حکومت نے مطالبات تسلیم نہ کئے تو ان ایوان وزیر اعلیٰ کے باہر دوبارہ دھرنا دینگے ایپکا

حکومت نے مطالبات تسلیم نہ کئے تو ان ایوان وزیر اعلیٰ کے باہر دوبارہ دھرنا ...

لاہور( لیاقت کھرل) سرکاری ملازمین نے ’’ پاکستان فورم‘‘ میں حکومت سے مطالبات میں کہا ہے کہ آئندہ بجٹ کی تیاری میں ایپکا کے نمائندوں سے مشاورت کی جائے ۔ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں 50 فیصد اضافہ اور کلرکس فاؤنڈیشن کو بحال کر کے اس کے قریز کئے گئے چار کروڑ کے فنڈز بھی بحال کرنے کے علاوہ آئندہ بجٹ میں حج کوئٹہ ، ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کی مکمل بحالی کا اعلان جبکہ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے نام پر تنخواہوں سے ہونے والی کٹوتی کے باوجود گھر الاٹ نہ ہونے کا نوٹس لیا جائے اور اگر حکومت نے ان کے مطالبات اور حکومت کو پیش کردہ چارٹر آف ڈیمانڈ پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو لاہور سمیت پنجاب بھر کے سرکاری دفاتر میں مکمل ہڑتال، افسران تک کو دفاتر میں گھسنے نہیں دیا جائے گا جبکہ 14 مئی کو ناصر باغ سے پنجاب اسمبلی اور پھر ایوان وزیر اعلیٰ تک احتجاجی ریلی نکالی جائے گی اور ایوان وزیراعلیٰ کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار ایپکا کے مرکزی و صوبائی سمیت ریجنل عہدیداروں نے ’’ پاکستان فورم‘‘ میں اظہار خیال کے دوران کیا ہے۔ اس موقع پر ایپکا کے مرکزی چیئرمین چودھری محمد افضل نے کہا کہ تمام صوبائی حکومت نے کلرکوں کے سکیل اَپ گریڈ کر دئیے ہیں مگر پنجاب حکومت اس صوبہ کے کلرکوں کے سکیل جان بوجھ کر اَپ گریڈ نہیں کر رہی بلکہ پنجاب حکومت کلرکوں سے سخت نفرت کے جذبات رکھتی ہے ۔ اس وقت دیگر تمام صوبوں سے پنجاب کے کلرکوں کے سکیلز کم ہونیکی وجہ سے تنخواہیں کم مل رہی ہیں۔ پنجاب کے کلرکوں کا دیرینہ اہم مطالبہ ہے کہ پے سکیل فوری اَپ گریڈ کیا جائے وگرنہ کلرکوں کی تحریک کا دائرہ کار وسیع کر دیا جائے گا اور اگر پنجاب حکومت نے اگلے 36 گھنٹوں کے اندر ایپکا کے چارٹر آف ڈیمانڈ پر عملدرآمد نہکیا تو پر 14 مئی سے صوبے بھر کے سرکاری ملازمین سڑکوں پر نکل آئیں گے اور پھر حکومت سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے اور دما دما مست قلندر ہو گا۔ اس موقع پر ایپکا کے صوبائی صدر محمد سلطان مجددی نے کہا کہ کل 14 مئی کو لاہور سمیت پنجاب بھر کے سرکاری محکموں کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا۔ دفاتر میں افسران کو بھی گھسنے نہیں دیا جائے گا اور صوبے بھر کے ملازمین ناصر باغ جمع ہوں گے اور وہاں سے پنجاب اسمبلی تک احتجاجی ریلی نکالی جائے گی۔ پنجاب اسمبلی کے سامنے دو گھنٹے تک احتجاجی دھرنا دیا جائے گا اور اس کے بعد ایوان وزیر اعلیٰ تک احتجاجی ریلی نکالی جائے گی جس کے بعد ایوان وزیر اعلیٰ کا گھیراؤ کیا جائے گا اور چارٹر آف ڈیمانڈ پر عملدرآمد اورنوٹیفکیشن تک ایوان وزیراعلیٰ کے سامنے احتجاجی دھرنا جاری رکھا جائے گا۔ اس موقع پر ایپکا کے صوبائی رہنما خواجہ عثمان غنی نے کہا کہ حکومت نے سرکاری ملازمین کے مطالبات کو نظر انداز کیا تو اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا جس میں اسلام آباد میں پارلیمانٹ ہاؤس کا گھیراؤ کیا جائے گا اور مطالبات کی منظوری تک پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ڈے اینڈ نائٹ احتجاجی دھرنا دیا جائے گا۔ اس موقع پر ایپکا کے صوبائی عہدیدار محمد ندیم چغتائی نیکہا کہ پنجاب حکومت سرکاری ملازمین کے گریڈ ایک تا 16 کا استحصال فوری طورپر بندکرے ۔ کل 14 مئی 2015ء سے قبل ملازمین کے بنیادی مطالبات کلریکل سٹاف کی اَپ گریڈیشن، گروپ انشورنس بوقت ریٹائرمنٹ، نیولنٹ فنڈ بوقت ریٹائرمنٹ کی مد میں منظوری کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ عدالتی احکامات کے باوجود حکومت پنجاب مذاکرات کی آڑ میں غیر آئینی، غیر قانونی طریقہ اپنائے ہوئے ہے۔ اب ایپکا رہنماؤں سے مذاکرات کا ٹوپی ڈرامہ بند کرے اور سنجیدگی سے ملازمین کے مسائل حل کریں۔ پارلیمینٹ ہاؤس اور صوبائی اسمبلیوں کے سامنے صوبائی حکومت کے خلاف بھوک ہڑتالی کیمپ لگائے جائیں گے اور ظالم حکمرانوں کے خلاف الٹے ہاتھ سے دعائیں کی جائیں گی اور آنے والے بلدیاتی اور جنرل الیکشن میں سرکاری ملازمین اپنا ووٹ کا حق استعمال نہیں کریں گے۔ اس موقع پر ممتاز کھوکھر نے کہا کہ حکمرانوں نے الیکشن کے موقع پر سرکاری ملازمین کو ان کے جائز حقوق کی بحالی کااعلان کیا تھا۔ حکمرانوں کو سرکاری ملازمین نے بھی ووٹ دئیے ، لیکن افسوس کہ حکمرانوں نے سرکاری ملازمین کو مسلسل نظرانداز کررکھا ہے ۔ حکومت سرکاری ملازمین کی ترقی ٹائم سکیلوں کے مطابق کرے وگرنہ سرکاری ملازمین سڑکوں پر ماتم کریں گے اور پھر دما دم مست قلندر ہو گا ۔ اس موقع پر قاضی محمد طیب اور چودھری عبداللہ نے کہا کہ حکومت میرج گرانٹ تین لاکھ کرے اور ڈیتھ گرانٹ 5 لاکھ کرنے کا اعلان کرے اور آئندہ بجٹ کی تیاری میں سرکاری ملازمین کے نمائندوں سے مشاورت کی جائے۔ اس موقع پر عبدالشکور ، عمران خان اور مشتاق احمد گجر نے کہا کہ حکومت آئندہ بجٹ میں تمام ملازمین کو کم سے کم تین مرلہ کا پلاٹس الاٹ کئے جائیں۔ گھر دینے کا وعدہ حکومت نے کیا تھا جو تاحال پورا نہیں کیا ۔ ڈینگی کے ملازمین کو ریگولر کیا جائے۔ پولیو اور ڈینگی میں سیاسی مداخلت کو ختم کیاجائے جو کہ عرصہ دراز سے پولیو کی مہم میں دس سال سے کام کر رہے ہیں ان کو کنٹریکٹ دیا جائے نہ کہ سیاسی مداخلت پر بھرتی کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ڈینگی کی بھرتی میں سیاسی مداخلت فوراً ختم کی جائے اور وہ پرائیویٹ ورکر جو عرصہ دراز سے ڈینگی اور پولیو مہم میں کام کر رہے ہیں ان کا غریب ورکرز کو ان کا حق دیا جائے اور ایسے پرائیوٹ ورکر جو عرصہ پانچ یا دس سال سے پولیو مہم میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں ان کو عمر کی مد میں رعایت دی جائے۔ ایپکا فورم

مزید : علاقائی