وزیراعظم اور آرمی چیف کا دوۂ کابل ‘ افغانستان میں عدم استحکام کی کوشش سختی سے کچل دینگے ‘ نوازشریف

وزیراعظم اور آرمی چیف کا دوۂ کابل ‘ افغانستان میں عدم استحکام کی کوشش سختی ...

 کابل(مانیٹرنگ ڈیسک+آئی این پی +اے این این) پاکستان اورافغانستان نے دفاع ،سلامتی، تجارت ، سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے اور علاقائی رابطوں کو مربوط بنانے کیلئے بین الملکی توانائی کے منصوبوں پر کام تیز کرنے پراتفاق کیاہے اور دہشت گردی سے مل کرنمٹنے ،اپنی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے اور ایک دوسرے کے معاملات میں عدم مداخلت کی پالیسی پر عمل پیرا رہنے کے عزم کااعادہ کیا ہے جبکہ پاکستان نے برادرہمسایہ ملک کوایک بارپھرطالبان کے ساتھ مفاہمتی عمل میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ تفصیل کے مطابق منگل کووزیراعظم نوازشریف نے اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ افغانستان کاایک روزہ دوہ کیا۔وفدمیں وزیر خزانہ اسحق ڈار،مشیرخارجہ سرتاج عزیز،خارجہ امورکے بارے میں وزیراعظم کے معاون خصوصی سیدطارق فاطمی ،سیکرٹری خارجہ اعزازاحمدچودھری، آرمی چیف جنرل راحیل شریف ، ڈی جی آئی ایس آئی ،چیف آف جنرل اسٹاف اور دیگر فوجی حکام شامل تھے۔ وزیراعظم نوازشریف نے افغان صدراشرف غنی سے پہلے معاونین کے بغیر ملاقات کی جس کے بعددونوں ملکوں کے درمیان وفودکی سطح پر بات چیت ہوئی جس میں علاقائی صورتحال اوردوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوزیرغور آئے۔ نوازشریف نے پاکستانی وفد جبکہ اشرف غنی نے افغان نمائندوں کی قیادت کی۔ مذاکرات کے بعدافغان صدرکے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ میں بہترین مہمان داری اور شاندار استقبال پر افغان حکومت کا شکر گزار ہوں ۔ میں افغانستان کو اپنا دوسرا گھرسمجھتا ہوں، یہاںآکر ہمیشہ مجھے خوشی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ افغانستان کیلئے ہمارے دلوں میں خصوصی جگہ ہے ، ہم دوست اور بھائی ہیں ۔ دونوں ملکوں نے ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے آج بھی لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان میں قیام پذیر ہیں۔ انہوں نے کہاکہ دہشت گردی اور انتہاپسندی دونوں ملکوں کیلئے مشترکہ چیلنج ہیں۔ دہشت گردی کے خاتمے کے بغیر خطے میں امن و استحکام کا قیام ممکن نہیں ،مجھے یقین ہے کہ ہم مل کر دہشت گردی کا خاتمہ کردینگے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان افغانستان کیساتھ مل کر کام کرنے کیلئے پرعزم ہے،ہم افغانستان کیساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان کے دشمن کبھی پاکستان کے دوست نہیں ہوسکتے ، ہمارے دوست اوردشمن مشترکہ ہیں۔پاکستان افغانوں پر مشتمل مفاہمتی عمل کی حمایت کرتا ہے ، افغانوں پر مشتمل مفاہمتی عمل کے بغیر پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔ہم افغان طالبان کی طرف سے ’’ آپریشن عزم‘‘ اور تشدد کے واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ایسے اقدامات کو دہشت گردی تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ جہاں کہیں بھی دہشت گردوں کی خفیہ پناہ گاہیں ہونگی ان کا خاتمہ کیا جائے گا، کسی بھی شدت پسند گروپ کی طرف سے افغانستان میں عدم استحکام کی کوشش کو سختی سے کچلیں گے اور ایسے عناصر کا پیچھا کرکے ان کا خاتمہ کیا جائے گا۔ پاکستان اور افغانستان اپنی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں ہونے دینگے۔ پرامن اور مستحکم افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے۔ ہم ا فغانستان کے ساتھ دفاع اور سیکورٹی کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانا چاہتے ہیں ، عوام کی ترقی اور خوشحالی کیلئے مل کر کام کرینگے۔ ہم نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ دونوں ملک عدم مداخلت کی پالیسی پر عمل پیرا رہیں گے۔ افغان صدر اشرف غنی نے وزیراعظم نواز شریف کے دورے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہاکہ اس دورے سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعاون کے نئے باب کا آغاز ہوگا۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تلخیوں کا دور ختم ہوچکا ،اب ہم دوست ہیں اور مل کر کام کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی نے پاکستان اور افغانستان کو بہت نقصان پہنچایا ہے ۔ دہشت گرد ہمارے مشترکہ دشمن ہیں، ہمیں مل کر اس ناسور کا خاتمہ کرنا ہے، ہم مشترکہ چیلنجز سے مل کر نمٹیں گے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اور افغانستان کو ایک جیسے خطرات کا سامنا ہے دونوں ملکوں کودہشت گردی نے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ، مشترکہ خطرات کا مقابلہ بھی مل کر کرنا ہوگا۔ افغانستان کے دشمن پاکستان کے دشمن ہیں اسی طرح پاکستان کے دشمن افغانستان کے دشمن ہیں۔ پاکستان اورافغانستان خطے کے ا ہم ممالک ہیں جن پرجنگ مسلط کی گئی ۔ ملاقات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان اور افغانستان نے دفاع اور سیکورٹی کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے سمیت اہم امور پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ملک عدم مداخلت کی پالیسی پر عمل پیرا رہیں گے ۔دونوں ملکوں نے تجارت ، سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کا جائزہ لیا گیا ہے اور اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ علاقائی رابطوں کو مربوط بنانے کیلئے بین الملکی توانائی کے منصوبوں پر کام تیز کیا جائے گا۔افغان صدرنے وزیراعظم نوازشریف اوران کے وفد کے اعزازمیں ظہرانہ بھی دیا۔قبل ازیں وزیراعظم نواز شریف کے کابل پہنچنے پرافغان وزیرخارجہ صلاح الدین اور وزیرخزانہ عمر زخیلوال نے ان کاشانداراستقبال کیاجس کے بعد وزیراعظم صدارتی محل پہنچے جہاں میزبان افغان صدر اشرف غنی نے نواز شریف کوخوش آمدید کہااور وزیراعظم نوازشریف کے اعزاز میں باضابطہ استقبالیہ دیا۔اس موقع پر افغان فوج نے وزیراعظم نواز شریف کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔تقریب میں دونوں ملکوں کے قومی ترانے بجائے گئے۔افغانستان میں مخلوط حکومت کے قیام کے بعد ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت کا ایک ساتھ کابل کا یہ پہلا دورہ ہے۔وزیراعظم نواز شریف نے افغانستان کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ سے بھی ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیالات کیاگیا۔ دونوں ملکوں نے مل کر آگے بڑھنے پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم نوازشریف کا افغان چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے سپاہ در قلعے کے دروازے پر استقبال کیا۔ وزیر اعظم اورآرمی چیف کے دورہ افغانستان کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے بھی ویب سائٹ پر بیان جاری کیاجس میں کہاگیاہے کہ پاکستان نے افغانستان کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے ، پاکستان افغان مصالحتی پالیسی کی مکمل حمایت کرتا ہے ، مفاہمتی پالیسی کو کامیاب بنانے کیلئے پاکستان تمام کوششیں کرے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ پاک افغان تعلقات کے تین رہ نما اصول طے کیے گئے ہیں۔ دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے ۔ دونوں ملک دہشت گردوں کو ایک دوسرے کی سرزمین استعمال نہیں کرنے دینگے۔ بیان میں کہا گیا کہ دہشت گرد پاکستان اور افغانستان کے مشترکہ دشمن ہیں ان سے مل کر نمٹا جائے گا۔ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے کی پالیسی پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔

راولپنڈی(اے این این) چیف آف آرمی جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ افغانستان کے دشمن پاکستان کے دشمن اور پاکستان کے دشمن افغانستان کے دشمن ہیں ۔میڈیارپورٹ میں آئی ایس پی آرکے حوالے سے کہاگیاکہ آرمی چیف نے ایف ڈبلیو او کو ایک ہفتے میں طور خم جلال آباد کیرج وے کی تعمیر شروع کرنے کی ہدایت کردی ہے۔پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کے دورہ افغانستان کے موقع پر جنرل راحیل شریف نے تعطل کے شکار طور خم جلال آباد کیرج وے منصوبے کو بحال کرکے اس پر تعمیراتی کام جلد شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔

مزید : صفحہ اول