ سے اس پر روشنیاں نظر آتی ہیں۔بونے سیارے سئیریس پر پائی جانے والی روشنیوں میں سے دو نمایاں ترین 92 کلومیٹر قطر کے ایک بڑے گڑھے میں چمکتی نظر آتی ہیں۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ سورج کی روشنی سیارے کی سطح پر موجود برف کے وسیع زخائر سے منعکس ہوتی ہے۔ ایک اور تھیوری کے مطابق سیارے کی سطح پر موجود نمکین پانی کے خشک ہونے کے بعد نمک باقی رہ گیا جو سورج کی روشنی کو منعکس کر کے پر اسرار روشنیوں کو جنم دیتا ہے۔

مزید : علاقائی