ڈاکٹرعمران فاروق قتل کیس ،برطانیہ ملزموں کی حوالگی کیلئے پاکستان سے رابطہ، بدلے میں بلوچ علیحدگی پسند دیئے جائیں : پاکستانی حکام

ڈاکٹرعمران فاروق قتل کیس ،برطانیہ ملزموں کی حوالگی کیلئے پاکستان سے رابطہ، ...
ڈاکٹرعمران فاروق قتل کیس ،برطانیہ ملزموں کی حوالگی کیلئے پاکستان سے رابطہ، بدلے میں بلوچ علیحدگی پسند دیئے جائیں : پاکستانی حکام

  

لندن،اسلام آباد(ویب ڈیسک)برطانیہ نے ڈاکٹرعمران فاروق قتل کیس میں گرفتارملزموں کی حوالگی کیلئے پاکستان سے باقاعدہ رابطہ کرلیاجبکہ بدلے میں پاکستان نے برطانیہ میں مقیم بلوچ علیحدگی پسندرہنمامانگ لئے ،اگلے 48گھنٹوں میں اہم پیشرفت کاامکان ہے ،دریں اثناء دونوں ملکوں میں تحویل ملزمان کے معاہدہ کی تفصیلات بھی طے پاگئیں اورچندروزمیں باضابطہ اعلان ہوگا۔

مقامی اخبار روزنامہ دنیا کے مطابق برطانوی پولیس کے کاؤنٹر ٹیررازم کمانڈکے کمانڈررچرڈوالٹن کی زیرسربراہی اعلیٰ تفتیشی حکام کی ٹیم پاکستان پہنچی جس نے وزیرداخلہ چودھری نثارعلی خان اورحساس ادارے کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں جس دوران عمران فاروق قتل اورمنی لانڈرنگ کیس پرتفصیلی بات ہوئی جبکہ دونوں معاملات پرباہمی تعاون کاطریقہ کاربھی طے کیاگیا،ٹیم میں سکاٹ لینڈیارڈ،سیریس اینڈ آرگنائزڈ کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی اور نیشنل کرائم ایجنسی کے اعلیٰ افسرشامل ہیں جبکہ چودھری نثار کیساتھ2گھنٹے سے زائدطویل ملاقات میں برطانوی وفدنے ملزم معظم کی حوالگی پراصرارکیاتاہم وزیرداخلہ نے جواب دیاکہ حتمی فیصلہ وزیراعظم کرینگے.

ادھرپاکستانی حکام نے عمران فاروق قتل کیس میں ملوث3افرادمعظم علی خان،محسن علی سیداورمحمدکاشف خان کامران کے بدلے 3مطلوب بلوچ علیحدگی پسندرہنماحوالے کرنے کامطالبہ کیا،معلوم ہواکہ پاکستان کومطلوب ان افرادمیں سے ایک سیاسی پناہ لے کربرطانیہ میں مقیم ہے جبکہ دیگر2افرادپاسپورٹ پرسفرکرتے ہیں،تینوں بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث رہے اورانہیں بھارتی خفیہ ایجنسی’را‘کی مددحاصل ہے جبکہ ان کیخلاف ثبوت برطانوی حکام کے حوالے کئے جاچکے ہیں،ان میں براہمداغ بگٹی اورحربیارمری کے نام بھی شامل ہیں،انکے علاوہ بھی کئی بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کے سربراہ لندن میں مقیم ہیں جن میں خان آف قلات،گزین مری، جاوید مینگل، زامران مری اور بختیار ڈومکی وغیرہ قابل ذکرہیں.

مزیدبتایاگیاکہ برطانوی ٹیم نے عمران فاروق کیس میں گرفتارملزم معظم علی خان سے تفتیش بھی کی جس کی تفصیلات اور جے آئی ٹی کی رپورٹ بھی واپس برطانیہ بھجوادی گئی جبکہ برطانوی حکام نے تعاون پروزیراعظم نوازشریف اوروزیرداخلہ چودھری نثارکاشکریہ اداکیا،دوسری طرف ملزمان کی حوالگی سے متعلق پاک برطانیہ معاہدہ حتمی مراحل میں داخل ہوگیا.

ذرائع کے مطابق پاکستانی وزیراعظم کے حالیہ دورہ برطانیہ کے دوران نوازشریف اورڈیوڈ کیمرون کی ملاقات میں اس معاہدہ کی منظوری دی گئی تاہم برطانیہ میں انتخابات کی وجہ سے نئی حکومت کے قیام تک اعلان موخرکردیاگیا،کنزرویٹوپارٹی کی جیت اورڈیوڈکیمرون کے دوبارہ وزیراعظم بننے پر پیشرفت شروع ہوگئی اوربرطانیہ نے معاہدہ کوحتمی شکل دیدی جس کامسودہ چندروزمیں پاکستان کے حوالے اوررسمی اعلان بھی کردیاجائیگا۔

مزید : اسلام آباد