اٹلی کامنحوس گاؤں جہاں آج بھی2 دل اور 3پھیپھڑے والے بچے پیدا ہوتے ہیں

اٹلی کامنحوس گاؤں جہاں آج بھی2 دل اور 3پھیپھڑے والے بچے پیدا ہوتے ہیں

 روم(مانیٹرنگ ڈیسک) اہل یورپ اپنے علم، ترقی اور روشن خیالی کی وجہ سے خود کو باقی دنیا سے افضل گردانتے ہیں لیکن اکثر یورپ سے ایسی خبریں آتی رہتی ہیں جو اہل یورپ کو انتہائی دقیانوس ثابت کرتی ہے۔ ایسی ہی ایک خبر ہے کہ اٹلی کے ایک قصبے ’’کولوبریرو‘‘کو یورپ کا سب سے زیادہ خوفناک اور منخوس قصبہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس قصبے کے متعلق طرح طرح کی کہانیاں بیان کی جا رہی ہیں کہ وہاں جو بچے پیدا ہوتے ہیں ان کے 2دل اور 3پھیپھڑے ہوتے ہیں، قصبے میں بہت زیادہ ٹریفک حادثات ہوتے ہیں اور یہ کہ اس کے پرپیچ راستوں میں انسان کھو جاتا ہے۔ اس قصبے کے متعلق اٹلی کے باشندوں میں اس قدر خوف پایا جاتا ہے کہ وہ اس قصبے کا نام پکارنا بھی نحوست کا باعث سمجھتے ہیں اور اپنی گفتگو میں اس کا نام نہیں لیتے۔قصبے کی نحوست کے متعلق یہ کہانیاں نئی نہیں بلکہ اس قصبے کے قیام سے لے کر ہی یہ کہانیاں اس کا پیچھا کر رہی ہیں۔ قصبے کے نام کولونیروکا ماخذ لاطینی لفظ کولبر ہے جس کا مطلب ’’برائی کا اوتار‘‘ ہیں۔ اس کے برعکس ایک کہانی یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ 20ویں صدی کے وسط میں ایک وکیل اور جادوگرنی اس قصبے کی نحوست کا باعث بنے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ بیاجیو ورجیلیو ایک دولت مند وکیل تھا جو زندگی میں کوئی کیس نہیں ہارا تھا اور اس کے کئی دشمن تھے۔ ایک دن عدالت میں دلائل دیتے ہوئے اس نے کہا کہ اگر میں جھوٹ بول رہا ہوں تو یہ فانوس نیچے گر جائے ۔اس کا یہ کہنا تھا کہ فانوس گر گیا۔ اگرچہ اس واقعے میں کوئی زخمی نہ ہوا لیکن اس وکیل کا نام نحوست کے ساتھ جڑ گیا جس سے کولوبریرو کی شہرت بھی منحوس قصبے کے طور پر ہوگئی۔جادوگرنی کے حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ اس کا نام لاکیٹر تھا اور اس کے جادو کی وجہ سے اس قصبے پر نحوست چھائی۔ لیکن اس جادوگرنی کی پوتی ایلینا ڈی نیپولی، جو سیاحتی بورڈ کی انچارج بھی ہے، کا کہنا ہے کہ اس کی دادی جادوگرنی نہیں تھی۔حیرت کی بات یہ ہے کہ انتہائی بری شہرت کے باوجود اس قصبے کی سیاحتی حیثیت میں کوئی فرق نہیں آیا،یہاں ہر موسم گرما میں قصبے کی تاریخی حیثیت کو آشکار کرنے اور سیاحوں کو مائل کرنے کے لیے ایک فیسٹیول کا انعقاد کیا جاتا ہے۔اس فیسٹیول میں مقامی فنکار سیاحوں کو جنوں، بھوتوں اور ستاروں سے متعلق جادوئی کہانیاں سناتے ہیں۔

مزید : علاقائی